از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کرناٹک کی کابینہ کی تشکیل ہوچکی ہے،اس دفعہ 32 اراکین اسمبلی نے وزارت کی کُرسی سنبھالی ہے۔کانگریس پارٹی کو اس بار اقتدارمیں لانے کیلئے مسلمانوں نے بہت بڑے پیمانے پر محنت کی ہے۔علماء،عمائدین ،تنظیموں کے ذمہ داران اورعام لوگوں نے ایک طرح سے کانگریس پارٹی کو اقتدارمیں لانے کیلئے حلف اٹھایاتھااور اس حلف کے مطابق ہی ریاست بھرمیں کانگریس پارٹی کو اقتدارمیں لانے کیلئے کامیابی حاصل کی ہے۔کانگریس پارٹی کواقتدارمیں لانے سے قبل مسلمانوں نے پہلی بات یہ رکھی تھی کہ فرقہ پرست بی جے پی کو شکست دینے کیلئے کانگریس پارٹی کو اقتدارمیں لاناہوگا اور دوسری بات یہ طئے پائی گئی تھی کہ سیاسی طورپر کمزور ہورہی مسلم قیادت کو مضبوط کرنے کیلئے کانگریس پارٹی کو اقتدارمیں لاناہوگا۔یہی وجہ تھی کہ کانگریس پارٹی اقتدارمیں آنے کے بعد مسلمانوں کی جانب سےا س بات کا مطالبہ کیاگیاکہ ایک مسلمان کو ڈی سی ایم اور کم ازکم چارمسلمانوں کو وزارت میں شامل کیاجائے کیونکہ مسلمانوں نے اس پارٹی کو اقتدارمیں لانے کیلئے88 فیصد ووٹنگ کی ہے اور اس 88 فیصد ووٹنگ سے جہاں کا نگریس کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچاہے وہیں دوسری پارٹیوں کے سامنے مسلمان نشانے آچکے ہیں۔جے ڈی ایس بھی مسلمانوں سے ناراض ہے تو وہیں سنگھ پریوار مسلمانوں کے اس اتحاد پر ردِ عمل ظاہرکرنے کیلئے تیاری کررہاہے۔ان تمام باتوں کے درمیان ایک بات یہ بھی ہےکہ کانگریس پارٹی نے جن دو مسلم ایم ایل ایز کو وزارت سونپی ہے وہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں یاپھر نظریاتی صلاحیتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ سدرامیاکے ساتھ وفاداری کرنے اور انہیں خدا ماننے پر وزارت دی گئی ہے۔ضمیر احمد خان اور رحیم خان دونوں ہی مختلف موقعوں پر سدرامیا کو خداکے برابرکا درجہ دیاتھا اور دونوں سدرامیا کے خاص لوگوں میں شمارہوتے ہیں۔ممکن ہے کہ بقیہ مسلم اراکین اسمبلی جن میں رضوان ارشد،کنیز فاطمہ،تنویرسیٹھ،این اے حارث ،اقبال حُسین،آصف سیٹھ،ایم ایل سی میں عبدالجبار،نصیراحمد جیسے لوگوں نے سدرامیا کو خداکے برابرنہیں جانا،نہ ہی انہوں نے ڈی کے شیوکمارکواپنا مجازی خدا بنایا،تو انہیں وزارت سے دوررکھاگیاہے۔کیا کانگریس نےمسلمانوں کے88 فیصد ووٹ کے عوض یہی صلہ دینا مناسب سمجھاہے۔ہوناتو یہ چاہیے تھاکہ مسلمانوں کو سیاسی اعتبار سے مضبوط کرنے کیلئے کانگریس مسلمانوں کو اہمیت دیتی لیکن ایسانہیں ہواہے۔چونکہ کانگریس کو ووٹ دلوانے کیلئے ریاست بھرمیں مسلمانوں کی بڑی تحریک چلائی گئی ہے،اس تحریک کے روحِ رواں کہلانےوالے علماء،عمائدین،تنظیموں وجماعتوں کے ذمہ داران نے دن رات کام کیاہے،اب ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان حالات میں مسلمانوں کی مناسب قیادت کیلئے حکومت پر دبائو ڈالیں۔صرف بی جے پی کو دوربھگاناہی مسلمانوں کا مقصدنہیں تھا،بلکہ مسلمانوں کو سیاسی وسماجی انصاف دلانابھی ان تمام ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے۔
