مرکزاہلسنت جامعہ حضرت بلال میں منعقد77ویں جشن آزادی سے مولانامحبوب رضاکااظہارخیال
صوبۂ کرناٹک میں واقع شہربنگلور کی مرکزی ،دینی ،تربیتی اوراقامتی درسگاہ مرکزاہلسنت جامعہ حضرت بلال،ٹیانری روڈ،بنگلورمیںجشن یوم آزادی بڑے ہی تزک واحتشا م کے ساتھ منایاگیا۔جامعہ ہٰذا کے طلبانے نعت ومنقبت اوروطن عزیزکی محبت کے نغمے انوکھے اندازمیں پیش کئے ۔خطیب باکمال،ماہردرسیات حضرت علامہ مولانامحبوب رضاصاحب قادری(استاذجامعہ ہذا)نے جشن آزادی پرخطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان ہمارامحبوب وپیاراملک ہے۔اس کوحاصل کرنے کے لئے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔اسی لئے اس کے اہم دن ہم بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔ان دنوں میں یوم آزادی بہت اہم ترین دن ہے۔15 اگست کادن ہمارے ملک ہندوستان کی تاریخ میںنہایت ہی اہمیت کاحامل ہے، کیونکہ اسی دن ہماراملک انگریزوں سے آزادہوا ۔ آزادیٔ ہندسے پہلے پورے برّے صغیرپرتقریباًسوسال تک انگریزوں کاقبضہ رہا۔انگریزوں کے قبضے سے پہلے برّصغیرپرمسلمانوں کی حکومت تھی۔انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے مسلمان اورغیرمسلم لیڈران مسلسل کوشش کرتے رہے۔خدائے وحدہٗ لاشریک محنت شاقہ کاپھل ضرورعنایت فرماتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سی قربانیاں دینے کے بعدآخرکار15؍اگست1947ء کو ہندوستان انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوگیا۔لیکن 26؍جنوری 1950ئکوآزدجمہوری ملک بن گیا۔یقینااسی دن کے لئے ہی گاندھی جی ،مولاناابوالکلام آزاد،جواہرلال نہرو،خان عبدالغفارخان،نیتاجی سبھاس چندربوس جیسے عظیم رہنماؤں کی قیادت میںہزاروں لاکھوں ہندوستانی عوام نے بلاامتیازمذہب وملت آزادی کے پرچم کوبلندکیااوراپنی بے مثال قربانیوں اوراتحادواتفاق سے انگریزوں سے ٹکرلی اوراُسے ہندوستان چھوڑنے پرمجبورکردیا۔انہوں نے کہاکہ ہم ان بزرگوں کی انتھک کوششوںوجُہدِمسلسل کی یادتازہ کرنے کے لئے ان خاص دنوں میں تقریریں کرتے ہیںجنہوں نے عظیم قربانیاں دے کرہمیں انگریزوں کے ظلم وجبرسے نجات دلائی۔ان تقریروں میںاس بات پرخاص زوردیاجاتاہے کہ ہم ان کی قربانیوں کوضائع نہ ہونے دیںگے اورمُلک کے گوشے گوشے کی حفاظت کریںگے۔یوم آزادی کے موقع پر ہرسال عام تعطیل ہوتی ہے البتہ مدارس اسلامیہ،اسکول اورکالج صبح کوکچھ دیرکے لئے کھلتے ہیں۔مدارس اسلامیہ ،اسکول اورکالجوںکے طلباء وطالبات خاص قومی پروگرام کانہایت ہی شان بان کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں۔وطن عزیز کی محبت کے نغمے گاتے ہیں،اورمجاہدین آزادی کی قربانیوں کوپوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔یوم آزادی کے موقع پرسارے ملک کے شہروں ،قصبوںاوردیہاتوں میںصفائی وستھرائی کاخاص خیال رکھاجاتاہے۔تمام صوبوں میں مرکزی مقامات پرتقاریب کاانعقادکیاجاتاہے اورساتھ ساتھ ثقافتی پروگرام کااہتمام بھی ہوتاہے۔