اگر ہندوئوں کو ایک مانتے ہیں تو آر ایس ایس کا سربراہ دلت کو بنایاجائے:سدرامیانےآر ایس ایس کو دیا چیلنج

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی گولی ہٹی شیکھر کو آر ایس ایس کے دفترمیں داخلہ منع کئے جانے کی بات کو لیکر وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاہے کہ شودھر،دلتوں کو آر ایس ایس کے مراکزمیں داخلہ نہیں ہے،اُنہیں صرف آر ایس ایس کے دفاتر کے دروازوں پرکھڑاکیاجاتاہے اوروہیں سے جی حضوری کروائی جاتی ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیانے اپنے Xکائونٹ پر ا س سلسلے میں کہاہے کہ شودھر اور دلت آر ایس ایس کے مراکز میں داخل نہیں ہوسکتے،اس کیلئے بی جےپی کے سابق ایم ایل اے گولی ہٹی شیکھر کی جانب سے بی ایل سنتوش کو بھیجی گئی واٹس ایپ ریکارڈنگ ہی ثبوت ہے۔بی جے پی اور آر ایس ایس کھلے عام مسلمانوں کے خلاف ہی نہیں ہیں بلکہ وہ شودھر اور دلتوں کے خلاف بھی ہیں۔زبان سے ہندو سب ایک ہیں کا قول جاری ہے،لیکن وہ شودھر اور دلتوں کو ختم کرنے کیلئے اندورنی طورپر سازش رچ رہے ہیں۔گولی ہٹی شیکھر جیسے دلت لیڈروں کو بابا صاحب امبیڈکر کے افکار اور آئین ہی تحفظ فراہم کرسکتاہے نہ کہ سنگھ پریوارکے ساورکر اور گوالکر کے خیالات انہیں تحفظ فراہم کریگا،ایسے واقعات سے انہیں سبق لینے کی ضرورت ہے۔دستورکوعمل میں آئے سات عشرے بیت چکے ہیں،سماجی اور اقتصادی حالات بدل رہے ہیں،مزید کچھ سالوں تک ریزرویشن مہیاکرنے کے تعلق سے سوال اٹھانے والے آج گولی ہٹی شیکھر کی آبروکو پامال کررہے ہیں،اس کے ذمہ دارکون ہیں؟اسی وجہ سے میں نے پہلے ہی سینکڑوں دفعہ کہاہے اورکہتا روہونگاکہ جب تک مذاہب کے درمیان تعصب زندہ رہے گا،اُ س وقت ریزرویشن کا نظام باقی رہنا چاہیے۔تعصب کو ختم کرنے کیلئے ریزرویشن ایک مضبوط ہتھیار ہے ۔ مزید انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس کو وجودمیں آئے 98 سال بیت چکے ہیں،اگلے دو سالوں میں وہ 100سال مکمل کرنے جارہے ہیں،لیکن آج تک آر ایس ایس نے کسی بھی دلت یا پسماندہ طبقے کے شخص کو آر ایس ایس کا سرسنچالک یا اعلیٰ عہدے پر فائزنہیں کیاہے،ان سوالات پر سنگھ پریواراور بی جے پی میرے خلاف ہیں اور میرے خلاف جھوٹی باتیں گڑھ کر مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں،اب گولی ہٹی شیکھر کی جو توہین ہوئی ہے،اُس کا جواب کون دینگے؟۔اگر تمام ہندو ایک ہیں تو آر ایس ایس پہلے ایک دلت کو آر ایس ایس کا سرسنچالک بنائے،ہندو ایک ہیں کہہ کر ہندوئوں کو گمراہ نہ کریں۔