خالصتان حامیوں کی ہندوستانی قونصل خانے میں توڑ پھوڑ، امریکی سفیر طلب

انٹرنیشنل نیوز
 نیویارک:۔امریکہ نے سان فرانسسکو میں بھارتی قونصل خانے میں کی گئی توڑ پھوڑ اور آتش زنی کی کوشش کی مذمت کی ہے۔ ادھر بھارت نے خالصتانیوں کی مجوزہ فریڈم ریلی کے پیش نظر کینیڈا کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔امریکہ کے شہر فرانسسکو  میں خالصتان کے حامیوں نے بھارتی قونصل خانے میں توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ ہی اس میں آگ لگانے کی کوشش کی جبکہ کینیڈا میں خالصتانی تحریک کے حامیوں نے بھارتی سفارت کاروں پر حملے کی دھمکی دی ہے۔امریکہ نے سان فرانسسکو میں بھارتی قونصل خانے کی عمارت میں ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں یہ کہہ کر مذمت کی ہے کہ یہ مجرمانہ کارروائی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا کہ امریکہ میں سفارتی سہولیات یا غیر ملکی سفارت کاروں کے خلاف توڑ پھوڑ یا تشدد ایک مجرمانہ جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سان فرانسسکو میں بھارتی قونصل خانے کے خلاف مبینہ توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔اس سے پہلے خالصتان کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ اتوار کی صبح کس طرح قونصل خانے کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ ویڈیو کے ساتھ یہ الفاظ بھی لکھے تھے کہ تشدد تشدد کو جنم دیتا ہے۔اس ویڈیو میں حال ہی میں کینیڈا میں رہنے والے خالصتان ٹائیگر فورس کے ایک اہم رہنما ہردیپ سنگھ نجر کی موت کا بھی ذکر ہے، جنہیں گرودوارے میں ہی بعض نہ معلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔گزشتہ کچھ برسوں کے دوران ہردیپ سنگھ نجر کینیڈا میں سرگرم خالصتانی تحریک کے ایک روح رواں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تھے اور وہ باقاعدگی سے بھارت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی قیادت کرتے رہے تھے۔بھارت نے انہیں دہشت گرد قرار دے رکھا تھا اور ان کے خلاف ریاستی اور مرکزی سطح پر متعدد مقدمات بھی درج تھے۔ سن 2018 میں جب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت کا دورہ کیا تھا، تو اس وقت انہیں نئی دہلی کو مطلوب افراد کی ایک طویل فہرست سونپی گئی تھی۔ اس فہرست میں ہردیپ سنگھ نجر کا نام بھی شامل تھا۔بھارت نے اوٹاوا میں بھارتی ہائی کمیشن اور ٹورنٹو اور وینکوور میں 8 جولائی کو دو قونصل خانوں کے باہر خالصتان کی حامی تنظیموں کی جانب سے ہونے والے احتجاج سے پہلے نئی دہلی میں کینیڈا کے ہائی کمشنر کو طلب کیا اور اپنے سفارت کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ کینیڈا میں سرگرم خالصتانی تحریک کے حامیوں نے بعض دھمکی آمیز پوسٹر شائع کیے ہیں، جس میں کئی بھارتی سفارت کاروں کے نام بھی شامل ہیں۔