از:۔پروفیسر مشتاق احمد ایس ملا، ہبلی۔9902672038

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم تیسری جماعت کے طالب علم تھے ۔ایک دن ہیڈ ماسٹر صاحب نے ہمارا تعارف کلاس کے نئے ٹیچر سے کروایا جن کا حالیہ دنوں میں یہ پہلا تقرر تھا۔طلباء کے تئیں موصوف کے مربّیانہ برتاؤ نے ہمیں بہت جلد ان کا گرویدہ بنالیا ۔ ہمیں ان کا پورا نام تو معلوم نہ تھا ۔ ہم توبس انہیں ’ملا جناب‘ کہا کرتے تھے۔
ہم اولڈ ہبلی کے علاقہ قصاب محلہ میں واقع سرکاری اردو مدرسہ کے طالب علم تھے۔ اسکول کے بلکل قریب موجود ایک چال میں ملاجناب نے اپنے قیام کے لئے ایک کمرہ کرایہ پر لے رکھا تھا۔ میرے ساتھ ساتھ ہم جماعتوں کا ایک گروپ بھی اپنے ٹیچر سے کافی مانوس اور متاثر تھا۔ کیونکہ ان کا اپنے طلباء کے تئیں برتاؤ و محبت سے لبریز شفیق باپ یا سرپرست جیسا ہواکرتا تھا۔ موصوف ہمیں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ آدابِ زندگی سے بھی روشناس کرایا کرتے تھے۔
ہمار ا اسکول صبح کی شفٹ میں ہواکرتا تھا اس لئے ہم اسکول جانے سے قبل ان کے کمرے پر پہنچتے، قطار میں لگے چال کے مکینوں میں ہم بھی شامل ہوجاتے اور ہمارے استاد کیلئے ضرورت بھر پانی لے آتے اور اکثر کمرے کی صفائی بھی کر دیتے جس کے بعد اسکول کے لئے ہماری روانگی ہوتی۔ہم جماعتوں کی اس اجتماعی کارکردگی میں ہمیشہ میں پیش پیش رہتا۔ ان سے خصوصی انسیت کے سبب ان کی یہ تھوڑی بہت خدمت کرکے مجھے ایک طرح کی طمانیت کا احساس ہوتا تھا اور میرا دل کہتا تھا کہ میں ان سے یگانگت اور انسیت کے معاملہ میں دیگر طلباء پر سبقت لئے ہوئے ہوں۔ بحرحال اسکول میں ہمارے مربی استاد کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہوتا۔ سن 60ء کے آخری دہے تک کلاس ٹیچر ہی تمام مضامین پڑھایا کرتے تھے بعد ازاں محکمۂ تعلیمات کی جانب سے ہونے والی تبدلی کے نتیجہ میں ہر مضمون کے لئے علاحدہ سے استادوں کا نظم کیا گیا ۔
آج کے اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں پر نئے سرے سے ’لائف اسکلس‘ کہلائے جانے والے مختصر مدتی ورکشاپ میں کالج کے طلباء کیلئے کمیونکیشن اور لائف اسکلس کا نظم کیا جاتا ہے جہاں رجوع ہونے والے طلباء سے فیس کے نام پر اچھی خاصی رقم بٹوری جاتی ہے تو مجھے بے ساختہ ہمارے استا دکا طرزِ تعلیم یاد آجاتا۔ کیونکہ اسکول کے اوقات ختم ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں بلامعاوضہ طلباء کو ٹیوشن دیتے ۔انہیں تو بس اپنے طلباء کی پڑھائی اور ان کی تربیت کا ایک جنون سا تھا ۔
ٹیوشن کیلئے جب ہم ان کے کمرے میں پہنچتے تو میری نگاہ سیاہ گاؤن میں ملبوس ہاتھ میں کنوکیشن سرٹفکیٹ لئے دیوار پر لگی ان کی فوٹو پر پڑتی۔ سال بھر بلاناغہ میں اس فوٹو کو دیکھتا رہا کرتا۔ آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں وہ فوٹو میرے تصور میں اب بھی موجود ہے۔ اسکول سے کسی دن کی غیر حاضری گویا اس دن ٹیچر کی رفاقت اور شفقت سے محرومی ہوتی ا س لئے تیسری جماعت کے تعلیمی سال میں ایک دن بھی میں غیر حاضر نہ رہا۔
