بنگلورو:۔انسدادِ گائوکشی قانون پر روک لگانے کیلئے کرناٹکا ہائی کورٹ میں دائرکردہ پی آئی ایل کی سنوائی کرتے ہوئے کرناٹکا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے معاملے کی سنوائی کیلئے16 جولائی کو تاریخ طئے کی ہے۔حالانکہ اس معاملے کی سنوائی آج یعنی14جون کو ہونی تھی،لیکن لاک ڈائون کی وجہ سے متعلقہ معاملے میں شامل ہونےو الے الگ الگ فریقین کے وکلاء نے عدالت سے تاریخ میں توسیع کرنے کی اپیل کی تھی،اس بنیاد پر کرناٹکا ہائی کورٹ نے اگلی سنوائی کی تاریخ16 جولائی طئے کی ہے۔اس معاملے میں پہلے فریق عارف جمیل جو اڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال کی وکالت میں گائوکشی کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں،ان کے ساتھ سائوتھ انڈیا جمعیۃ قریش کے صدر یوسف قریشی اورکرناٹکا رئیتراسنگھابھی اب دعویدار بن چکے ہیں۔وہیں دوسری جانب اس قانون کو بحال رکھنے کیلئے مطالبہ کرتے ہوئے سنگھ پریوار کی سوچ رکھنے والی تنظیمیں سی بسوامورتی مادرچنیئا سوامی جی،چتردرگہ،سی بھگوان مہاویر گائوشالہ ٹرسٹ،ہاسن ڈسٹرکٹ،پٹاپٹ سرینواس،گائوہتیھا نیشدا جاری سمیتی نے بھی عدالت سے رجوع کیاہے۔اس طرح جملہ تین دعویدار قانون کی مخالفت میں اور چار دعویدار اس قانون کی تائید میں میدان میں اترے ہیں۔چونکہ بقرعید بھی آرہی ہے،ایسے میں یہ معاملہ بے حد حساس ماناجارہاہےاور عدالت سے اُمید لگائی جارہی ہے کہ عدالت حکومت کے اس قانون پر روک لگائیگی۔
