بنگلور:۔سینئرسابق بی جے پی وزیر، ماہرین تعلیم ونامور مصنف پروفیسرممتاز علی خان (94) کا آج یہاں کے گنگانگر میںاپنے مکان میں انتقال کرگئے ہیں ۔ (اناللہ واناالیہ راجعون)، ان کے لواحقین میں ایک بیٹی ،بیوی اوربے شمار رشتہ دار دوست واحباب شامل ہیں۔ چکبلاپور کے مقامی ممتازعلی خان نے اپنی تعلیمی زندگی چکبلاپور میں ہی مکمل کی تھی۔ بعدازاں انہوں نے بنگلور کے اگریکلچر یونیورسٹی میںبطور لکچرر اپنی ملازمت کی شروعات کی۔ سال 1982 میں انہوں نے والنٹری ریٹائرنمنٹ لیتے ہوئے بعدازاں آر ٹی نگرمیں ذاتی طور پر نجی پرائمری وہائی اسکول قائم کیا۔ اس اسکول کی بھی ایک منفرد خاصیت یہ تھی کہ ایک نجی ادارہ ہونے کے باوجود اس اسکول میں تمام بچوں کو مکمل مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ اتناہی نہیں دوپہر کا کھانہ، کتابیں یونیوفارم وغیرہ مفت فراہم کرتے ہوئے غریب بچوں کو خاص طور پر اہمیت دینے کا کام ہوتا تھا۔دراصل پروفیسر ممتاز علی خان نے یہ اسکول اپنے مرحوم بیٹے کی یاد میں قائم کیا تھا، جہاں نہ صرف غریب بچوں کو تعلیم وتربیت کا درس دیا جاتا تھا بلکہ ان غریبوں کی بھوک بھی مٹائی جاتی تھی۔ ممتاز علی خان کی بیوی بھی بطور میر معلمہ اس اسکول میں اپنی خدمت انجام دی ہیں۔ بعدازاں سال 2008 میں بی یس یڈیورپا کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے شعبہ اقلیت میں انہیں وزیربرائے حج اوراوقاف بننے کا موقع ملا۔ یہاں بھی پروفیسر ممتا زعلی خان نےاپنے بہترین کردار واخلاق کے ساتھ نہایت سادگی ، شفافیت وایمانداری کے ساتھ قوم کی خدمت کی ہے۔ انہیں کے اختیارات میں محکمہ پسماندہ طبقات سے محکمہ اقلیتی بہبودی کو علیحدہ مقام حاصل ہواتھا اور محکمہ اقلیت کے تحت اقلیتوں کیلئےعلیحدہ بجٹ مختص کرنے کا موقع ملا ہے۔بطور وزیر کی حیثیت سے بھی انہوں نے اقلیتوں کی بہبودی وترقی میں پوری ایمانداری سے خدمات انجام دئےہیں۔ ممتازعلی خان کے انتقال پر وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا سمیت اسپیکر بسوراج ، وشویشریا، بسوراج بمائی سمیت کئی وزراء نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
