شیموگہ:۔دہلی میں احتجاج کررہے پہلوانوں کی حمایت میں ریاستی کسان یونین اور ہسیرو سینا کے کارکنوں کی جانب سےضلع ڈپٹی کمشنردفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن کے صدر اور بین الاقوامی سطح کےپہلوانوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں طرف کیا جائے۔ مظاہرین نے شکایت کی کہ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سربراہ اور دیگر عملے کی جانب سے نامور خواتین ریسلرز بشمول نا بالغ لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا جانا انتہائی افسوسناک ہے اور یہ تشدد ملک کے لیے باعثِ شرم کی بات ہے۔یہ شرم کی بات ہے کہ مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت بیٹی بچائو اور بیٹی پڑھائوکی تشہیر کرتی ہے،لیکن ایک گھناؤنے جرم کے ملزم بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ مظاہرین نے اس بات پر غم و غصہ کا اظہار کیا کہ بی جے پی حکومت جس کو کھلاڑیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا، انصاف کیلئے احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کی آواز کو دبانے کیلئےپولیس فورس کا استعمال کر رہی ہے۔بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں تمغے جیت کر ہمارے ملک کا نام روشن کرنے والوں پر اس طرح کی ہراسانی سے ملک کی عام لڑکیوں کی حفاظت کیسے ہو سکتی ہے ؟ جس سے ملک کی جمہوریت کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے لیے شرم کی بات ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک گیمز نے بھی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ مظاہرین نے متنبہ کیا کہ جنسی طور پر ہراساں کرنے اور تشدد کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کو فوری طور پر ریسلنگ فیڈریشن کے صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے اوران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ احتجاج میں کسان یونین کے ریاستی صدر ایچ آر بسواراجپا، جگدیش ، ٹی ایم چندرپا، ہٹورو راجو، پی ڈی منجپاسمیت دیگر افراد موجود تھے۔
