شیموگہ:۔مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں،ہرشامعاملے کے بعد مسلم نوجوانوں کے لواحقین کی مجبوریاں،شہرمیں ہونےوالے انکائونٹرس،شوٹ آئوٹس جیسے معاملوں پر کل تک جو مسلم نمائندے خاموش تھے اور ان معاملات پر کچھ بھی کہنے سے کترارہے تھے آج وہ اچانک اپنی قیادت کا ڈنکا بجانے کی خاطر میدان میں کودپڑے ہیں اور اپنے اپنے تنظیموں واداروں کو لیکر حالاتِ حاضرہ پر بات کرنے کیلئے نشستوں کا انعقاد کررہے ہیں،جس سے مسلمانوں میں یہ سوال اٹھ رہاہے کہ آخر الیکشن کو لیکرجو گہماگہمی ہے اس پیار کو کیا نام دیاجائے؟۔عام مسلمانوں میں قائدین کے طریقہ کارکولیکر کئی طرح کے سوالات اُٹھ رہے ہیں،جس کے جوابات عوامی طورپر تو نہیں آرہے ہیں،البتہ آپسی طورپر خودہی دے رہے ہیں۔شیموگہ سیاسی اعتبارسے نہایت حساس ہے اور ہر بار ایشورپا کا خوف لوگوں کو دکھایاجارہاتھا،اس دفعہ اب نیا چہرہ خوف دکھانے کیلئے آج چکاہے اور اسی خوف کے مارے مسلمان اپنے روایتی بیانات کو جاری کرتے ہوئے مناسب فیصلے لینے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔حالانکہ اب بھی الیکشن کیلئے وقت ہے،لیکن جس طرح سے خوف کا ماحول پیداکیاجارہاہےاُس سے مسلمانوں کے اپنے وجودپر ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