لوگ جوق درجوق گھروں سے باہرآجاتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ مدارس اسلامیہ،اسکول،کالج،چوک چوراہوںاورسرکاری نجی عمارتوں پرقومی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔گھروں میں بچوں،جوانوںاوربوڑھوںکاجوش وخروش توقابل دیدہوتاہے۔رہائشی علاقوں ،ثقافتی اداروں اورمعاشرتی انجمنوں کے زیراہتمام تفریحی پروگرام توانتہائی شاندارطریقے سے منائے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ مساجدمیںملک وقوم اورتمام امّہ کی ترقی وخوش حالی،بھٹکے ہوئے لوگوںکوصراط مستقیم کی توفیق اورسلامتی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔جشن آزادی کے اس پربہارموقع پردوسرے ممالک کے سربراہان صدرِہند ووزیراعظم کومبارک بادی کاپیغام بھیجتے ہیںاورنیک خواہشات کااظہاربھی کرتے ہیں۔ ہماراملک ہندوستان صوفی سنتوں اوردرویشوں کاملک ہے،جنہوں نے ہمیشہ امن وآشتی ،صلح اوربھائی چارے کاپیغام دیاہے آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اپنی سطح پراوراپنی اپنی بساط کے مطابق اُن آدرشوں اوراُصولوں کواپنائیںجوہمارے بزرگوں نے ہمیں عطاکئے ہیں۔ہندوستان دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت ہے اوراس جمہوریت کی بنیادرنگارنگ تہذیب اوربوقلمونی پرہے۔یہ ملک ہرمذہب ،ہرطبقے،ہرخطے اورہرکلچرکاایک ایساسرچشمہ ہے جس کے سوتے انسانیت کی بنیادپرپھوٹتے ہیں اورصدیوں سے سیروشکرہوکے ہندوستان کی گنگاجمناتہذیب کوسیراب کرتے رہے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ ہم انسانیت ،امن وآشتی ،آپسی بھائی چارے اورپیارومحبت کے اس پیغام کوگھرگھرعام کریں جوہمارے بزرگوں سے ہمیں وراثت میں ملی ہے اورجس کے ہم امین ووَارِث ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج کادن ہمیں انہیں بزرگوں اورعظیم رہنماؤں کی قربانیوں کی یاددلاتا ہے ہمارے بزرگوں نے آزادی اورجمہوریت کاجوخواب دیکھاتھاوہ شرمندۂ تعبیرتوہواتاہم ہمارے سامنے آزادی،اُخوّت اورمساوات کاعظیم تصورتشنۂ عمل ہے۔اس ملک کے تمام باشندوں کویکساں طورپرآگے بڑھ کراس یکجہتی کامظاہرہ کرناچاہئے ۔اس موقع پرہمیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ ہماراملک آج گوناگوں مسائل سے دوچارہے۔یہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔بلاشبہ ہم نے شدیدمزاحمتوں کے باوجوداپنے گنگاجمنی ،وفاقی اورجمہوری کردارکازبردست تحفظ کیاہے۔سائنس اورٹکنالوجی ،حرفت وزراعت،نقل وحمل،اطلاعاتی اورمواصلاتی ٹکنالوجی کوشعبوں میں ہمارے ملک نے اہم کرداراداکیاہے لیکن ہمارے سامنے عدم مساوات ،بے روزگاری،پسماندگی اورناخواندگی وغیرہ کاعفریت کھڑاہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس دورکے تقاضوں کودیکھیں اورملک کی ترقی اورکامرانی کے صحیح راستوں کاتعین کریں۔انگریزوں کااصلی مُلک اوروطن انگلینڈہے، انگلینڈمیں زمانۂ قدیم سے بادشاہی چلی آرہی ہے ۔