عوامی نمائندوں کے خلاف فوجداری مقدمات پر سپریم کورٹ کا موقف سخت

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی: سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کے خلاف فوجداری مقدمات کے سلسلے میں سخت موقف اپنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کے خلاف فوجداری مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لئے رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔عدالت نے کہا کہ اس کے لیے ٹرائل کورٹس کے لیے یکساں رہنما اصول بنانا مشکل ہوگا۔ تاہم سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ وہ ایسے مقدمات کی موثر نگرانی اور نمٹانے کے لیے ازخود مقدمات درج کریں۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی ایم پی اور ایم ایل اے کے خلاف زیر التوا مقدمات کو جلد ختم کرنے کے لیے ایک خصوصی ایم پی/ایم ایل اے کورٹ تشکیل دی ہے۔ ان عدالتوں میں اب بھی ایسے 65 مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالتوں میں بھی کئی سالوں سے مقدمات زیر التوا ہیں۔ ایسی صورتحال میں خصوصی عدالت کی تشکیل کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس وقت ملک کی 9 ریاستوں میں ایسی 10 خصوصی عدالتیں کام کر رہی ہیں۔سپریم کورٹ نے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور ڈسٹرکٹ ججز سے کہا ہے کہ وہ ان مقدمات کو نمٹانے کے لیے وقتاً فوقتاً رپورٹ لیتے رہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایم پی/ایم ایل اے کے خلاف زیر التوا مقدمات کی تفصیلات اس ویب سائٹ پر مسلسل اپ ڈیٹ کی جانی چاہئیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ان مقدمات کی سماعت کے بعد یہ معلوم کیا جائے کہ یہ مقدمات کیوں زیر التوا ہیں۔ ان مقدمات کو نمٹانے میں تاخیر کیوں؟ عدالت نے کہا کہ معلوم کیا جائے کہ ان مقدمات کو نمٹانے میں کس سطح پر رکاوٹیں ہیں۔