ملت تعلیمی ادارے میں یومِ اُردو کا انعقاد; اُرود کا زوال نا ممکن شمال میں امیر خسرو تو جنوب میں بندہ نواز نے اس کی آبیاری کی ہے:ڈاکٹر سی سید خلیل الرحمٰن

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔ شہر کے باشاہ نگر میں ملت ادارہ جات کے ڈاکٹر ذاکر حُسین فرسٹ گریڈ و یس کے اے ہیچ پی یوکالج کے اشتراک سے ملت آڈیٹوریم میں ملت تعلیمی ادارہ جات کے بانی سید سیف اُللہ کی صدارت میں ایک اجلاس بنام  یومِ اُرود کا  عرشیہ خانم  پی یو طالبہ سالِ دوم کے  ذریعہ تلاؤت، کلام ِ پاک،بی کام سال ِدوم  طالب علم قلندرخان کے ذریعہ  نعت، رسولﷺ پیش کرنے کے بعد پودے کو پانی دے کر افتتاح  کیاگیا ،عرشیہ فردوس زیڈ آر فیکلٹی شعبہء اُردو ڈاکٹر ذاکر حُسین فرسٹ گریڈ کالج نے مہمانوں کا استقبال کیا،افتتاحی خطاب کرتے ہوئے سید سیف اُللہ نے کہا کہ اُرود سے دوری بہت سارے نقصانا ت کا باعث ہے،افسوس کی بات ہے اُردو اساتذہ اپنے بچوں کو اُرود سے دور اور انگریزی تعلیم کی طرف مائل کر رہے ہیں ، اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ انگریزی ،کنڑا و دیگر زبانوں سے اپنی نسل کو روشناس نا کراؤ ،کرائیں ضرور کرائیں مگر اُرود سے قریب ضرور رہیں رکھیں اُرود سے وہی لوگ قریب ہیں جن کا تعلق دین سے قر یب ہے افسوس کہ جن کا تعلق دین سے دور ہے وہی لوگ اُردو سے دور ہیں ،اُردو زبان میں موجودہ دور میں دین کا سارہ مواد ہے اُرود کے علاوہ ہمیں دین سمجھنے کوئی اور زبان تو آتی نہیں اور آتی بھی ہے تو دین کا سارا مواد اُس زبان میں قال قال ہے،شاعر ِمشرق علامہ اقبال کی اُرود زبان کے تعین بڑی قربانیاں رہی،یہی وجہ ہے آج اُنہی کے نام اور پیدائش کے دن کو یومِ اُردو کے طور پر منایا جاتا ہے،ملت تعلیمی ادارے کی منتظمہ اور اساتذہ کی محنت کا صلہ کہ داونگیرے یونیورسٹی میں اس سا ل ’25’ طلباء شعبہ اُرود میں داخلہ لئے  ،اُرود زبان اپنے محب کو تہذیب و تمدن کے ساتھ تربیت بھی  سکھلاتی  ہے والدین و اساتذہ کی جانب سے بھی تربیت ضروری ہے تعلیم کے ساتھ تربیت ضروری ہے تربیت کے بغیر تعلیم سانپ پالنے کے مصداق ہے،اُرود کیلئے آج تحریک کی ضرورت ہے جو عنقریب ملت تعلیمی ادارے کی جانب سے ایک بڑے پیمانے پر شروع کی جائے گی،جس کے ذریعہ نئی نسل  میں اُرود کی روح پھونکنے کا کام کیا جائے گا،سی آر نصیر احمد نے جو اس اجلاس کے مدعو خاص رہے اور اس موقع پر ملت تعلیمی ادارہ جات کی جانب سے اُنہیں بطورِ صدر مولانا آزاد اسوسیشن کو کنڑا راجیوتسوا اعزاز حاصل ہونے پر تہنیت  سے نوازہ گیااپنی تقریر میں کہا کہ ملک کی پانچ عظیم ہستیاں جن کی پیدائش نومبر میں ہوئی ساری دُنیاں میں اُن کی ایک چھاپ ہے جن میں شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید،مولانا ابوالکلام آزاد ،پنڈت جواہر لا نہرو، اندرا