ایک بار یوں ہوا کہ ہم تیسری جماعت کے طلباء اسکول کے پلے گراؤنڈ میں والی بال کھیل رہے تھے تو دوسرے ڈیویژن کے طلباء نے دخل اندازی کی جس کی وجہ سے کھیل رک گیا اور دونوں ڈویژنوں کے چلے تنازع کے بعد ہم نے طئے کیا کہ معاملہ اپنے اپنے ٹیچر ز کے پاس لے جائیں۔ ہمارے استاد کی اصول پسندی اور اپنے طلباء کے تئیں اپنائیت کا نمونہ یہ رہا کہ انہوںنے تنازع کی مکمل جانکاری لینے کے بعد ہمیں حق بجانب قراردیا اور دوسرے ڈویژن کے استاد سے کہا کہ وہ اپنے طلباء میں ڈسپلن کے تعلق سے توجہ فرمائیں۔ مگر وہ جناب اپنے طلباء کی حمایت میں لگے رہے تو بات بڑھتے بڑھتے جھگڑے تک پہنچ گئی اور انہیں بچوں کی طرح دونوں ایک دوسرے کا گریبان پکڑے دیکھ کر میں مبہوت ہوگیا۔اس واقعہ نے میرے استاد کی محبت میں مزید اضافہ کردیا ۔ میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ کوئی ٹیچر اپنے طلباء کے لئے ایک شفیق باپ کی طرح نظرآئے گا اور اپنے طلباء کے لئے دوسرے ٹیچر سے ہاتھا پائی کے مرحلہ تک جا پہنچے گا۔
یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ تیسری جماعت کا تعلیمی سال ختم ہونے پر ہمارے استاد کا کسی اور مقام پر تبادلہ ہوگیا۔ اپنی کم سنی کے باعث ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ تبادلہ کیا ہوتا ہے اور ہم یہ جاننے سے بھی قاصر رہے کہ وہ اب کہاں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ہم سے دور تو ہوگئے مگر ہمارے ساتھ گزرا ہوا ان کا ایک سالہ دورِ شفقت اور ان کا خلوص ہمارے دلوں پر انمٹ نقوش ثبت کرگیا۔ پچاس سال سے زائد زمانہ بیت گیا تاہم ان کی یاد ایک کبھی نہ بجھنے والی چنگاری کی طرح ہمیشہ میرے ذہن میں سلگتی رہی۔ مجھے پرائمری کے بعد ہائی اسکول، کالج اور پروفیشنل تعلیم کے ہر موڈ پر ان کی یاد ستاتی اور ان سے ملاقات کی تمنا پائے رکھی اس چنگاری کو وقت مزید ہوا دیتا گزرتا رہا۔نصف صدی سے زائد زمانہ بیت گیا اور ان سے ملنے کی تڑپ والی چنگاری انگارے بن کر میرے وجود کو گرمائے رہی۔ میں نے متعدد بار کوشش کی کہ پتہ تو چلے کہ آخر ہمارے شفیق استاد ہیں کہاں؟ مگر ہر کوشش کا نتیجہ لا حاصل رہا۔
تعلیمی فراغت کے بعد میں درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہوگیا۔ اپنی مصروفیات کے باوجود بھی مجھے اکثر ان کا وہ فوٹو یاد آتا رہتا جس میں وہ سیاہ گاؤن پہنے ہاتھ میں کنوکیشن سرٹفکیٹ لئے کھڑے ہوئے تھے جسے دیکھنا میرا روز کا معمول ہوگیا تھا۔ اتنا طویل زمانہ بیت جانے کے باوجود موصوف کو دیکھنے اور ان سے ملنے کی صرف آرزو نہ تھی بلکہ ایک ختم نہ ہونے والی تلاش، ایک مضطرب جستجو تھی۔
تین سال قبل پتہ چلا کہ ہبلی سے صرف پچیس کلومیٹر کی دوری پر وہ اپنے آبائی گاؤں ’تڑس‘ میں وظیفہ یاب زندگی گزاررہے ہیں۔ اس دل خوش کن اطلاع کے ملتے ہی بلاکسی توقف کے میں اپنے ایک قریبی دوست کو ساتھ لئے تڑس کے لئے روانہ ہوا ۔ البتہ میں اس خوشی کے موقع پر گفٹ پاکٹ لینا نہیں بھولا ۔ وہاں ایک مقامی ٹیلر کی دکان سے ملی اطلاع پر میں بڑی بے قراری کے عالم میں ان کے مکان پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ موصوف اپنے کھیت میں ہیں۔ بحرحال ان کے کسی رشتہ دار نے کھیت تک ہماری رہنمائی کی۔
