بھٹکل:۔ بھٹکل۔ ہوناور اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار منکال ایس ویدیا نے کہا کہ اگر ہوناور کے پریش میستا کے قاتلوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے ہاتھ بی جے پی کے ہی لوگوں کے گریبانوں تک پہنچ جائے گا، اسی ڈر سے مرکزی حکومت کے تابع کام کرنے والی سی بی آئی نے پریش میستا کے قتل کو حادثاتی موت قرار دے کر معاملہ کو بند کردیا۔مرڈیشور کے بینا ویدیا اسکول گراؤنڈ میں منعقدہ انتخابی مہم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منکال وئیدیا نے کہا کہ 2018 میں جب پریش میستا کی موت واقع ہوئی تھی تو وزیر داخلہ امیت شاہ اگلے ہی روز ہوناورپہنچے تھے اور کہا تھا پریش میستا کی موت ایک قتل ہے اور اس کے قاتلوں کو پکڑ کر ہم ان کے خاندان کو انصاف دلائینگے۔ لیکن یہی امت شاہ جو وزیر داخلہ بھی ہیں، اپنی ایجنسی سی بی آئی کے ذریعے پریش میستا کی موت کی رپورٹ کو قتل نہیں بلکہ ایک غیر معمولی موت قرار دے دیا۔ منکال وئیدیا کا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے کرنا پڑا کیونکہ انہیں خوف تھا کہ اگر کہیں پریش میستا کے قاتل پکڑے گئے تو وہ بی جے پی کے ہی لوگ ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ امیت شاہ نے سی بی آئی کی رپورٹ کو غیر فطری موت قرار دینے کو یقینی بنایا۔ منکال وئیدیا نے اپنے خطاب میں بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی والے اس بات کا دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں کہ ریاست اور مرکزی دونوں طرف بی جے پی کی حکومت ہے اس لئے یہ ڈبل انجن والی سرکار ہے۔ منکال وئیدیا نے کہا کہ کرناٹک میں اس ڈبل انجن نے کام کرنا چھوڑکر کافی عرصہ گذر چکا ہے۔ وئیدیا نے طنز کیا کہ دونوں انجن ٹوٹ چکے ہیں۔منکال وئیدیا نے کہا کہ بی جے پی جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کرتی۔ کیا آپ نے بی جے پی کے کسی اُمیدوار کو یہ کہتے سنا ہے کہ میں ایک بی جے پی کا امیدوار ہوں اور اس حلقے کی ترقی کروں گا؟ وہ کبھی ملک کی ترقی کی بات نہیں کرتے۔ وہ صرف ہندوتوا کی باتیں کرتے ہیں۔ لکن میں سینہ ٹھونک کر کہتا ہوں کہ میں آپ کی مشکلات کے وقت آپ کا ساتھ دوں گا، آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا، آپ کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔منکال نے سوال کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ بی جے پی کیا کہہ کر ووٹ مانگتے ہیں؟ اُن کےپاس صرف ایک ہی نام ہے۔ ہندوتوا۔ منکال وئیدیا نے کہا کہ اصلی ہندتوا میرا ہے۔ میں نے مٹھ بنائیں ہیں، میں نے اسکول بنایا ہے، میں نے مندربھی بنائے ہیں اور میرے بنائے ہوئے مندر میں وہ لوگ آتے ہیں اور ہمیں ہندوتوا کے بارے میں سکھاتے ہیں، یہ بہت بڑا المیہ ہے، ایسا نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہمیں ہندوازم کے بارے میں ان لوگوں سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے جنہیں ہندوازم کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ہندوازم غریبوں اور کمزوروں کی وہ کیا فکرکریں گے۔ منکال وئیدیا نے بالواسطہ طور پر بی جے پی امیدوار سنیل نائک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہندوتوا اور حب الوطنی اسی وقت یاد آتی ہے جب انتخابات قریب ہوتے ہیں۔
