شیموگہ:۔یکم اکتوبرکو شیموگہ کے راگی گڈے میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ تشددکے سلسلے میں تقریباً تین درجن نوجوان جیلوں میں بندہیں،ان نوجوانوں کے اہل خانہ کی بدحالی کا یہ عالم ہے کہ کئی گھروں میں راشن پانی کیلئے بھی خواتین پریشان ہیں،جبکہ جیلوں میں بند نوجوانوں کی حالت اُس سےزیادہ خراب ہے۔اس پُرتشدد واردات کے دوران گرفتارکئے گئے نوجوانوں کو اس وقت بلاری کی جیل میں بند رکھاگیاہے،باوجود اس کے ان نوجوانوں کے ساتھ ظلم کا سلسلہ ابھی بھی جاری رہنے کی بات سامنے آرہی ہے ، وہیں دوسری جانب راگی گڈے سے نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ دو دنوں میں پولیس نے مزید نوجوانوں کو گرفتارکیاہے اور ان کو گرفتارکرنے کے بعد ان پر تھرڈ ڈگری کا ستم ڈھایا جارہا ہے ۔اس درمیان سوال یہ اٹھ رہاہے کہ الیکشن کے وقت ووٹ دلوانے کیلئے مسلسل نشستوں کا اہتمام کرنےوالے عمائدین شہر اور ذمہ داروں کے گروہ کہاں چلے گئے ہیں؟ کیا ان کی ذمہ داری محض ایک مخصوص امیدوار کو ووٹ دلوانے تک ہی محدود ہے ؟ ۔ قریب 20 دن کا عرصہ ہوچکاہے،اس درمیان نوجوانوں کو ضمانت دلوانے کیلئے پیش رفت نہیں ہوئی ہے،وہیں ان کے اہل خانہ کو امداد پہنچانے کیلئے کسی کی جانب سے بھی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔قریب چالیس گھروں میں حالات کا جائزہ لینےوا لا تک کوئی نہیں ہے ۔ ایسے میں گھروں کی خواتین لاچار ہوچکی ہیں اوران کا سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم لوگوں کو اس طرح سے تڑپنا پڑیگا۔ ضرور ت اس بات کی ہے کہ ذمہ داران اس سمت میں پیش رفت کرتے ہوئے ان خواتین کی مددکیلئے آگے آئیں اور جیلوں میں بند نوجوانوں کی فوری رہائی کیلئے انتظامات کریں۔
