شرالکوپہ:سرکاری پی یو کالج سے اردو ہٹانے کی کوشش;  ایس آئی او شرالکوپہ کی بروقت مداخلت سے اردو بحال

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شرالکوپہ:۔یہاں کی گورنمنٹ گرلز پی یو کالج جس میں پچھلے 20 سالوں سے طالبات اردو کو اردو زبان کے طور پر پڑھتے ا رہے ہیں  اور یہ شہر کی ایک مشہور کالج ہے، پچھلے 10 سالوں میں تقریباً 670 طالبات نے یہاں سے اردو زبان اول کے طور پر پڑھائی کی ہے، مگر پچھلی بی جےپی حکومت نے ایک ہدایتی مسودہ تمام پی یو سی کالجز کو جاری کیا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جس کالج میں منظور شدہ عہدہ نہیں ہوگا وہاں پر اس زبان کی پڑھائی کے لئے  داخلہ نہیں لیا جاسکتا۔ رواں سال 2023-24 میں شرالکپہ کی اس کالج میں 41 طالبات نے اردو کو زبان اول کے طور پر چنا اور داخلہ لیا۔ پچھلے تین3 ماہ سے یہ اردو میں تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے، مگر اچانک اس وقت جب کہ مڈٹرم امتحان شروع ہونے والاتھا یہ کہا گیا کہ حکومت کا جو ہدایتی مسودہ ہے اس لحاظ سے اردو میں تعلیم ناممکن ہے لہذا اردو کو ترک کر کے دوسری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے طالبات پر دباؤ ڈالاگیا۔ جیسے ہی یہ اطلاع اسٹوڈنٹس اسلامک ارگنائزیشن شرالکپہ کو ملی توایس آئی اونے فوراً کالج کے پرنسپل اور DDPU شیموگہ سے رابطہ کیا اور اس مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگر یہاں سے کوئی خاطر خواں رد عمل نہیں ملا توایس آئی او کی ٹیم نے وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کو 13 ستمبر کو ملاقات کی اور عرضداشت پیش کی پھر دوبارہ 25 ستمبر کو وزیر تعلیم سے ملاقات کی گئی اور 03 اکتوبر کوایس آئی او کرناٹک کے تعلیمی سیکرٹری محمد پیر لٹگیری نے ڈائریکٹر پی یو ڈیپارٹمنٹ بنگلور سے ملاقات کرتے ہوئے اس مسئلے کو فوری حل کرنے کی پرزور مانگ کی۔  اس پوری کوشش کے نتیجے میں بالاخر اردو بحال ہوئی اور بچوں کو مڈ ٹرم امتحان بھی اردو میں لکھانے کیلئےڈائریکٹر کی ہدایت پر DDPU نے رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس موقع پر ایس آئی او شرالکپہ کے مقامی صدر عتیق الرحمن، سیکرٹری فسیح الدین اور محمد صدیق، نے وزیر تعلیم مدھو بنگارپّا کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی تمام طالبات اور والدین کا شکریہ ادا کیا،اس پوری کوشش میں یس ائی وہ کا ساتھ دینے والے لیکچر زکی احمد خان، سالڈیریٹی کے صدر محمد اصف،کونسلر مدثر احمد، محمد اسلم کا بھی شکریہ ادا کیا۔