بنگلورو:۔کرناٹک اردو اکادمی کے اشتراک سے بزمِ غالب اور نیا ادب کے زیر اہتمام بروز ہفتہ 18 مارچ 2023 بمقام الیانس فرانسے، تمیا روڈ، وسنت نگر، بنگلورو میں دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ’’ہندوستانی روایات اور تصوف ‘‘ پر دو روزہ قومی سیمینار کا آغاز شمع روشن کر کے ہوئی۔ اس کی افتتاح و صدارت ڈاکٹر اجئے کمار سنگھ، وظیفہ یاب آئی پی یس عمل میں آیا۔ جناب جئے رام رائے پورہ، آئی آر ایس، سکریٹری برائے وزیر اعلیٰ اور جناب منوز جین ، آئی اے یس، سکریٹری، محکمہ اقلیتی بہبود، حکومتِ کرناٹک بطور مہمانانِ خصوصی شریک رہے۔ اس موقع پر صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ ہمیں آپس میں بھائی چارگی کو فروغ دینا ہے تو اس طرح کی کتابوں کا ترجمہ کرنا ضروری ہے تاکہ اس سے ایک دوسرے کی تہذیب و تمدن سے آگاہی ہو۔ اس کی وجہ سے ہمارا ملک تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہو۔ ‘‘جناب جئے رام پورہ نے فرمایا کہ ’’ معمارِ بنگلورو جناب ناڈا پربھو کمپے گوڈا جی نے بنگلورو شہر کو بسانے کا خواب دیکھا اور ایک حسین اور خوبصورت شہر تعمیر کیا جس کی وجہ سے آج ہم تمام یہاں آباد ہیں اور یہ شہر پوری دنیا میں اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ اس شہر کو گلسانِ ہندوستان بھی کہا جاتا ہے۔ ‘‘ اسی طرح جناب منوز جین صاحب نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ’’ہندوستان میں زیادہ گیان پیٹھ ایواڑ پانے والوں میں ریاستِ کرناٹک کے مصنفین کی تعداد زیادہ ہے۔ آج اکادمی سے اجراء قلمکاروں کی ڈائرکٹری سے تمام قلمکاروں کو آپس میں جڑنے اور جانکاری میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ اس سے آپسی تعلقات بہتر سے بہتر ہو سکتے ہیں۔ ‘‘ اسی طرح آگے فرمایا کہ ’’ اردو، کنڑا اور ہندی ادب کا ترجمہ ایک دوسرے زبان میں ہونے سے ہمیں ایک دوسرے کی تہذیب اور ادب کی جانکاری ہوتی ہے۔ جو کہ ادب کے فروغ کے لئے بہت ہی ضروری ہے ‘‘۔ ڈاکٹر معاذالدین خان، رجسٹرار، کرناٹک اردو اکادمی نے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ سال ہم ٓزادی کا امرت مہاتسو منارہے ہیں جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے۔ ہمارے ملک کے آئین میں بھائی چارہ کو فروغ دینا ہے کہ ہر فرد کی اعظمت باقی رہے اور ساتھ ساتھ ملک کی یکجہتی اور سلامیت بھی باقی رہے۔ ‘‘ آگے فرمایا کہ ’’ اردو زبان نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اسی زبان کی وجہ سے ملک میں آپسی بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کو فروغ ملا ہے۔ ‘‘ اس موقع پر کرناٹک اردو کی جانب سے شائع کردہ دو کتابوں کا رسمِ اجراء عمل میں آیا۔ جس میں پہلی کتاب شری جئے رام رائے پور ہ کی کنڑا ڈرامہ ’’ سریگے سیرے‘‘ کا اردو ترجمہ ڈاکٹر ماہر منصور نے کیا ہے اور دوسری کتاب ’’کرناٹک کے اردو قلمکاروں کی ڈائرکٹری ‘‘ جس میں ریاستِ کرناٹک کے اردو اَدباء ، شعراء اور صحافیوں کے تعَارُف شامل ہیں ۔ اس کتاب کو ڈاکٹر انیس صدیقی نے ترتیب دیا ہے۔ پروگرام کی نظامت جناب اعظم شاہد نے بحسنِ خوبی انجام دی ۔ ڈاکٹر معاذالدین خان ، رجسٹرار کرناٹک اردو اکادمی نے آئے ہوئے تمام مہمانا ن کے علاوہ بزمِ غالب اور نیا ادب کے ذمہ داران اور دیگر موجود تمام شرکاء و اردو میڈیا کا شکریہ ادا کیا ۔