مہینہ ساون کا تھا۔ کھیتوں میں چارسو ہریالی ہی ہریالی دکھائی دے رہی تھی۔ چلتی ہوئی پروائی سے ہونے والی ہلکی سے سرسراہٹ ایک طرح کی نغمگی بکھیر رہی تھی اور یوں میری شہر کی مشینی زندگی سے اکتائی حیات کو دیہات کا یہ پُر فضا ماحول بہت اچھا لگا اور ایک سرور سا مجھے اپنی روح میں اترتا محسوس ہورہا تھا۔ اور اپنے شفیق استاد سے ملاقات کا قریب ہوتا جارہا لمحہ میری بے قرارروح اور معمول سے بڑھی دل کی دھڑکن کو ایک عجیب طرح کا پر مسرت احساس بخش رہا تھا۔ نیز مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں اب بھی وہی تیسری جماعت کا طالب علم ہوں اور میری سماعت استاد کی لی جارہی کلاس کے ہر لفظ کو اپنے ذہن میں محفوظ کررہی ہے۔
ہمارے ساتھ آئے ہوئے شخص نے سامنے کے کھیت میں ایک درخت سے ٹیک لگائے بیٹھے کافی لمبی سفید داڑھی والے معمر شخص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہی آپ کے استاد ہیں۔ جیسے ہی میری نظر اس انسانیت ساز شخصیت پر پڑی تو میرے سارے جسم میں ایک پُرکیف ارتعاش محسوس ہوا اور میں بے خودی کے عالم میں آگے بڑھتا رہا۔ میرے دوست اور ساتھ آیا ہوا وہ شخص مجھ سے کچھ قدم پیچھے چلے آرہے تھے۔ قریب سے دیکھا تو لگا کہ گزرتے وقت نے استاد محترم کے چہرے پر جھریوں کا اضافہ کردیا ہے اور سفید داڑھی کافی لمبی تھی باوجود اس کے میں نے ان کے چہرے میں پنہاں اس فوٹو کے نقوش دیکھ لئے تھے جسے بچپن میں روزانہ دیکھا کرتا تھا۔
سلام و مصافحہ کے بعد میں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میں آپ کا شاگرد ہوں اور ان دنوں ایک ٹیکنکل ادارہ کا پرنسپل ہوں اور ساتھ آئے ہوئے میرے قریبی دوست ہیں۔ مجھے اپنی تیسری جماعت میں آپ کی شاگردگی نصیب ہوئی تھی ۔ نام اور جماعت کے حوالے سے بھی وہ مجھے پہنچان نہ پائے ۔ اور پہنچانتے بھی کیسے؟ مجھ جیسے سینکڑوں طلباء کو انہوںے نے علم کی دولت سے مالا مال کرتے ہوئے اپنی سروس پوری کی تھی۔
میں نے دیکھا کہ میرے نام کو دہراتے ہوئے وہ اپنی یادداشت پر زور دے رہے تھے مگر انہیں یاد نہیں آرہا ہے کہ میںکون ہوں؟ ان کی اس کیفیت کو بھانپ کر میں نے انہیں مزید یاد دلایا کہ ہبلی کے قصاب محلہ میں واقع سرکاری اردو مدرسہ میں آپ کا ایک سال تک شاگرد رہا ہوں جہاں آپ ہمارے کلاس ٹیچر رہے ہیں۔قصاب محلہ مدرسہ کے حوالے پر وہ چونک سے گئے ۔ ان کی یاداشتوں کو یکجا کرنے کی کوشش اور چونکنا ایک فطری عمل تھا ۔ کیونکہ موصوف کا وہ پہلا تقرر تھا اور ہر شخص اپنے پہلے تقرر کو کبھی فراموش نہیں کرتا۔ میں نے انہیں مزید بتایا کہ اسکول کے قریب آپ اپنے کمرے میں ہمیں ٹیوشن بھی دیا کرتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ان کی دھندلائی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہورہا ہے۔ اورہ اپنے یاد آرہے ماضی کے حوالے پر کچھ جذباتی ہوگئے تھے۔اورجب میں نے انہیں بتایا کہ ایک دن کھیل کے تعلق سے ہماری جماعت کی حمایت میں وہ دوسرے ڈویژن کے ٹیچر سے لڑ پڑے تھے تو وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے کہنے لگے’’تم نے دیکھا تھا نا کہ میں نے پہلے تو قاضی جناب کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ اپنے طلباء کو ڈسپلن سکھائیں۔ میری بات ماننے کی بجائے وہ اپنے ڈویژن کے بچوں کی حمایت میں الجھتے ہی گئے تو میری قوت برداشت ختم ہوگئی ، تو میں نے ان کی جم کر پٹائی کی تھی۔‘ ‘ اب وہ پوری طرح تیسری کلاس کے ٹیچر دکھائی دینے لگے۔ انہوںنے کہا کہ وہ میرا نیا نیا تقرر تھا ، تجربہ کم اور جوش زیادہ تھا اور پھر آپ لوگوں کی محبت جسکی وجہ سے وہ اضطراری فعل سرزد ہوگیا۔ مجھے اس حد تک نہیں جانا چاہئے تھا۔
دورانِ گفتگو دو تین بار استادِ محترم نے میرے تڑس آنے کا سبب پوچھا۔ غالباََ انہیں گمان رہا ہوگا کہ میں اپنے کسی ذاتی کام سے تڑس آیا ہوں اور چلتے چلتے ان سے ملاقات کررہا ہوں جبکہ میں انہیں ہر بار بتارہا تھا کہ محض آپ سے ملاقات کے لئے آیا ہوں ۔ میں انہیں کیسے یقین دلاتا کہ ان سے ملنے کی آرزو تھی جو ہمیشہ ان کی تلاش کیلئے جستجو کے جذبہ کو آمادہ کرتی رہی۔ مجھے اپنے نادرالوجود استاد کی تلاش کیوں نہ ہوتی جنہوںنے اپنے کمسن طلباء کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ شریف النفس انسان بنانے کی کوشش کی تھی اور ایک شفیق باپ کا سا پیار بھی دیا تھا ۔
’’پچاس سال سے زائد طویل زمانہ پر محیط ملاقات کے لئے بڑھتی رہی تشنگی آپ سے ملنے کے بعد سیراب ہوئی ہے۔‘‘ یہ کہتے کہتے میں کچھ جذباتی ہوگیا تھا جبکہ مجھ سے بڑھ کر میرے استاد جذباتی ہوگئے تھے۔ اسی جذباتی کیفیت میں انہوںنے مجھے گلے لگا لیا تو مجھے یوں لگا کہ ان کے ناتواں جسم کی باقی ماندہ شریف النفس حرارت میرے وجود میں تحلیل ہوتی جارہی ہے ۔ کچھ دیر بعد جب طبیعت سنبھلی تو کہا کہ ہمارے زمانہ میں استاد اور شاگرد کے مابین جو شفقت، اپنائیت، احترام حتیٰ کہ ایک طرح کا تقدس پایا جاتا تھا ،تا ہم زندگی کی بدلتی قدروں کے ساتھ ان صفات پر بھی بتدریج مادہ پرستی غالب آتی گئی تو یہ انسانی جوہر عنقا ہونے لگا۔ ایسے دل شکن ماحول میں آپ محض مجھ سے ملنے کیلئے چلے آئے تو مجھے بے انتہا خوشی ہورہی ہے۔
اپنے استاد کی ڈھیر ساری دعائیں لے کر میں اپنے دوست کے ساتھ واپسی کیلئے اٹھا تو وہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ کھیتوں سے ہوتے ہوئے پگڈنڈی تک پہنچے۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ ساتھ چلنے کی مزید زحمت نہ اٹھائیں۔ الوداعی مصافحہ کے بعد ہم دونوں آبدیدہ ہوکر جدا ہوئے۔ آنے والے اگلے موڈ پر میں نے پلٹ کر دیکھا تو موصوف اب تک وہیں کھڑے ہوئے تھے ۔ میرے رک کر اور پلٹ کر دیکھنے پر انہوںنے ہاتھ ہلا ہلا کر مجھے رخصت کیا۔
واپسی پر محسوس ہورہا تھا کہ سالہاسال کی بے قراری آج سکون سے ہمکنار ہوئی ہے۔ ذہن پر چھائی مسحور کن کیفیت کے دوران جب میں نے سوچنا شروع کیا تو یہی لگا کہ ہماری اس مادہ پرستانہ ماحول کی مشینی زندگی نے انسان کو اس کی فطری زندگی سے دور کردیا ہے۔اگر انسانی زندگی میں احساسات اور جذبات کے لئے کوئی جگہ نہیں تو زندگی بے رنگ ہوجاتی ہے مانوں جیسے اس کا کوئی ذائقہ ہی نہ ہو ، جبکہ اس جہانِ فانی میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف بخشا ہے۔
