بنگلورو:۔نہ وائرس ہے اور نہ کوئی بیماری ہے۔ اس سال کی گرمی میں حد سے زیادہ اضافہ ہونےسے مرغی صنعت کاری کو کافی نقصان ہواہے ۔ جس کےنتیجےمیں انڈے اور گوشت کی قیمتیں دوگنی ہوجانے سے گاہک حیران ہیں۔موسم گرماکی حد سے زائد بڑھتی ہوئی حدت اور مانسون کی آمد میں دیری سے مرغیاں ہلاک ہورہی ہیں، اسی کا نتیجہ ہےکہ انڈوں میں بھاری کمی ہوئی ہے، حیدرآباد سے انڈے سپلائی ہوتےہیں اسی لئے ایک درجن انڈوں کی قیمت 80روپئے ہوگئی ہے۔ کورونا کے دوران بھی اتنی قیمت نہیں تھی ۔ پچھلےایک دہے میں انڈوں کی قیمت میں اتنا اضافہ نہیں دیکھاگیا ہے اب انڈوں کی جو قیمت ہے اس سے گاہک حیرت زدہ ہیں۔جب مچھلی اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہوتاہے تو عوام کم قیمت پر دستیاب انڈوں کا رخ کرتےہیں۔ لیکن اب انڈوں کی قیمتوں میں بھی حدسے زیادہ اضافہ کو دیکھتے ہوئے عوام انڈوں کےقریب بھی نہیں جارہے ہیں ۔ دو دن پہلے ایک درجن انڈوں کی قیمت 70روپئے کے آس پاس تھی 80روپئے ہوگئی ہے۔ریاست میں انڈے والی مرغی یعنی لئیر مرغیوں کی پرورش میں کمی ہوتی جارہی ہے۔ کیونکہ لئیر مرغی کو 18مہینے پرورش کرنےکے بعد 1.5 کلوگوشت ملتاہے۔ اس کے بجائے انڈوں کےلئے مرغیوں کا پالن کریں تو گوشت کی شرح میں کمی ہوجاتی ہے۔ اس دوران کوئی بیماری ، وائرس آگیا تو ہلاک ہوجاتی ہیں جس کےنتیجےمیں کافی نقصان ہوتاہے۔ اسی وجہ سے لئیر مرغیوں کی صنعت کاری چھوڑکر زیادہ تر گوشت والی مرغیوں (بائلر مرغیوں ) کی صنعت کاری کی جارہی ہے۔ کیونکہ بائلر مرغی میں صرف ایک مہینےمیں ہی دو کلو کا گوشت دیتی ہے، یہی وجہ بھی ہےکہ بائلر مرغیوں کی مانگ زیادہ ہے۔ لئیر مرغیوں کی صنعت کاری میں کمی ہونے سے ہی انڈوں کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہواہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر تازہ مچھلیاں نہیں ملنے کی وجہ سے انڈوں کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہاہے۔بائلر مرغیوں کی صنعت کاری منافع بخش ہونےکی وجہ سے لئیر مرغیوں کی صنعت کاری کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہاہےاسی وجہ سےلئیر مرغیوں کی صنعت کاری میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ 350روپئے کی قیمت پر 100 انڈے ملتے تھے اب قیمت میں اضافہ ہوکر 100انڈوں کےلئے550روپئے ادا کرنے پڑر ہے ہیں۔ گرمی میں اضافہ ، اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور مرغی صنعت کار بائلر مرغیوں کا رخ کئےجانے سے انڈوں کی قیمت میں اچانک اضافہ ہواہے۔ زیادہ گرمی ہونےکی وجہ سے لئیر مرغیاں بیماری کا شکار ہورہی ہیں تو دوسری طرف مرغیوں کی پرورش کےلئے دئیے جانےوالی غذاؤں کی قیمت میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہواہے اور پانی کی قلت سے بھی مرغیوں کی پیدائش کم ہورہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انڈوں کی قیمت میں اضافہ ہورہاہے۔کاروار اور گوا کو حیدرآباد سے انڈے سپلائی کئے جانے سے انڈوں کی قیمت میں اضافہ ہواہے۔ ضلع بھر میں حیدرآباد سے ہی انڈے سپلائی کئےجارہےہیں تو سپلائی کا فاصلہ بہت دور کا ہے تو سپلائی کےلئے بھی زیادہ خرچ ہوتاہے اسی وجہ سے انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔
