ہبلی:۔انفراسٹرکچر،سائنسی آلات نیز تکنیکی اشیاء تعلیمی اداروں کی اہم ضروریات میں سے ہیں لیکن تعلیمی ادارے سیمنٹ، گارے اور پتھر سے بنائے نہیں جاتے بلکہ تعلیمی اداروں میں پائے جانی والی افرادی قوت ہی دراصل اداروں کی روح ہوتی ہے جو تعلیمی اداروں کو اپنے وجود سے جِلا بخشتے ہیں،اور انہیں کے وجود سے تعلیمی سفر رواں دواں رہتا ہے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار جناب ایم ایس ملا پرنسپل ٹیپو شہید پالی ٹیکنک ہبلی نے ادارہ میں منعقدہ الوداعی جلسہ میں اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا جو ان کے اعزاز میں رکھا گیا تھا۔ مزید اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اساتذہ برادری طلباء کو محض کوئی شئے تصور نہ کریں بلکہ یہ بات ذہن میں رہے کہ ہمارا سابقہ انسانی زندگیوں سے ہے اور ہمیں اس حد تک محتاط انداز میں طلباء کی نصابی تعلیمی ضروریات کے علاوہ ان کی ذہنی و فکری تربیت کو بھی مقدم سمجھیں، اس لئے کہ انہیں سے ملک کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ ملک کا خزانہ سرکاری بینکوں میں نہیں بلکہ اسکولوں کے احاطہ میں پایا جاتا ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف یہی نہیں کہ معلومات اکھٹا کی جائیں یا پھر تکنیکی امور پر مہارت حاصل کی جائے جو یہ بھی آج کی ماڈرن سوسائٹی کے لئے نہایت ضروری ہے، لیکن تعلیم کا مقصد عین یہ ہے کہ طلباء ایک اچھے انسان بنیں اور ہمارے وطنِ عزیز کا ایک ذمہ دار شہری بنیں۔پرنسپل ایم ایس ملا نے مولانا ابو الکلام آزاد کے ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ضروری ہے کہ پہلے طلباء کو اچھا انسان بنائیں پھر جب یہ شریف النفس بن جائے تو انہیں ڈاکٹر، انجینئر، سول سرونٹ یا فوجی بنائیں۔یہ جس شعبہ میں ہاتھ ڈالیں گے اس میں چار چاند لگائیں گے۔بر خلاف اس کے صرف سائنس و ٹیکنالوجی پہ اکتفا کیا گیا تو بحیثیت انسان یہ ناکارہ و بودا بن جا ئے گا اور جو عمارت کھڑی ہوگی اس کے منہدم ہونے کا خطرہ ہمیشہ لگا رہے گا۔آخر میں پرنسپل ایم ایس ملا نے اساتذہ برادری سے گزارش کی کہ وہ آج کے اس جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں درس و تدریس کے موثر طریقے اپنائیں جس میں کشش ہو اور ساتھ ساتھ تکنیکی میگزین و رسالوںکے مطالعہ سے اپنے آپ کو آراستہ کرتے رہیں اس لئے کہ آج کی بدلتی تکنیکی دنیا، حالات اور وقت کے ساتھ ہم آہنگی نہایت ضروری ہے۔پروگرام سے تمام شعبۂ جات کے صدور رویندر سنگھ عطار، چندر شیکھر توپد، ایم ایس سومنکٹی، ایم ایچ دھارواڑ، بالیش ہیگنور، مسعود احمد جنیدی و دیگر اسٹاف نے خطاب کیا اور کہا کہ پرنسپل ایم ایس ملا نے اپنے اڑتیس سالہ تعلیمی خدمات میں جو نقوش چھوڑے ہیں وہ ادارہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔ پروگرام کے آخر میں پرنسپل ایم ایس ملا کو منتظمین ادارہ ، اسٹاف اور طلباء کی جانب سے ان کی وظیفہ یابی کے موقع پر تہنیت پیش کی گئی۔
