ریاست کے 11ہزار500مساجد اور2ہزار سے زائد مدارس کے علماء نے مالی امدادکیلئے دی ہیں عرضیاں،لیکن کیا3ہزار سے زندگی ممکن ہے؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

بنگلورو/شیموگہ:۔کرناٹکا حکومت کی جانب سے امسال کوویڈکی دوسری لہرکے دوران نافذکئے گئے لاک ڈائون سےمالی مشکلات کا سامنا کررہے مدارس ومساجدکے علماء کو راحت دینے کیلئے3-3 ہزار روپئے دینے کا فیصلہ کیاگیاہے،جس کے مطابق ریاست کے جملہ11561مساجد کے امام اور موذن ،جبکہ2067 مدارس ومکاتب کے معلمین و غیر تدریسی عملے نے حکومت سے مالی امدادحاصل کرنے کیلئے عرضیاں دی ہیں۔ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبودی واقاف کی جانب سے کرناٹکاحکومت کو ان عرضی گذاروں کی تفصیلات دی گئی ہیں ۔ اندازے کے مطابق ریاست کے 11561 مساجدکے 1368امام اور موذنین نے عرضیاں دی ہیں،جبکہ مدرسوں میں خدمات انجام دینے والے5080 معلمین نےعرضیاں دی ہیں۔ان تمام کومالی امداددینے کیلئے حکومت سے46.8 کروڑ روپئے طلب کئے گئے ہیں جبکہ مساجدکیلئے93.6کروڑ روپیوں کی مالی امداد مانگی گئی ہے۔اس سفارش پر غورکرنے کےبعد ریاستی حکومت عنقریب علماء،معلمین اور عملے کے بینک کھاتوں پر راست طور پر رقم جاری کریگی۔دریں اثناءیہ سوال بھی پیدا ہورہاہے کہ مالی بدحالیوں کا شکارعلماء،اساتذہ اورعملے کو دئیے جانے والے 3 ہزار روپئے کیا زندگی بسرکرنے کیلئے کافی ہیں؟۔عام طو رپر مساجدکے امام و موذنین کو تنخواہیں مل رہی ہیں اور وہ کچھ حد تک مطمئن ہیں۔مگر سب سے بڑا مسئلہ مدارس کے علماء ومعلمین وغیر تدریسی عملہ ہے ،جنہیں نہ تو تنخواہ مل رہی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی پُرسان حال ہے،باوجود اس کےانہیں کسی بھی طرح کی مالی امداد دستیاب نہیں ہورہی ہے۔حالانکہ کرناٹکا وقف بورڈکے پاس ایسے علماء و اساتذہ کو مالی امداد دینے کی گنجائش ہے،مگروقف بورڈ اپنے روایتی پراوجیکٹس کو لیکرہی کام کررہا ہے۔کئی علماء کوویڈکی وجہ سے بیمار بھی ہوئے ہیں،ان بیمارعلماء کے علاج کیلئے نہ تو حکومتی امداد حاصل ہوئی ہے اور نہ ہی وقف بورڈکی طرف سے کوئی سہولت ملی ہے،بلکہ گلی محلوں میں ان علماء کیلئے چندہ پٹی کرنے کی باتیں بھی سامنے آرہی ہے۔ریاستی حکومت وقف بورڈ کو چاہیے کہ وہ 3 ہزار روپئے جیسی معمولی رقم دیکر علماء کی توہین کرنے کے بجائے کچھ رقم وقف بورڈ سے بھی ملاکر تقسیم کریں۔ساتھ ہی ساتھ مقامی ملی وسماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ مستحق وضرورتمند علماء کی ضرورت کو پوراکرنے کیلئے لائحہ عمل تیارکریں۔موجودہ حالات میں جو ضرورتیں علماءکی ہیں انہیں پوراکرنے کے بجائے گنگاجمنا تہذیب کے نام پر جو حقیر کھیل کھیلاجارہاہے اُسے بند کیاجائےاوروہ تنظیمیں جو علماء کے نام پر قائم ہوئی ہیں،ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ علماء کیلئے اپنی تجوریوں کے دروازے کھولے اور جو چندے علماء تنظیموں کے نام پر لئے گئے ہیں،اُن چندوں کے مستحق سب سے پہلےعلماء ہیں،انہیں میں سے یہ چندے تقسیم کئے جائیں۔