وہاں کی حکومت کانام برطانوی حکومت ہے جسے انگریزی زبان میں برٹش گورنمنٹ کہتے ہیںجب انگریز ساہوکاراپنے وطن انگلینڈسے ہندوستان آئے تویہاں انہوں نے تجارتی کاروبارکاسلسلہ قائم کیااوراس میں خوب ترقی کی پھربعدمیںانہوں نے مغل بادشاہوں کی بے بسی اورکمزوریوں سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسٹ انڈیاکمپنی کے نام سے اپنی انگریزی حکومت قائم کرلی۔انگلینڈکی حکومت بَرطانیہ نے اگرچہ ایسٹ انڈیاکمپنی کی اس نئی حکومت کوجائز قراردیاتھااورہندوستان کانظام درست رکھنے کے لئے کمپنی کے نام ہدایات وفرمان بھی بھیجتی رہی ،لیکن خوداس نے ہندوستان کی انگریزی حکومت کے اختیاراپنے ہاتھ میں نہیں لئے بلکہ کمپنی ہی کے ہاتھ میں رہنے دیاجس کے باعث کمپنی کے کرتادھرتااورحکام آزادبن کرہندوستان میں اپنی من مانی حکومت کرتے رہے۔چونکہ کمپنی کے دورحکومت میں انگریز افسران ہندوستانیوں کے ساتھ نوکروں اورغلاموں جیسابرتاؤ کرتے تھے۔ہندوستانیوں کوحقیروذلیل نگاہوں سے دیکھتے تھے ،ان پرطرح طرح کاظلم وستم کرتے تھے،اس لئے عام ہندوستانیوں کادل کمپنی راج سے بہت پک گیاتھاجس کے نتیجے میں سب سے پہلے میرٹھ،چھاؤنی میں ہندوستانی فوج نے16؍رمضان المبارک1273ھ مطابق 10؍مئی 1857ئکواتوارکے دن ایسٹ انڈیاحکومت کے خلاف بغاوت کااعلان کیااورانگریز فوجی افسروں کوقتل کیا،پھرباغی فوج میرٹھ سے راتوں رات چل کرصبح سویرے 17؍رمضان المبارک1273ھ مطابق 11؍مئی 1857ء کودہلی پہنچی اورانگریز حکمرانوں کوموت کے گھاٹ اتارکرسراج الدین بہادرشاہ ظفرکی بادشاہت اورحکومت کااعلان کیا۔میرٹھ اوردہلی کی طرح یوپی کے دوسرے اضلاع بریلی،کانپور،جھانسی،لکھنؤ،گورکھپور،اعظم گڑھ وغیرہ میں بھی بغاوت کی آگ مکمل طورسے پھیل گئی۔جگہ جگہ انگریز حکام وافسران مارڈالے گئے۔کئی ایک ضلع سے کمپنی کاراج مکمل ختم ہوگیا۔انہوں نے اپنے خطاب کے اخیرمیں کہاکہ انقلاب 1857ء میںعلماء کرام نے مذہبی فریضہ کے طورپرانگریزوں کے خلاف جہادکے فتاویٰ جاری کئے اورعملی طورپربھی جنگ میں شریک ہوکرمجاہدین کے حوصلے بڑھائے اورانقلابیوں کی بھرپورقیادت کی جن میںمولاناسیداحمدشاہ مدراسی کانام سب سے نمایاہے جواپنے پیرومرشدمحراب شاہ قلندرگوالیاری کے حکم پرتقریباً1846ء سے انگریزوں کے خلاف مہم چلارہے تھے۔دیگرمشہورعلمائے انقلاب 1857ء میں چندسربرآوردہ حضرات کے نام یہ ہیں:۔مفتی صدرالدین آزردہ دہلوی،علامہ مولانافضل حق خیرآبادی،مولانا فیض احمدبدایونی،مولاناکفایت علی کافیؔ مرادآبادی،مولاناوہاج الدین مرادآبادی،مفتی عنایت احمدکاکوروی،مولانارحمت اللہ کیرانوی،مولاناڈاکٹروزیرخان اکبرآبادی،مولاناامام بخش صہبانی دہلوی۔تاریخ انقلاب پرلکھی گئی کتابوں کے عام اندازہ کے مطابق لگ بھگ پندرہ ہزار(15000) علماء کرام جنگ آزادی 1857ء میں شہیدکئے گئے تھے۔واضح رہے کہ یہ محفل جامعہ حضرت بلال کے چیرمین مجاہداہلسنت ا لحاج اے امیرجان صاحب کی سرپرستی میںمنعقد ہوئی ۔اس موقع پرمولاناصدرعالم مصباحی،مولانااشتیاق صاحب،حافظ وقاری الیاس صاحب،حافظ غلام مصطفی صاحب،انعام اختر،ناہید،داؤد،محمدسبطین رضا،طلبائے جامعہ ودیگرشریک تھے۔اخیرمیںصلوٰۃ وسلام اورمولانامحبوب صاحب رضوی کی رقت انگیزدعاء پر اجلاس کاختتام ہوا۔
