انٹرنیٹ پر بندش کے معاملے میں بھارت دنیا میں سرفہرست

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ڈیجیٹل حقوق کے لیے سرگرم ادارہ ایکسس ناو کے روز جاری اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومتیں انٹرنیٹ کی بندش کو اب اظہار کی آزادی اور حکومت کی نکتہ چینی پر روک لگانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔ گزشتہ برس 35 ملکوں میں وہاں کے حکام نے انٹرنیٹ پر کم ازکم 187مرتبہ بندش عائد کی جو کہ کسی ایک سال میں اب تک کی ریکارڈ بندش ہے۔نیویارک سے سرگرم ایکسس ناو نے رپورٹ میں کہا ہے کہ سن 2022 میں اکیلے بھارت نے ہی انٹرنیٹ پر 84 مرتبہ بندش لگائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے، "کشمیر میں سیاسی عدم استحکام اور تشدد کی وجہ سے حکام نے کم از کم 49 مرتبہ لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی روک دی۔ ان میں جنوری اور فروری 2022میں کرفیو کی طرح تین روزہ شٹ ڈاون کے دوران بندش کے یکے بعد دیگر 16 احکامات شامل ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے اسے مرکز کے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ حکومت اس کے بعد سے سکیورٹی اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے انٹرنیٹ پر اکثر بندشیں عائد کرتی رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی مسلسل نکتہ چینی کرتی رہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2017 کے بعد سے ہی بھارت انٹرنیٹ شٹ ڈاون کے معاملے میں پوری دنیا میں سب سے آگے رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق دفتر کی ترجمان لز تھروسیل کا کہنا تھا،”یہ انسانی حقوق کی ابتر ہوتی ہوئی صورت حال کے حوالے سے ایک بڑی تنبیہی علامت ہے۔ انٹرنیٹ شٹ ڈاون کو بالعموم عدم سلامتی اور دیگر پابندیوں کی بڑھتی ہوئی سطح سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ڈیجیٹل حقوق کے علمبردارفری سافٹ ویئر موومنٹ کے کارکن سرینواس کودالی کا کہنا تھا،”یہ جبر کی ہی ایک شکل ہے۔ حکومت عوام کو بتانا چاہتی ہے کہ یا تو آپ ہماری باتوں کو تسلیم کریں ورنہ آپ کو ایک معمول کی دنیا کے حصہ کے طور پر رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔دریں اثنا مبینہ طور پر شدت پسند ہندو جماعتوں سے تعلق رکھنے والے شرپسندوں کے ذریعہ گؤ کشی کے الزام میں ناصر اور جنید نامی دو افراد کو زندہ جلادینے کے واقعے کے بعد قومی دارالحکومت دہلی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہریانہ اور راجستھان کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ پر بندش عائد ہے۔راجستھان حکومت نے بھرت پور ضلع میں "امن و قانون کی صورت حال برقراررکھنے” کے لیے منگل کے روز سے اگلے 48 گھنٹے تک کے لیے انٹرنیٹ پر بندش عائد کردی ہے۔ ہریانہ کے مسلم اکثریتی نوح ضلعے میں بھی انٹرنیٹ پر بندش جاری ہے۔