شیموگہ اسمبلی انتخابات کے تعلق سے مسلم علماء وعمائدین سنجیدہ، اب تک نہیں لیا ہے کوئی فیصلہ; زمینی حقائق جاننے کے بعد کیا جائیگا مشورہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شیموگہ اسمبلی انتخابات کے تعلق سے شیموگہ فیصلہ کن ووٹروں میں شمار ہونےوالے مسلمانوں کی جانب سے اس دفعہ نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجارہاہے،اس تعلق سے مختلف حلقوں میں تبادلہ خیال ہورہاہے اور الیکشن میں سیکولر امیدوارکو کامیاب کروانے کیلئے بحث ومباحثے چل رہے ہیں۔اس سلسلے میں علماء عمائدین،دانشوران اور نوجوان طبقوں کے حلقے کے مسلسل گفت وشنید اور ہر معاملے کو باریکی سے دیکھ رہے ہیں۔اس سلسلے میں علماء،عمائدین اور ذمہ داروں نے کسی بھی طرح کا فیصلہ نہیں لیاہے کہ کس سیکولر امیدوارکو مسلمان ووٹ کریں۔کانگریس اور جے ڈی ایس کے دو امیدواروں کو لیکر شیموگہ میں بات کی جارہی ہے اور یہ کوشش ہورہے کہ بی جے پی کو ہرانےوالے اُمیدوارکو مسلمان اپنا ووٹ دیں۔ابھی الیکشن کیلئے 9/دن باقی ہیں،اس درمیان مسلمانوں کی طرف سے بہتر فیصلہ لینے کیلئے کوشش ہورہی ہے ۔ حالانکہ جیتنےوالے امیدوارکو مسلم ووٹروں کے علاوہ دوسرے ووٹروں کی بھی لازمی ضرورت ہے،اس وجہ سے یہ دیکھاجارہاہے کہ کونسی پارٹی کا امیدوار دوسری قوموں کے ووٹ لے سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی توجہ دی جارہی ہے کہ جس سیکولر امیدوارکو ترجیح دینی ہے اُس کا ماضی اورحال کیاہے اور وہ مستقبل میں کس طرح سے مسلمانوں کی نمائندگی کرسکے گا۔حالانکہ سوشیل میڈیامیں کچھ لوگ کانگریس اور جے ڈی ایس کے دونوں امیدواروں کےحق میں بات کررہے ہیں،مگر ذمہ داروں نے اس بات کی ترغیب دی ہے کہ قبل از وقت کسی بھی امیدوارکے تعلق سے عوامی سطح پر رائے ظاہرنہ کی جائےورنہ انتشارہونےکے امکانات ہیں۔اس بنیادپر مسلمانوں کی طرف سے لئے جارہےفیصلے اُمت کو آنےوالے دنوں میں بہتر ثابت ہوسکتے ہیں،اس بات کی اُمید عام لوگ کررہے ہیں اور عوام کی طرف سے بھی یہ رائے آرہی ہے کہ جلدبازی میںفیصلے نہ کرتے ہوئے زمینی حقائق کو بنیاد بنایاجائے اور بہتر فیصلہ لیاجائے۔