وقف کی جائیدادوں کا استعمال قوم کی فلاح و بہبود ی کیلئے کیا جائے:ضمیر احمد خان

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک میں وقف املاک کے تحفظ اور ان کی ترقی یقینی بنانے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے ایک ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ یہ بات ریاستی وزیر برائے ہاوزنگ، اقلیتی بہبود و حج ضمیر احمد خان نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ بزرگوں نے اپنی بیش قیمتی املاک اپنے نسلوں کے نام کرنے کی بجائے قوم کے نام اس لئے وقف کی کہ ا ن جائیدادوں کا استعمال قوم کی فلاح و بہبود کے لئے کیا جائے۔ قیمتی جائیدادوں کو اس لئے وقف نہیں کیا کہ ان کو خالی رکھا جائے یا غیروں کے قبضہ میں جانے دیا جائے بلکہ ان کو ترقی دے کر اس سے قوم کو معاشی طور پر مضبوط کرنے اور قوم کے سماجی، معاشی و تعلیمی سدھار کی فنڈنگ ہو سکے۔ اسی مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ طے کیا گیا ہے کہ ریاست میں وقف املاک کی حفاطت، دیکھ بھال اور ان کو ترقی دے کر ان کے ذریعے آمدنی کے وسائل قائم کرنے وقف ٹاسک فورس قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین توجہ وقف املاک کے تحفظ پر ہو گی اور ہر وقف املک کی حصار بندی کا کام شروع کروایا جائے گا۔ اوقافی مسائل کو مقامی سطح پر ہی نمٹا نے کیلئےڈیویژنل سطح پردفاتر قائم کئے جائیں گے۔دلالوں کی روک تھام: کرناٹکا مائنارٹیز ڈیولپمنٹ کارپوریشن (کے ایم ڈی سی) میں دلالوں کی موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی وزیرنے کہا کہ کے ایم ڈی کی کی اسکیموں کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے اور اسکیم کے لئے مستحقین کے انتخاب میں شفافیت اپنائی جائے۔اس ادارے کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ضمیر احمد خان نے کہا کہ اسکیمیں برائے نام نہیں ہونی چاہئے بلکہ ان کا نفاذ موثر پیمانے پرہونا چاہئے۔ کارپوریشن کی جانب سے ٹیکسی، آٹو اور مالبردار گاڑی کی خریداری کے لئے جو قرضہ مہیا کروایا جاتا ہے اس میں مستحق سے بھی 10 فیصد رقم لازمی طور پر شامل کی جائے اور بینکوں سے اشتراک سے سنگل ونڈو اسکیم کے تحت قرضے منظور کئے جائیں۔کے ایم ڈی سی کی طرف سے منظور کئے گئے قرضوں کی وصولی میں محض 15فیصد پیش رفت پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وصولی کم از کم 50فیصد ہونی چاہئے۔اس کیلئے ون ٹائم سیٹلمٹ اور سود کی معافی جیسے طریقہ اپنائے جائیں۔ اقلیتی خواتین اگر اسٹارٹ اپ تجارت یا صنعت قائم کرنے کیلئے آگے آئیں تو ان کو تمام سبسڈی کے ساتھ قرضہ دیا جائے۔  اس موقع پر سابقہ بی جے پی حکومت کی طرف سے روکی گئی اقلیتی طبقات سے وابستہ وہ طلباء جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کی مالی امداد کی اسکیم کوبحال کرتے ہوئے ضمیر احمد خان نے اس کیلئے 10کروڑ روپے فراہم کرنے کااعلان کیا اور کہا کہ تجارت کی شروعات کیلئے 5لاکھ روپے تا20لاکھ روپے کا قرضہ دینے کے لئے ہدایت دی جائے گی۔