فلسطینی مجاہدین نے کیااسرائیل پر حملہ؛5000 راکٹ حملوں سے دہلا اسرائیل

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
اب تک 40 اسرائیلی اور198 فلسطینی ہلاک ؛مودی نے کہایہ ہے دہشت گردانہ حملہ، ہم اس کی مذمت کرتےہیں!
غزہ:۔فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے تین شہروں پر راکٹ حملے کیے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کی صبح تقریباً 8 بجے دارالحکومت تل ابیب، سڈروٹ، اشکیلون سمیت 7 شہروں پر راکٹ فائر کیے گئے۔ یہ راکٹ رہائشی عمارتوں پر گرے ہیں۔ 5 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل پر 5 ہزار راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے 2200 راکٹ فائر کیے گئے۔ئمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہاں اسرائیل کی فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ فوج نے اپنے فوجیوں کیلئے ‘جنگ کے لیے تیاری’ کا الرٹ جاری کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے حماس کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔یروشلم پوسٹ کے مطابق حماس کے جنگجوؤں نے کئی قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔حماس نے کہاکہ یہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا بدلہ ہے۔حماس کے فوجی کمانڈر محمد دیف نے کہاکہ جاری آپریشن کو الاقصیٰ سیلاب کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اسرائیل کی طرف سے یروشلم میں مسجد الاقصی کی بے حرمتی کا بدلہ ہے۔ دراصل، اسرائیلی پولیس نے اپریل 2023 میں مسجد اقصیٰ پر گرینیڈ پھینکا تھا ۔ حملےسے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیںجس میں حماس کے جنگجو سڑکوں پر گھومتے نظر آرہےہیں۔حماس نے اسرائیل پر کئی وجوہات کی بنا پر حملے کیے ہیں، جن کی بنیاد تاریخی، سیاسی اور مذہبی محاذوں پر ہے۔ حماس فلسطینی علاقوں بالخصوص مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتی ہے۔ اسرائیل حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اسی لیے اسرائیل نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔اسرائیل نے حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کے دعوے کے بعد غزہ میں فضائی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 198 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ فلسطین کی وزارت صحت نے بتایا کہ شام 4 بج کر 20 تک ’198 افراد کے شہید اور ایک ہزار 610 کے زخمی‘ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے حملے میں40 افراد ہلاک اور 545 سے زائد زخمی ہو گئے۔ میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی میڈیکل سروس نے مرنے والوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 22 افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہو چکے ہیں اور مزید سینکڑوں مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔ القسام بریگیڈ نے 35 اسرائیلی فوجیوں کو پکڑ لیا ہے۔ادھر اسرائیلی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حماس کے حملوں میں 545 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔ حماس کی جانب سے جہاں ایک طرف ہزاروں راکٹ غزہ کی پٹی پر فائر کیے گئے وہیں مسلح افراد بھی شہر میں داخل ہو گئے۔سرکاری نیوز ایجنسی وفا نے فلسطینی صدر محمود عباس کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے ہفتے کے روز کہا کہ فلسطینی عوام کو "آباد کاروں اور قابض فوجیوں کی دہشت گردی” کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔انہوں نے یہ بات راملہ میں فلسطینی اتھارٹی کے متعدد اعلیٰ حکام کے ساتھ منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس میں کہی۔وہیں دوسری جانب بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی نے اسرائیل پر حماس کے ذریعہ کیے گئے حملے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل میں دہشت گردانہ حملوں کی خبر سے گہرا صدمہ لگا ہے۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں بے قصور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، ہم اس مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں۔‘‘وزیر اعظم مودی کے اس موقف پر سوشیل میڈیاپر شدیدردِ عمل دیکھاجارہاہے،جس میں یہ سوال اٹھایاجارہاہے کہ جس وقت منی پورمیں حملے ہوئے اس دوران وزیر اعظم نریندرمودی منی پورکی عوام کے ساتھ کیوں نہیں کھڑے ہوئے تھے،جبکہ فلسطین اپنے حق کیلئے اور اپنی زمین کیلئے اسرائیل کو نشانہ بنارہاہے،تو وزیر اعظم مودی اسرائیل کی طرف کیوں جاکر کھڑے ہوگئے؟۔