دسویں اور پی یو سی دوم امتحان میں بدعنوانی روکنے میں مدد کریگی سی آئی ڈی اور سائبر پولیس ;امسال ریاست بھر سے 7.27 لاکھ طلباءپی یو سی سال دوم اور69.8 لاکھ طلباء ایس ایس ایل سی کاامتحان دینگے : نا گیش

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔ ریاستی حکومت نے ایس ایس ایل سی اور پی یو سی امتحانات  کے دوران  گھپلے بازی اور بدعنوانی پر روک لگانے کے لئے سی آئی ڈی، پولیس انٹلی جنس اور سائبر پولیس کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاستی وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے بتایا کہ "محفوظ امتحانی نظام” منصوبے کے تحت امتحانات میں بدعنوانی روکنے کی غرض سے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے سوشیل میڈیا پر نگاہ رکھی جائے گی تاکہ امتحانات اور سوالیہ پرچوں سے متعلقہ پوسٹس کی نشاندہی ہو اور اس کی تہہ تک پہنچا جا سکے ۔ خیال رہے کہ امسال پی یو سی کے امتحانات 9 سے 29 مارچ تک منعقد ہونگے اور ایس ایس ایل سی کے امتحانات 31 مارچ تا 15 اپریل منعقد ہونگے ۔وزیر تعلیم کے مطابق کووڈ وباء کی وجہ سے گزشتہ امتحانات کے دوران کچھ چھوٹ دی گئی تھی ۔ مگر اس مرتبہ ہم پورے قوانین و ضوابط کے ساتھ امتحانات منعقد کریں گے اور اس کے لئے محکمہ پولیس کے مختلف شعبہ جات کی مدد لی جائے گی ۔ انہوں نے کہا : میں مانتا ہوں کہ پولیس کا محکمہ الیکشن کی وجہ سے زیادہ مصروف رہے گا، لیکن امتحانات کا انعقاد بھی اسی طرح اہم ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امسال سے پی یو کا سوالیہ پرچہ تین حصوں پر مشتمل ہوگا جس میں پہلا حصہ ملٹیپل چوائس والے سوالات پر مبنی ہوگا ۔ اس میں طالب علم  کی کامیابی کے لئے ضروری کم ازکم 30 تا 35 مارکس حاصل کرنے کی گنجائش ہے ۔ دوسرے حصے میں 60 فیصد تک مارکس حاصل کرنے کا موقع رہے گا اور تیسرا حصہ طالب علم کو 90 سے 100فیصد مارکس حاصل کرنے کا موقع دے گا ۔ اس کے علاوہ امتحانی مراکز پہلے کی طرح 5 منٹ قبل نہیں بلکہ اب امتحان کا وقت شروع ہونے سے 15 منٹ قبل کھول دئے جائیں گے تاکہ طالب علم اپنے آپ کو ذہنی طور پر امتحان ہال سے ہم آہنگ کر سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ امتحانی پرچے بار کوڈس کے ساتھ محفوظ رہیں گے ۔ انٹلی جنس کے افسران فوٹو کاپی کرنے والے سینٹروں، انٹرنیٹ کیفے ، جوئے بازی کے مراکز جیسے ٹھکانوں پر نظر رکھیں گے ۔ سائبر پولیس امتحان کے تعلق سے پوسٹ ہونے والے شرارتی مسیجس پر نظر رکھیں گی ۔ انہوں نے کہا : ” شرپسند کچھ ادھر ادھر کے سوالات ترتیب دے کر اسے اصلی امتحانی پرچہ کی شکل میں عام کر سکتے ہیں ۔ ایسے پیغامات اور پوسٹ کی تہہ تک پہنچ کر ان کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے گی ۔ وزیر تعلیم نے مزید بتایا کہ ان اقدامات کے علاوہ حکومت عادی مجرموں پر بھی نظر بنائے ہوئے ہے جنہیں انہیں احتیاطی حراست میں لیا جائے گا ۔ ماضی میں جن امتحانی مراکز میں پیپر لیک ہونے کے واقعات ہوچکے ہیں وہاں پر نگرانی سخت کردی جائیگی ۔ امتحانی مراکز میں کوئی بھی الیکٹرانک آلہ یا مشین لے جانے کی اجازت رہے گی ۔ طلبہ کو وقت بتانے کیلئے ہر کمرے میں وال کلاک لگائے جائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر جوابی پرچے کی دوبارہ جانچ کے بعد اگر ایک مارک کا بھی فرق آتا ہے تو اس کے مطابق امسال سے طالب علم کو نیا مارکس کارڈ جاری کیا جائیگا ۔ اس سے قبل پانچ چھ مارکس زیادہ حاصل کرنے کی صورت میں ہی نیا مارکس کارڈ جاری کیا جاتا تھا ۔ ریاستی وزیر برائے تعلیم بی سی ناگیش نے کہا ہے کہ 9 مارچ سے 15 اپریل تک منعقد ہونے والے ایس ایس ایل سی اور پی یوسی سال دوم کے اہم امتحانات کے ہموار انعقاد کے لیے تمام انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ناگیش نے کہا کہ کرناٹک بھر کے تمام امتحانی مراکز پر سخت پولیس موجود رہے گی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جائیگی۔امتحان کے دوران مرکز کے آس پاس کے تمام فوٹو کاپی (زیراکس )مراکز بند رہیں گے۔ سائبر سینٹرز، ٹیوشن سینٹرز اور گیمنگ سینٹرز کی بھی کڑی نگرانی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ جن امتحانی مراکز پر ماضی میں بے ضابطگیوں کی اطلاع ملی ان پر اضافی نظر رکھی جائیگی۔طلباء کو موبائل فون، سمارٹ واچز اور ائرفون سمیت الیکٹرانک آلات لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔طلباء امتحان سے 15 منٹ پہلے اپنے اپنے امتحانی ہال میں حاضر ہوں۔امسال ریاست بھر سے 727387 طلباء پی یو سی سال دوم کا امتحان دینگے جس کیلئے1109 امتحانی مراکز قائم کئے گئے ہیں،اسی طرح ریاست بھر سے869490 طلباءایس ایس ایل سی کا امتحان دینگے جس کیلئے جملہ 3307 مراکز پرقائم کئے گئے ہیں ۔