اس وقت بھارت میں کوروناکی دوسری لہر چل رہی ہے اور ممکنہ طو رپر تیسری لہر کاآغاز اگلے تین چار مہینوں میں ہوجائیگا۔اس دوران ماہرین کا کہنا تھاکہ کورونا سے بچنے کیلئے ماسک لگاناسائناٹیزر لگانا اور باہمی دوری یعنی ڈسٹنس اختیارکرنا بے حد ضروری ہے لیکن اب ماہرین کا کہناہے کہ اگلی وباء سے بچنے کیلئے ویکسین لگانا ضروری ہے۔ماہرین کی اس سفارش کے بعد لوگوں میں ویکسین لینے کے تعلق سے بیداری آئی ہے اندازے کے مطابق اس وقت بھارت میں20 کروڑ لوگوں نے ویکسینیشن کروایاہے اور امکان ہے کہ جون کے آخرتک 30کروڑبھارت کے شہری ویکسین لگوانے میں کامیاب ہوجائینگے۔لیکن ہمیشہ کی طرح اس باربھی بھارت کے مسلمانوں کا بڑاحصہ احمقانہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ یعنی (آر این ٹی) میں لگا ہواہے۔کئی خودساختہ دانشور مسلمانوں کا کہناہےکہ ویکسین لگوانانہیں چاہیے،یہ آر ایس ایس کی چال،کچھ لوگوں کاکہناہے کہ ویکسین نہیں لگواناچاہیے،اس سے نامردی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں،کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ ویکسین لگوانے سےبانجھ پن کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں تو کچھ اتنے ایکسپرٹ ہیں کہ ویکسین لگوانے سے ڈی این اے تبدیل ہونے کی بات کررہے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جو مسلمان ڈھنگ سے ویکسین نیشن کے ہجے بھی نہیں لکھ سکتے اور ویکسین نیشن کے تعلق سے اے بی سی ڈی تک نہیں جانتے انہیں یہ سب چیزیں کہاں سے مل رہی ہیں؟جب وقت رہتاہے اُس وقت فائدہ نہیں اٹھایاجاتااور جب مشکل گھڑی آپڑتی ہے تویہ کہاجاتاہے کہ حکومت مسلمانوں کے ساتھ تعصب وغیر منصفانہ رویہ اختیارکررہی ہے۔اب حال ہی کی بات لے لیں تو کوروناکی دوسری لہرمیں جب مسلم مریضوں کو اسپتال میں علاج کی سہولت نہیں ملتی ہے اور وہ فوت ہوجاتے ہیں تو یہ کہاجاتاہے کہ دیکھو مسلمانوں کواسپتال میں اڈمیشن نہیں لیاجارہا،دیکھو مسلمانوں کو برابرعلاج نہ کرنے کی وجہ سےوہ مررہے ہیں۔لیکن ٹیکنیکل پوائنٹ یہ ہے کہ مسلمان اکثر وقت رہتے اسپتال نہیں جاتے اور نہ ہی علاج کروانا اہم سمجھتے ہیں۔اب بھی ملک کے مسلمانوں کابڑا حصہ کوروناکے وجودکو ہی نہیں مانتااور کہتاہے کہ یہ سب سازش ہے اور مسلمانوں کو ڈرا کررکھنے کی حکمت ہے۔لیکن بے وقوف یہ نہیں جانتے کہ جتنے مسلمان مررہے ہیں اُس سے کہیں زیادہ غیر مسلمان بھی مررہے ہیں۔لیکن جن مسلمانوں کو اپنوں کے سوائے کسی اور خبر نہیں انہیں کیسے اندازہ لگے کہ شمشان میں کتنی لاشوں کو آگ لگائی جارہی ہے۔ایک دفعہ کسی راجانے اچانک40-30 سال کے 100نوجوانوں کو جیل میں بھردیا۔ان100 نوجوانوں کے ساتھ راجانے مزید5گدھوں کو بھی جیل میں بھردیا۔جو100 نوجوان تھےنہ تو اُن کا کوئی قصورتھا،نہ5/گدھوں کا،جیسے 5گدھے جیل میں داخل ہوئے تو سب نوجوان یہ سوچنے لگے کہ آخر ان گدھوں کا کیا قصورجو راجانے انہیں جیل میں بندکردیا۔نوجوانوں نے اپنے قصورکے تعلق سے تو نہیں سوچا،البتہ گدھوں کے تعلق سے سوچنے لگے،یہی حالت آج مسلمانوں کی ہےجو اپنی حالت پر توغورنہیں کررہے لیکن دوسروں کی حالت کے تعلق سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔اگرمسلمان کوروناکی تیسری لہر آنے سے پہلے ویکسین نیشن نہیں کرواتے ہیں تو انہیں آنے والے دنوں میں بہت بڑے پیمانے پر نقصان اٹھاناپڑیگا۔غورطلب بات یہ بھی ہے کہ ویکسین نیشن سے کنارہ کشی کرنے والے لوگوں کی فہرست میں صرف نہ بلد،انپڑھ وگوارہی نہیں بلکہ اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی جاہلانہ سوچ رکھتے ہوئے ویکسین نیشن سے دورہوتے جارہے ہیں۔آج بھارت میں ہر قوم کے لوگ ویکسین لینے کیلئے آگے دوڑ رہے ہیں،سوائے مسلمانوں کے۔مسلمان اگر یہ سوچتے ہیں کہ کوروناکی ویکسین غلط ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ خود ان مہلک بیماریوں سے بچنے کیلئے کوئی ٹیکہ یا دوائی بناکر اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوائیں۔خود تو کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،دوسروں کی بنائی ہوئی سہولیات کا استفادہ کرنابھی ان کیلئے ممکن نہیں ہوپارہاہے۔سماج کے ہر طبقے کو چاہیے کہ وہ ویکسین نیشن کیلئے آگے آئیں۔
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327

