شیموگہ:۔ضلع میں بیشترسرکاری اسکولوں کی حالت بہت ہی خراب ہے،ان میں سے ارد و اسکولوں کی حالت اوربھی زیادہ خراب ہے۔حالانکہ ریاستی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اسکولوں کی مرمت،طلباء کیلئے فرنیچر اور معقول سہولیات فراہم کررہی ہے،لیکن ان میں سے کئی دعوے صرف کاغذی ہوتے ہیں، جبکہ حقیقت میں سرکاری اسکولوں کی حالت بہت ہی خراب ہے،اردو اسکولوں کی بات کی جائے تو یہاں کی حالت اور بھی ناقابلِ بیان ہے،حکومتوں کے متعصبانہ رویہ اوراردو اسکولوں کی آبادکاری کیلئے مناسب نمائندگی بھی نہیں ہے،ایسے میں وہاں کے بچوں کیلئے مسائل کے انبار سامنے ہیں۔حالانکہ کئی اسکولوں میں چالیس پچاس بچوں کیلئے چارپانچ اساتذہ موجودہیں اور ان اساتذہ کے ذمہ میں چھ سات بچوں کو درس دیناہے،اس ذمہ داری کو بھی بہت کم اسکولوں میں نبھایاجارہاہے،کہیں ٹیچرس تاخیر سے آتے ہیں تو کہیں جلدی چلے جاتے ہیں ۔اسکول کی معمولی ضرورتوں کیلئے بھی اساتذہ غیر سرکاری ادارے،سماجی کارکنان یا مالدار طبقے سے رجوع کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔چھوٹی سی چھوٹی چیزبھی لانی ہوتو یہ اساتذہ یاتو سرکاری امداد کا انتظارکرتے ہیں یاپھر کسی تعائون کرنےوالے کے سامنے درخواست کرتے ہیں،جبکہ آج کے دورمیں حکومت اساتذہ کو بہترین تنخواہ دے رہی ہے،ابتدائی مرحلے میں ایک ٹیچرکی تنخواہ40-35 ہزار روپئے ہوتی ہے،جبکہ اُسی اسکول میں ایک لاکھ روپئے کی تنخواہ لینےوالے اساتذہ موجودہیں،مگریہ اساتذہ اپنے جیب میں ہاتھ ڈالنے کی زحمت گوارانہیں کرتے۔ایسی ہی ایک مثال سرکاری اردو اسکول کی ہے ،جنہوں نے گذشتہ سال طلباء کیلئے کھانے کی تھالیوں کیلئے ایک نجی ادارے سے رابطہ کیاتھا ، اسکول میں صرف60 بچے تھے اوروہاں پانچ اساتذہ خدمات پر مامورتھے۔ان پانچوں اساتذہ کی ماہانہ تنخواہ کو جمع کیا جائے تو لگ بھگ3 لاکھ80 ہزار روپئے ہے،جبکہ تھالیوں کی قیمت زیادہ سے زیادہ3تا4 ہزار روپئے ہوگی۔اس کیلئے بھی اساتذہ اپنی طرف سے تعائون کرنے کیلئے تیارنہیں ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا اساتذہ میں صرف درس و تدریس کی ذمہ داری ہے ؟ کیا انسانیت کی بنیادپریہ لوگ سرکاری اسکولوں کے بچوں کی امدادنہیں کرسکتے؟اگر بچے پھٹے کپڑے پہن کر آتے ہیں تو کیا اپنی طرف سے ان بچوں کا تعائون نہیں کرسکتے ؟ ۔ حالانکہ سرکاری اسکولوں میں آج بھی کچھ اساتذہ ایسے بھی ہیں جو نہ صرف بچوں کو درس وتدریس دیتے ہیں بلکہ ان کی کفالت بھی کرتے ہیں،اس کے علاوہ ان بچوں کے اہل خانہ کو کوئی مسئلہ پیش آتاہے تو وہ اپنی طرف سے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے آگے آتے ہیں ۔ ہزاروں روپیوں کی تنخواہ چندسوروپئے ان بچوں پر خرچ کئے جاتے ہیں تو نہ صرف ان بچوں کا بھلا ہوگا ، بلکہ یہ ثواب جاریہ کا سبب بھی ہوگا۔حالانکہ تمام سرکاری اردو اسکولوں میں خدمات انجام دے رہے اساتذہ مسلمان ہیں اور ان مسلم اساتذہ کا مذہب غریب،مسکین اور یتیموں کی کفالت کرنے کاحکم دیتا ہے،لیکن ایسالگتاہے کہ معاشرے میں اب صرف بَیل اوربِل( Bell & Bill)کے فارمولے پر کام کرنےوالے ہی اساتذہ ہیں،ان کے نزدیک انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔حالانکہ ان کے اپنے بچے مہنگے اسکولوں و کالجوں میں زیر تعلیم ہیں،لیکن قوم کو غریب طبقہ جو ان کے ماتحت زیر تعلیم ہے،مگر اُن کی مددکرنے کیلئے یہ اساتذہ تیارنہیں ہیں۔
