ہبلی:۔’’ ماہرین تعلیم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچہ کی ابتدائی تعلیم اس کی اپنی مادری زبان میں ہو، اور یہ بات اپنی جگہ حقیقت بھی ہے کہ بچہ کے علمی جوہر اس کے اپنی مادری زبان میں کھلتے ہیں اور دوسرا یہ کہ ہماری ثقافت، تہذیب و تمدن کی شناخت مادری زبان میں پنہاں ہے ۔ اور کلیدی بات یہ ہے کہ مادری زبان کا کوئی نعم البدل نہیں ۔چنانچہ اس کو فروغ دینا، اس زبان کا تحفظ اور پروان چڑھانا اپنی مادری زبان کی وراثت کو قائم و محفوظ رکھتا ہے ۔‘‘ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایم ایس ملا ریٹائرڈ پرنسپال ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ہبلی نے ہمدرد ایجوکیشنل اینڈ چارٹیبل ٹرسٹ ،ہبلی کی جانب سے گورنمنٹ اسکول نمبر۔1، گارڈن پیٹ ہبلی میں منعقدہ حبیب شاہ اور سید غوث ملا میموریل ایوارڈ فنکشن میں طلباء و اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، جو حالیہ ایس ایس ایل سی امتحان میں نمایاں مارکس حاصل کرنے والے طلباء جو مختلف ہائی اسکولوں سے نمائندگی کررہے تھے، ان کے اعزاز میں رکھا گیا تھا۔مزید انہوں نےکہا کہ ہم اس زبان کو کبھی نہیں بھولتے جو ہماری مائیں نے ہمیں سکھائی ہوتی ہیں۔ مادری زبان کے ساتھ ہمارے اس لازوال رشتے کی ان گنت تخلیقی، نفسیاتی، ذہنی ، جذباتی اور جبلتی جہتیں ہیں۔ ہر سال اکیس فروری کو دنیا بھر میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن تعلیمی، ثقافتی، علمی اور لسانی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عالمی سطح پر مادری زبانوںمیں ابتدائی تعلیم کے فروغ پر زور دیا جارہا ہے۔ مداری زبان میں ابتدائی تعلیم نہ صرف بچوں کے سماجی مہارتوں کو بہتر کرتی ہے بلکہ تعلیمی کارکردگی میںبہتری اور اسکول میں کامیابی کی کلید سمجھا جاتا ہے ۔ کیونکہ لسانی مہارتوں پر ہونے والی تحقیق بچوں میں ایک سے زائد زبانوں کے سیکھنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ بچے میں کئی زبانیں سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ لیکن زبانوں پر اس کی گرفت تب مضبوط ہوتی ہے اگر اس کی بنیادی تعلیم کا ذریعہ مادری زبان ہو۔ اور مزید بتایا کہ طلباء نصابی کتب پر تکیہ نہ کریں بلکہ ساتھ ساتھ رسالے اور اخبارات کا مطالعہ بھی کریں جس سے نہ صرف حالات حاضرہ سے آگاہی ہوگی بلکہ زبان پہ گرفت بھی مضبوط ہوگی ۔ انہوںنے اساتذہ سے درخواست کی کہ وہ لازماََ اردو اخبارات کا مطالعہ کریں اور طلباء کو بھی اخبار پڑھنے کی ترغیب دیں۔اور اس بات پر بھی زور دیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں انگریزی زبان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ طلباء ا ردو زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی اور کنڑا زبان پہ بھی خصوصی توجہ دیں۔ اور والدین سے درخواست کی جن کے بچے انگلش اور کنڑا میڈیم سے تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ اپنے بچوں کو گھروں میں اردو رسم الخط سکھائیں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہماری تہذیبی، ثقافتی تمدن کا اثاثہ اردو زبان میں ہے۔ اور کسی بھی زبان کو زندہ اور بچائے رکھنے کیلئے اس زبان کا رسم الخط کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔پروفیسر ایم ایس ملا نے کہا کہ زبان کا تعلق روزی سے جوڑنا ایک غلط فہمی ہے۔ روزگار علمی صلاحیتوں اور ہنر کی بنیاد پہ ملتا ہے۔اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے باوجود گھرکے بالکل منسلک کنڑا اسکول کی بجائے قریباََ ایک کلومیٹر فاصلہ پر واقع اردو میڈیم اسکول میں داخلہ دلوایا۔ ہم تمام پانچوں بھائیوں نے اردو میڈیم اسکول سے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر جمیل احمد میڈیسن میں پی ایچ ڈی کے بعد ساؤتھ افریقہ سے فیلوشپ کی سند حاصل کی اور کراڈ کالج آف فارمیسی میں پروفیسر ہیں ۔ دوسرے بھائی ڈاکٹر احمد کستوربا میڈیکل کالج سے یم بی بی ایس کے بعد پیڈراٹکس کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں انگلینڈ سے ایم آر سی پی ایچ کا امتحان پاس کیا اور اس وقت سعودی گورنمنٹ ہاسپٹل میں میڈیکل آفیسر ہیں اور دو بھائی اپنا بزنس رکھتے ہیں۔ یہ اردو زبان کی بدولت ہمیں عزت و نصرت اور خوشحالی ملی۔اعزازی مہمان آئی اے کنتوجی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر اینگلور اردو ہائی اسکول نے کہا کہ ڈاکٹر جمیل احمد اپنے والدین کی یاد میں ہر سال میٹرک امتحان میں نمایاں مارکس حاصل کرنے والے طلباء و طالبات جن کا تعلق مختلف اسکولوں سے ہوتا ہے، ان طلباء کی ہمت افزائی کرتے ہیں اور انہیں ایوارڈس، سند اور مالی تعاون سے مدد کرتے ہیں۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے اور ایک طرح سے ملی تقاضا بھی ہے۔صدارتی خطاب میں ہمدرد ایجوکیشنل اینڈ چارٹیبل ٹرسٹ ہبلی کے چیرمین ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ٹرسٹ ہمیشہ اس بات کیلئے کوشاں رہا کہ تعلیمی میدان میں طلباء کا ڈراپ آؤٹ مزید نیچے نہ ہو ۔ اور ہونہار طلباء کو مزید افزائی کے لئے تہنیت پیش کی جاتی ہے تاکہ یہ قوم و ملت کے نونہال مزید ترقی کرتے جائیں اور اپنا ، قوم وملک کا نام روشن کرتے رہیں ۔ ٹرسٹ اپنی سی کوشش کررہا ہے ۔ امید کہ آنے والے سالوں میں اور لوگ اس سے جڑینگے اور یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے گا۔مزید ڈاکٹر جمیل احمد نے پروفیسر ایم ایس ملا ریٹائرڈ پرنسپال ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پالی ٹیکنک) ہبلی کی ستائش کی اور کہا کہ وہ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی اردو زبان کی محبت میں قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔آج کے اس دور میں پڑھا لکھا طبقہ جو معاشی طور پر کچھ مستحکم بھی نظر آتا ہے اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اسکولوں میں داخلہ دلوانا فخر محسوس کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں پروفیسر ایم ایس ملا نے اپنے چاروں بچوں کو اردو میڈیم سے تعلیم دلوائی، جو ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے۔ ان کے دو بیٹیاں سائنس میں پوسٹ گرائجویشن ہیں جبکہ دو بیٹے انجینئرنگ میں ڈپلوما کئے ہوئے ہیں۔ آپ کی اردو سے محبت کا عملہ ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔پروگرام کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا۔ مہمانوں کا تعارف اور پروگرام کی نظامت عرشیہ خاتون نے کیا۔ شکریہ اسکول ٹیچرذکیہ خواص نے ادا کیا ۔ پروگرام کے انتظامی امور میں شعیب احمد اور ادریس احمد نے نمایاں رول انجام دیا۔ پروگرام میں اسکو ل کے ہیڈ ماسٹر بسوراج کے کُرڈگی، اسکول کے ایس ڈی ایم سی چیرمین ایس اے پٹویگر، اساتذہ طلباء و طالبات اور والدین شریک رہے۔دوران پروگرام پروفیسر ایم ایس ملا ریٹائرڈ پرنسپال اور آئی اے کنتوجی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر اینگلو اردو اسکول کو ان کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے ٹرسٹ کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔
