بنگلورو:۔ نجی غیر امدادی اسکول وکالجوں کے تمام تدریسی وغیر تدریسی عملے کو حکومت کی جانب سے معاوضہ دیا جائے۔ اس بات کا مطالبہ سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا سے متاثر ہونے والے غیر امدادی اسکولوں کے اساتذہ کو معاوضہ دینے کیلئے حکومت نے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس پیکیج غیر تدریسی عملے کو شامل نہیں کیا گیا ہے اورعرضیاں دینے کی آخری تاریخ 14 جون بتائی گئی تھی، مگر حکومت نے غیر امدادی اسکولوں کے دوسرے عملے کو پیکیج منظور نہ کرتے ہوئے انکے ساتھ نہ انصافی کی ہے۔ کئی ایڈیڈ اسکولوں میں بھی غیر امدادی اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں،انکے ساتھ عملہ بھی شامل ہے وہ لوگ 3 تا 5 ہزار روپئے کی تنخواہ لے کر اپنا گذارا کررہے ہیں ایسے عملے کو بھی حکومت مالی امداد دے۔ حکومت نے پہلے اوردوسرے پیکیج میں اس بڑے زمرے کو نظرانداز کردیا ہے اس سے یہ عملہ پریشان ہوچکا ہے۔ اسی طرح سے ان ایڈیڈ کالجوںکے لکچرر اورایڈیڈ گیسٹ لکچرر بھی بےروزگار ہوچکے ہیں، وہ لوگ سبزیاں بیچ رہے ہیں ، پھول وپھل بیچ رہے ہیں اورکچھ اساتذہ نریگا میں مزدوری کررہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی پریشانیوں کو سوشیل میڈیا کے ذریعہ سے پیش کررہے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت انکی مشکلات کو حل کرنے کے بجائے انہیں نظرانداز کررہی ہے۔
