بی جے پی حکومت نے فرقہ وارانہ تشدد، ہیٹ اسپیج کے385 مقدمےواپس لئے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے اپنے 4 سالہ دوراقتدارمیں 385فوجداری کیسس میں قانونی کاروائی ترک کرنے 7 علحدہ احکام جاری کئے۔ان مقدمات میں نفرت بھڑکانے والی تقاریر، گاؤرکھشااور فرقہ وارانہ تشددکے182کیسس شامل ہیں۔ اخباردی انڈین ایکسپریس کی جانب سے داخل کی گئی آرٹی آئی درخواست کے جواب میں ریاستی محکمہ داخلہ نے یہ اعدادوشمار ظاہر کئے۔7 حکمنامے11 فروری2020 جب بی ایس یدیورپا چیف منسٹرکے عہدہ پراوربسواراج بومئی وزیرداخلہ کے عہدہ پر فائزتھے۔آرٹی آئی کے جواب سے ظاہر ہوتاہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے بیشتر واقعات جن میں حکومت نے قانونی کاروائی سے دستبرداری اختیارکی ہے ان سے زائد ازایک ہزار ملزمین کوفائدہ پہونچا۔ ان میں ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ اورایک رکن اسمبلی بھی شامل ہے۔دستبرداری کے عمل کیلئے وزیر داخلہ کی جانب سے سفارش اورریاستی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے منظوری اورکابینی منظوری درکارہوتی ہے۔ 182کیس میں زیادہ تر2013اور 2018میں کانگریس دورحکومت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اتفاقاً2013اور 2018 کے دوران کرناٹک کی کانگریس حکومت نے ایس ڈی پی آئی اورموجودہ طور پر ممنوعہ پی ایف آئی کے کارکنوں کے خلاف 176کیس واپس لینے کاحکم دیاتھا۔بی جے پی نے اس پر شدید اعتراض کیاتھا۔