کرناٹک میں اسمبلی انتخابات الیکشن کمیشن کرارہا ہے یا بی جے پی؟ سدارامیا

اسٹیٹ نیوز
بنگلورو:۔ ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سابق وزیر اعلیٰ کانگریس لیڈر سدارامیا نے ریاست میں الیکشن کمیشن سے سوال کیا ہے کہ کرناٹک  میں اسمبلی انتخابات الیکشن کمیشن کی نگرانی میں چلائے جارہے ہیں، یا پھر بی جے پی کی کمیشن کی نگرانی میں چلائے جارہا ہےہیں ؟سدارامیا نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کے اہم لیڈر اور عہدیدار یہ فیصلہ لے رہے ہیں کہ ریاست میں کونسے پولنگ بوتھ اور اسمبلی حلقہ کو حساس اور کونسے پولنگ بوتھ کوبہت زیادہ حساس قرار دیا جائے، انہوں نے پوچھا کہ  کیاکیا الیکشن کمیشن بی جے پی کے اشاروں پر بوتھوں کو بی جے پی حامی اور مخالف کی بنیاد پر حساس بوتھس قرار دینے کی کوشش کررہی ہے۔بی جے پی کے اشارے پر جو بوتھ بی جے پی کے حامی ووٹروں سے کم ہیں، ایسے بوتھوں پر سکیورٹی کے نام پر سی آر پی ایف کی ٹکڑیوں کو ڈیوٹی پر لگا کر ووٹروں کو ڈرانے اور انہیں پولنگ سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، سدارامیا نے سوال کیا  کہ کیا یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کی نہیں ہے کہ وہ پولنگ بوتھوں کی ویب اسکیاننگ اور ویڈیو ریکارڈنگ کروائے مگر یہ ذمہ داری کسی سیاسی پارٹی کو کروانے کی اجازت کس بنیاد پر دی جارہی ہے، اور کسی نے انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہے۔سدرامیا کے مطابق مرکزی وزیر شوبھا کرندلاجے نے جو مرکزی حکومت کو خط لکھا ہے،  اس سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ اس معاملہ میں مرکزی بی جے پی حکومت خود شامل ہے، انہوں نے مطالبہ کیا  کہ چیف الیکشن کمیشن فوری اس معاملہ میں مداخلت کرے  اور مرکزی وزیر شوبھا کرندلاجے سے اس معاملہ میں پوچھ تاچھ کر کے انہیں انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرے، انہوں نے پارٹی کے لیڈروں اور پارٹی کے امیدواروں سے جو تفصیلات بوتھوں کے تعلق سے حاصل کی ہیں، انہیں ضبط کر لیا جائے، کانگریس پارٹی نے شوبھا کرندلاجے کی جانب سے ایسے بوتھوں کی ویڈیو گرافی کروانے کی کوشش کی کڑی مذمت کی ہے۔