شیموگہ پارلیمانی انتخابات کیلئےدعویداربہت ،لیکن طاقتورکون؟

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔پارلیمانی انتخابات کیلئے تیاریاں ملک بھرمیں جاری ہیں،کئی پارلیمانی حلقوں میں اُمیدوار اپنے طورپر تیاری کررہےہیں،اسی درمیان کرناٹک کے شیموگہ پارلیمانی حلقے سے آنےوالے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان دعویداریاں چل رہی ہیں۔بی جے پی سے موجودہ رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرا ہی اُمیدوارہونگے یہ بات طئے ہے،لیکن کانگریس پارٹی سے کون امیدوارہوگا اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوپارہاہے۔سال2019 میں ہونےوالے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی سے امیدوار بی وائی راگھویندرانے7لاکھ28 ہزار902 ووٹ حاصل کئے تھے،جبکہ جے ڈی ایس اور کانگریس سے مشترکہ طورپر نمائندگی کرنےوالے جے ڈی ایس کے امیدوار مدھوبنگارپانے5 لاکھ6ہزار212 ووٹ حاصل کئے تھے۔اسی طرح سے سال2014 کے پارلیمانی انتخابات میں بی ایس یڈی یورپانے6 لاکھ5654 ووٹ حاصل کئے تھے،جبکہ کانگریس کے اُمیدوارمنجوناتھ بھنڈاری نےیڈی یورپاکے بالمقابل2لاکھ42ہزار 846 ووٹ حاصل کئے تھے۔ان انتخابات میں جے ڈی ایس کے امیدوار گیتا شیوراج کمارنے بھی2 لاکھ40 ہزار533 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔گذشتہ تینوں انتخابات کا جائزہ لیاجائے تو شیموگہ پارلیمانی حلقے میں بی جے پی کا پلڑا بھاری رہاہے اور کانگریس پارٹی کے امیدوار جیت کے قریب بھی نہیں جاسکے۔حالانکہ2009 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے امیدواربی وائی راگھویندرا اور کانگریس کےاُمیدوارآنجہانی ایس بنگارپاکے درمیان مقابلہ سخت رہا،بنگارپانے2009 کے الیکشن میں4 لاکھ29 ہزار776 ووٹ حاصل کئے تھے، جبکہ راگھویندرانے4 لاکھ82 ہزار470 ووٹ حاصل کرتے ہوئے پہلی دفعہ اپنی جیت درج کی تھی۔اس طرح سے دیکھاجائے تو اس دفعہ بھی پارلیمانی انتخابات کیلئے بی جے پی کے امیدوار بی وائی راگھویندراسے مقابلہ کرنے کیلئے ان کے برابرکاہی امیدوارمیدان میں اترتاہے تو کچھ حدتک کامیابی کی اُمیدکی جاسکتی ہے۔فی الوقت شیموگہ میں جے ڈی ایس سے کوئی مضبوط دعویدارنہیں ہے،البتہ یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ کے بی پرسنناکمارپارلیمانی انتخابات کیلئے جے ڈی ایس سے اپنی قسمت آزماسکتے ہیں ، لیکن ان کیلئے اس الیکشن میں سراُٹھانا خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔جبکہ کانگریس سے ڈی سی سی صدر ایچ ایس سندریش،سابق ریاستی وزیر کیمانے رتناکر، ساگراسمبلی حلقے کے رکن اسمبلی بیلوروگوپال کرشنانے پارلیمانی انتخابات کیلئے اپنی دعویداری کا اعلان کردیا ہے ، وہیں دوسری جانب ریاستی وزیر مدھوبنگارپاکو شیموگہ پارلیمانی حلقے سے امیدواربنایا جاسکتاہے ،خود مدھوبنگارپابھی پارلیمانی انتخابات میں اپنی قسمت آزمانے کیلئے تیاری کررہے ہیں۔ان تمام باتوں کے درمیان ایک اور نام آرہاہےجسےلیکر ابھی تک تصویرصاف نہیں ہے۔شیموگہ ضلع کے سیاسی حلقے میں یہ بات بازگشت کررہی ہے کہ بنگارپا کے بڑے بیٹے کماربنگارپاجو اس وقت بی جے پی میں ہیں اُنہیں کانگریس میں لاکر پارلیمانی انتخابات کیلئے تیارکیاجاسکے،چونکہ پارلیمانی حلقے میں ایڈیگا سماج سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت تیسرے نمبرپر ہے ، جبکہ پہلے نمبر پر لنگایت،دوسرےنمبرپرمسلمان ہیں،اُس کے بعد ایس سی ایس ٹی اور دیگر ذاتوں کے ووٹ ہیں۔اگر لنگایت سماج کے ووٹ بی جے پی کے ساتھ جاتے ہیں تو ایڈیگا اورمسلمانوں کے علاوہ دوسرے طبقات کے ووٹ کوایک کرتے ہوئے کانگریس کے امیدوارکو جیت دلوانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔پارلیمانی حلقے میں ساگر،سورب اوربیندور میں ایڈیگا سماج کے لوگ زیادہ ہیں اور کماربنگارپابھی ایڈیگا سماج سے ہیں اس وجہ سے اس فارمولے کو تیارکرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔کانگریس سے اُمیدوارکوئی بھی ہو ،لیکن راگھویندراکا مقابلہ کرنے کیلئے طاقتورہوناضروری ہے۔