گاندھی ،اور علامہ اقبال ،یہ پانچ ہستیاں نومبر کے مہینے میں پیدا ہوئیں اور یہ سب ہندوستان ہی میں پیداہوئے مگر  سوشیل میڈیا پر اِ نکے خلاف جو کچھ ہورہا ہے اس سے اِن کی عزت کو ذرہ برابر فرق پڑنے والا نہیں ،سر سید احمد خان کو تو ہم نے دیکھا نہیں ہمارے سامنے سید سیف اُللہ ہیں اِن کو دیکھ لینا سر سید احمد خان کو دیکھنے کے برابر ہے کہ اس شہر میں اِنہوں نے ایک تعلیمی ادارہ قائم کرتے ہوئے جو کام کیا اس ادارے سے آج تک تقریبا دو لاکھ سے زاید طلباء علم حاصل کرتے ہوئے بہت سارے سرکاری نوکریوں بھی ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر بھی فائز ہیں ،اور میں خود اس ادارے کا طالب علم ہوں ، وظیفہ یاب لکچرار خلیل احمد نے کہا ہاتھ میں چڑیا رکھ کر بندوق لے کر شکار کرنے چلے جانا عقلمندی نہیں اُرود سے سب کچھ حاصل ہوسکتا ہے بشرطیکہ مخلصانہ جدوجہد ہو ورنہ  چڑیہ ہاتھ میں رکھ کربندوق لے کر چڑیا کے شکار کو نکلنے کے مصداق ہے،محترمہ خوشتری بیگم پرنسپل ڈاکٹر ذاکر حُسین فرسٹ گریڈ کالیج نے مہمان خصوصی ڈاکٹر سید خلیل الرحمنٰ  کا تعارف پیش کیا ، ڈاکٹر سید خلیل الرحمنٰ سابق چیرمن شعبہ اُرود کوویمپو یونیورسٹی نے  اُرود زبان و ادب پر کلیدی خطاب کیا اور کہا کہ اُرود زبان کا بیج اولیا اللہ نے ڈالا ہے  شمال میں امیر خسرو تو دکن میں حضرت خواجہ بندہ نواز نے اس زبان کی آبیاری کی اس کا زوال ناممکن ہے ہمیں کوشش کرنا اور نئی نسل کو اس سے قریب کرنے کی کوشش کرنا ہے ،اُرود تعلیم  حاصل کرنے سے آج ہر جگہ سرکاری سطح پر بھی مواقعے بے شمار ہیں ،اس موقع پر ملت ادارہ جات میں خدمت انجام دیتے ہوئے اُردو میں پی ہیچ ڈی مکمل کرنے والے خوشتر ی بیگم پرنسپل ڈاکٹر ذاکر حُسین فرسٹ گریڈ کالیج ،محترمہ یاسمین بانو فیکلٹی شعبہ اُردو ڈاکٹر ذاکر حُسین فرسٹ گریڈ کالیج،ڈاکتر سید عبدالقادر جیلانی کو پی ہیچ ڈی کی تکمیل پر اور ملت ادارے میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے  جن طلباء نے سرکاری نوکریاں حاصل کی جن میں سید غوث ، مُجیب الرحمنٰ،سُمیرہ،محمد شجاعت اُللہ ،مطاہیر علی بیگ،فیروز خان،فاضل احمد ،ابراہیم دوڈ گٹہ، خدیجہ ،ریحانہ خاتون ،اسداُللہ خان،سید عرفان ، اضغری بانو ،فصیحہ پروین،وسیم خان،محمد صابر حُسین،قرت اُلنساء ،سلمہ بانو  ،سیرت اُلنساء وغیرہ کو تہنیت سے نوازہ گیا ،اجلاس کی نظامت شکیل احمد طاہر نے کی ،اجلاس میں ملت تعلیمی ادارہ جات کے منتظم سید علی ،پرنسپل یس کے اے ہیچ پی یو کالیج ڈاکڑ ذولقرنین ،یس کے اے ہیچ کامپوزٹ پی یو کالیج نائب پرنسپل ذاکر حُسین ،پرنسپل ملت آئی ٹی آئی سید ضوفشان علی ،ملت پرائیمری اسکول میر معلم شڑکپا،ملت پرائمری انگلش میڈیم میر معلمہء محترمہ آسیہ بانو تدریس و غیر تدریسی عملہ کے علاوہ عبدالجبار صاحب مہمان خصوصی شریک رہے۔