بھٹکل:۔ بھٹکل کے عبدالواحد سدی باپاجن کو ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کا ممبرہونے اور ملک میں 2007 کے بعد سے رونما ہونے والے بم دھماکوں کی سازش رچنے کے الزامات کے تحت گرفتارکیا گیا تھا، آج جمعہ کو پٹیالہ ہاوس کورٹ نے تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے رہاکرنے کا حکم دیا ہے۔ عبدالواحد کے وکیل ایم ایس خان نے بتایا کہ عبدالواحد پیر کو جیل سے باہر آئیں گے۔ ایم ایس خان نے بتایا کہ عدالت نے چارج فریم پر بحث کے بعد ملزم عبدالواحید سدی باپا کے ساتھ ساتھ دو دیگر ملزمین اریز خان اور منظر امام کو بھی مقدمہ سے ڈسچارج کردیا ہے۔ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے تین لوگوں کی رہائی کے احکامات جاری ہونے پر پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آٹھ سال قبل ملزمین کو جن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا آج اسے عدالت نے قبول کرنے سے ہی انکار کردیا اور مقدمہ سے ڈسچارج کردیا یعنی عدالت نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ چلایا ہی نہیں جاسکتا۔عبدالواحد سدی باپا کو 20/ مئی 2016 کو قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے نئی دہلی اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائیر پورٹ سے گرفتار کرنے کی بات کہی تھی این آئی اے نے عبدالواحید پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ انڈین مجاہدین تنظیم کے چیف یاسین بھٹکل کا قریبی رشتہ دار ہے اور وہ دبئی میں رہتے ہوئے انڈین مجاہدین نامی تنظیم سے جڑنے کے لئے لوگوں کو آمادہ کرتا تھا۔ عبدالواحد پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ دبئی میں فنڈ جمع کیا کرتا تھا جس کا استعمال ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے کیا جاتا تھا۔عبدالواحد سدی باپا کی رہائی کے تعلق سے بھٹکل میں ان کے گھروالوں سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
