ریاست بھر میں سرکاری بس ملازمین کی ہڑتال سےدوسرے دن بھی جاری

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔ سرکاری روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے ملازمین کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی وجہ سے ریاست بھر میں دوسرے دن بھی عام زندگی مفلوج رہی۔ اکثر مسافروں کو اپنے لئے متبادل ٹرانسپورٹ کے انتظام کے لئے زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑا۔ ہڑتالی ملازمین کو ریاستی حکومت نے دھمکی دی ہے کہ اگر فوری ہڑتال واپس لے کر اپنی ڈیوٹی پر حاضری نہیں دی تو ضروری خدمات مینجمنٹ قانون ( ESMA ) نافذ کردیا جائے گا۔ جس کےجاری ہوتے ہی تمام ملازمین کو کام پر واپس آنا پڑے گا۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے دی گئی اس دھمکی کا مزدور یونین نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔ چاروں سرکاری ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے ملازمین ہڑتال پر ہیں ۔ ایک دن کی ہڑتال کی وجہ سے چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کو 17 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کی خبر ملی ہے۔ ( کے ایس آر ٹی سی ۔ 7 کروڑ ، بی ایم ٹی سی 3 کروڑ ، این ڈبلیو کے آر ٹی سی۔5.3کروڑ اور این ای کے آر ٹی سی کو5.3 کروڑ روپئے )۔ ہڑتال کی وجہ سے عام لوگوں کو تکلیف نہ ہو، اس لئے ریاستی حکومت نے بنگلورو سے چند اہم مقامات کو افزو د ریل گاڑیاں دوڑانے سدرن ویسٹر ن ریلویز کو ایک مکتوب لکھا ہے جس میں بنگلورو سے بیلگادی کیلئے 2 ، کلبرگی کیلئے 2 ، کاروار کیلئے 2، بیدر کیلئے ایک اور وجئے پور کیلئے ایک اور شیموگہ کیلئے ایک افزود ریل گاڑیاں چلانے کی درخواست کی ہے ۔ دریں اثنا تمام چارٹرانسپورٹ کارپوریشنوں نے ’’کام نہیں تو اجرت نہیں‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمین جتنے دنوں کام سے غیر حاضر رہیں گے ان دونوں کی ان کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔ فی الحال حکومت نے عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے مختلف مقامات سے پرائیویٹ بسوں کو چلانے کی اجازت دے دی ہے،جس کے لئے انہیں ٹیکس معاف کرنے کے علاوہ عارضی پر مٹس بھی جاری کردئے ہیں ۔ حالانکہ ہڑتال کے پہلے دن سے ہی ہڑتالی ملازمین نے گلی کوچوں میں اتر کر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ان کے اعزازی صدر کوڑی ہلی چندرشیکھر نے کووڈ ۔ 19 کے رہنما اصول کی خلاف ورزی کا حوالہ دے کر ہڑتالی ملازمین کو گلی کوچوں میں مظاہرہ کرنے سے روک دیا۔ ہڑ تالی ملازمین نے کہا ہے کہ 6 ویں پے کمیشن کی سفارشات کے تحت ان کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا تو وہ اس ہڑتال کو واپس نہیں لیں گے۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے موجودہ تنخواہ میں صرف 3 فیصد اضافہ کرنے کی کل ہی پیش کی تھی ۔ ریاست کے چیف سکریٹری نے کل ہی واضح کردیا ہے کہ 8 فیصد سے زیادہ تنخواہ میں اضافہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وزیرا علیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے کبھی کل ہی واضح کیا ہے کہ تنخواہ میں 8 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو ہی نہیں سکتا اور ہڑتالی ملازمین سے اب مزید بات چیت نہیں کی جائیگی ۔ اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے پچھلے دودنوں سے شروع ہونے والی ٹرانسپورٹ کارکنوں کی ہڑتال آج بھی جاری رہی ۔شیموگہ میں اتنا سخت ماحول آج نہیں مل سکا ہےکیونکہ آج 10 سے زیادہ سرکاری بسیں سڑک پراُتاری گئی تھیں۔ اس کے علاوہ نجی بسوں کی نقل و حمل معمول کے مطابق جاری رہی۔ شہر کے سرکاری بس اسٹانڈ سے نجی بسوں کو سفر کرنے کی اجازت گئی تھی۔ صبح سے ہی کچھ سرکاری بسیں سفر کرتی نظر آئیں۔ہڑتال کے پیش نظر کچھ عملہ کام پر آیا تھا ، جو دوسرے عملے کیلئےحیران کن تھا۔ شیموگہ سے ساگر ،ہونہلی ، بھدراوتی ، شکاری پور اور ہری ہر جیسے مختلف حصوں میںسرکاری بسیںنقل وحمل کیلئے دستیاب تھیں،لیکن مسافروں کی تعداد بہت کم نظرآئی ہے۔شام تک 30 سے ​​زیادہ بسوں کے سفر کرنے کا امکان ڈپو عہدیدار نے ظاہر کیا ہے۔شیموگہ یونٹ سے 5 بسیں ، ساگریونٹ سے 2 بسیں اور ہونہلی یونٹ سے 2 بسیں مسافروں سے بھری ہوئی دکھائی دیں۔اس دوران صرف نجی بسوں میں ہی مسافروں کا ہجوم دیکھنے کو ملا تھا۔ تقریباً تمام نجی بسیں اس موقع کافائدہ اٹھاتی ہوئی نظرآئیں اور لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذاضلع کے تمام حصوں میں نجی بسوں کی نقل وحمل ہی مسافروں کو راحت کا سبب بنی ہیں۔