یکجہتی ہی تہوارہے،مہم میں مذہبی پیشوائوں کا ایک جیسا پیغام،ہزاروں کی تعداد لوگوں کی شرکت، جلسے کو ناکام کرنےکی دوسری کوشش بھی ناکام


شیموگہ:۔آنےوالے دنوں میں میلادالنبی اورگنیش کے تہوارکے موقع پر شیموگہ میں امن کی بحالی اور یکجہتی کے پیغام کو عام کرنے کیلئے آج شام شہرمیں جلوس وجلسے کا انعقادکیاگیاتھا،جس کاعنوان یکجہتی ہی جشن ہے۔اس جلوس کاآغاز شیموگہ میڈیکل کالج کے احاطے سے ہوا،اس دوران مختلف ثقافتی و فنکاروں کی طرف سے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کو متحد کرنے کا پیغام دیاگیا۔قریب3 ہزار افراد پر مشتمل اس جلوس میں دوہزار فٹ ترنگا پرچم شیموگہ کے اہم راستوں سے ہوتاہوا بی ایچ روڈ پہنچا۔ ہمارے قدم امن کی طرف نامی تنظیم کی جانب سے منعقدہ اس ریالی میں مختلف مذاہب کے لوگ شریک رہے۔خصوصاًمختلف مذاہب کی خواتین اس ریالی میں شریک رہیں۔ریالی کے دوران امن وبھائی چارگی کیلئے نعرے بلند کرتے رہے۔اس ریالی کی قیادت تمام مذاہب کے مذہبی پیشوائوں نے کی اور یہ ریالی سائنس میدان پہنچ کر جلسے میں تبدیل ہوگئی۔اتحادکا پیغام دینے کیلئے بسواکیندراکے ڈاکٹر مرلو سداسوامی،یبکن کلمٹھ کے سوامی ڈاکٹر ملیکارجنا مرگا راجیندرسوامی،مرکزی سُنی جامع مسجد کے خطیب وامام مفتی عاقل رضا مصباحی،جماعت اسلامی ہند کے ریاستی جنرل سکریٹری مولانا حامد عمری،مدرسہ مظہر العلوم کے پرنسپال مفتی سید مجیب اُللہ قاسمی،مرکز سعدیٰ کے سرپرست مولانا عبدالطیف ثقافی،فادر سونیل روڈریگس موجود تھے۔انندپورکے بیکن کلمٹھ کے سوامی ڈاکٹر ملیکارجنا مرگا راجیندرسوامی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ مذاہب میں جو تہوارمنعقدکئے جاتے ہیں وہ زندگیوں میں خوشی لانے کیلئے ہوں نہ کہ دلوں میں دوریاں پیداکرنے کیلئے اسباب بنیں،ساری دنیا ایک گھر اور ایک خاندان کی طرح ہے،یہاں تمام کو مل کر زندگی بسرکرنے کی ضرورت ہے۔بھائی چارگی اور محبت کے پیغام کو عام کرنا ہے،تبھی زندگیوں میں امن وخوشی آئیگی۔فارد سونیل روڈریگس نے بات کرتے ہوئے کہاکہ الگ مذاہب،الگ ذاتیں،الگ روپ اور الگ رنگ یہ سب قدرت کانظام ہے،اس نظام میں تمام چیزیں یکساں نہیں ہوتی،جنگل میں الگ الگ پیڑ ہوتے ہیں،جانورہوتے ہیں،سمندرمیں الگ مچھلیاں ہوتی ہیں،باغات میں الگ پھول ہوتے ہیں،ان الگ الگ چیزوں سے خوبصورتی بڑھتی ہے ،لیکن تمام کو مل کر جینے کی اشد ضرورت ہے۔تمام مذاہب یکساں زندگی بسرکرنے کا پیغام دیتے ہیں،دلوں کو ملاکر رکھنے کا درس دیتے ہیں،اس کیلئے تعلیم کا ہونابھی ضروری ہے،جب انسان میں علم اور تہذیب کی کمی آتی ہے،تبھی حالات بگڑتے ہیں۔مولانا عبدالطیف ثقافی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ ساری ریاست میں گنیش کا تہوار اور میلادالنبی کے جشن کو لیکر شیموگہ کی طرف دیکھاجارہاہے،امن کے ذریعے سےلوگوں میں جو غلط پیغام ہے اُسے دورکرنے کی ضرورت ہے،دونوں مذاہب کے جلوسوں سارے ملک کیلئے ایک مثال بن کر سامنے آئے۔آج سماج کو اچھاپیغام دینےوالوں کی ضرورت ہے۔تمام مذہبی پروگراموں میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بُلا کر امن کا پیغام دینے کی ضرورت ہے،تعلیم سے ہی ہماری جہالت دورہوسکتی ہے۔آنےوالے دنوں میں شہرمیں امن بحال رکھاجائے اور شرپسندوں کے حوصلوں کو پست کیاجائے۔بھارت نے چندریان کو چاندپر بھیجا،اس مشن میں صرف ہندونہیں تھے نہ ہی صرف مسلمان تھے اور نہ ہی عیسائی تھے بلکہ تمام مذاہب کے لوگ اس مشن کو کامیاب بنایاہے۔اس موقع پرمفتی عاقل رضا مصباحی نے اپنے معنی خیز خطاب میں کہاکہ آج کا یہ جلسہ وجلوس اس بات کا پیغام ہے کہ ہم تمام امن چاہتے ہیں،ہم سب امن کی بات کرنےوالے ہیں،اسی سے بھارت کی ترقی و فلاح وبہبودی ہوگی۔ہم سب کہتے ہیں کہ ہمارا ملک وشواگروبنے،لیکن وشواگروبننے کیلئے ملک میں امن وبھائی چارگی ضروری ہے،نہ کہ لڑائی جھگڑے اور تشددسے یہ ممکن نہیں ہے۔جس طرح سےاسٹیج پر تمام مذاہب کے لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہیں،یہی حقیقی ہندوستان ہے۔اگر بھارت میں سب مل کر رہینگے تو بھارت کو وشواگروبننے سے کوئی روک سکتا۔جو لوگ نفرتیں پھیلاناچاہتے ہیں،ہم سب کو ان کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا،نفرت کرنےکی بات کرنےوالے بہت کم لوگ ہیں،جبکہ اکثریت اتحاد واتفاق سے رہنےوالوں کی ہے۔ہمارے آئین کی تمہید نہایت خوبصورت ہے،اس تمہید کو صر ف زبان سے پڑھنانہیں ہے بلکہ اسے دل سے مان کر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔قرآن میں اللہ نے فرمایاکہ کسی کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے ساتھ ناانصافی کرنے لگو،عدل کرو،انصاف کرو،جو لوگ فساد کرتے ہیں انہیں اللہ پسندنہیں کرتا،انسانی اقدار کو پامال نہ کیاجائے۔جملہ طورپر آج امن کیلئےمنعقدہ جلسے وجلوس کا کامیاب انعقاد رہا۔اس پروگرام کے انعقادمیں اڈوکیٹ شریپال،رائیتر سنگھا کے صدر بسواراجپا،صحافی محمد لیاقت ،صحافی مدثرراحمد ،کرن کمار،محمد وثیق،ڈی ایس یس کے گرومورتی،محمدرفیع قادری،محمد حُسین،سالیڈریٹی یوتھ مومنٹ کے صدرمحمد سہیل ساگر،محمد اسماعیل،فادر روشن پنٹووغیرہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔جملہ طورپرجو ٹیم ورک ہوا اس کی ستائش کی گئی ۔اس موقع پر ضلع انتظامیہ کی جانب سے سُنی جامع مسجدکے صدرمنورپاشاہ اور ہندومہاسبھا گنپتی کمیٹی کے صدردتتو کوٹےکو تہنیت پیش کی گئی۔واضح ہوکہ گزشتہ سال بھی شیموگہ میں امن وامان کی بحالی کیلئے ہمارے قدم امن کی طرف نام سے ایک مہم چلائی گئی تھی،اس مہم کوناکام کرنے کیلئے فرقہ پرستوں کی طرف سے کوششیں ہوئی تھیں،اس باربھی کئی لوگوں نے اس مہم کو ناکام کرنے کیلئے سازشیں کی،بعض نے یہ کہاکہ اس وقت کانگریس حکومت ہے اور اس طرح کا پروگرام کرنے سے کانگریس حکومت پرہی سوالات اٹھیں گے۔اس طرح کی کئی کوششیں ہوئی جو ناکام ہوئی۔
