از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ایک طرف دنیا تیزی کے ساتھ ترقی کررہی ہے ، نوجوانوں کی بڑی تعداد اس ترقی یافتہ دنیا میں اپنے آپ کو ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور جن قوموں میں تعلیم کا کوئی تصور نہیں تھا وہ قومیں تعلیم یافتہ ہوکر نہ صرف اپنی زندگیوں کو سنوار رہے ہیں بلکہ اپنی ذات اور مذہب کو بھی پہچان دلارہے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی مذہب یا ملک کا سرمایہ ہیںاور نوجوانوں سے ہی تبدیلی کی امید کی جاتی ہے ۔ انہیں نوجوانوں سے تحریکیں اور انقلابات آئے ہیں لیکن قوم مسلم کے نوجوانوں کی بات کی جائے تو مسلمانوں کے نوجوانوں کا بڑا حصہ اس وقت اپنی حقیقی ذمہ داریوں کو سمجھنے سے قاصر ہوچکاہے اور زندگی کیا ہے ، کیاکرنے آئے ہیں اور کیا کررہے ہیں اس پر غور و فکر کرنے کی صلاحیت بھی ان سے ناپید ہوچکی ہے ۔ جن نوجوانوں کو آسمانوں پر اڑنے والے شاہین بننا چاہئے تھا وہ نوجوان چبوتروں کے کبوتر بنے ہوئے ہیں ۔ مسلم معاشرہ کچھ سال قبل تک تعلیم سے عاری تھا ، بنیادی تعلیم کے بعد مسلم نوجوان روزگار کی تلا ش میں نکل جاتےتھےاور کم عمری میں ہی وہ بڑی ذمہ داریوں کو نبھانے لگتے تھے لیکن آج حالات اسکے برعکس ہوچکے ہیں ، نوجوان اچھی تعلیم حاصل کرنے بعد بھی بیکاری کو ترجیح دے رہے ہیں ، اچھے کام اور اچھی تنخواہوں کی چاہت میں وہ اپنی عمر کا بڑا حصـہ ضائع کررہے ہیں اوراپنے مستقبل کو دائو پر لگارہے ہیں ۔ جن نوجوانوں کے پاس صلاحیتیں ہیں وہ خود اپنی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کے بجائے بڑی تنخواہوں کے انتظار میں ہیں جبکہ وہ اپنے کام کو شروع ہی کرنا نہیں چاہتے بلکہ بڑی تنخواہ کی خواہش میں چھوٹی تنخواہ والے کاموں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھ رہے ہیں ۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو 17 سے 25 سال تک کی عمر کے نوجوانوں نے سلطنتیں قائم کی ہیں ، کم عمر کے نوجوانوںنے کئی ممالک میں انقلابات لائے ہیں ۔ اگر اسلامی تاریخ کامطالعہ کیا جائے تو ایسے سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے آئیں گی جس میں بچپن سے نکل جوانی کی دہلیز میں قدم رکھتے ہوئے مسلمانوںنے تاریخ میں اپنا نام کیاہے ۔ دنیا میں جتنے بھی معروف اور کامیاب انسان گزرے ہیں انہوںنے اپنی جوانی کا صحیح استعمال کیاہے اور وہ اپنے بول بوتے پر آگے آئے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ کہ آج کے نوجوان 24 -25 سال کے ہوکر بھی اپنے گھروں کی دہلیز سے باہر نکلنا نہیں چاہتے ، نہ ہی اپنا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں ۔ باپ کا دلایا مہنگا فون ، گاڑی اور باپ کے پیسوں پر فیشن کرنا انکی زندگی کا حصہ بن چکاہے ۔ جس عمر میں انکے باپ نے شادی کی تھی اس عمر میں وہ باپ کمائی کے محتاج ہیں ۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کے علاوہ عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کی جو چاہ ہے وہ بھی انکی زندگیوں کو تباہ کرتی جارہی ہے ۔ نشہ انکے لئے فیشن بن چکاہے ، یہی نشہ انہیں کرائم کی دنیا کی طرف لے جارہاہے جس کی وجہ سے ساری قوم بدنام ہورہی ہے ۔ کرائم ریٹ میں مسلم نوجوان زیادہ ہیں ، جیلوں میں مسلم نوجوانوں کی تعداد اچھی خاصی ہے ۔ شادی کے بعد اختلافات کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمے مسلمانوں کے زیادہ ہیں ۔ طلاق خلع کی شرح میں اضافہ ہورہاہے ، مسلمانوں میں قابل نوجوانوں کی کمی مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی شرح میں اضافے کا سبب بن رہی ہے ۔ جو حالات اس وقت ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنے والے چند سالوں میں ایک ایسا طوفان مسلم قوم کو تباہ کرجائیگا جس سے باہر نکلنا مشکل ہی ناممکن ہوگا۔ ایسے میں مسلم نوجوانوں کو پازیٹیو سوچ کے ساتھ آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ شاہ رخ خان کہتاہے نا کہ ” امی جان کہتی ہیں کہ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا” ۔ ایسے ہی ہم کہہ رہے ہیں کہ پہلے کام پر نکلو ، چبوتروں کے کبوتر بننا چھوڑو، اپنی کمائی پر راج کرو۔ باپ کی کمائی سے امید نہ رکھو ۔ اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرو۔ پہلے کام کرو پھر بڑی تنخواہ کی امید کرو۔ چھوٹا کاروبار شروع کرو ، بڑے منافع کی توقع بعد میں کرو۔ امبانی ہو یا ادانی ، انکے باپ دادائوں نے چھوٹے سے ہی کام شروع کیا تھا اور اسی چھوٹے کام کو پروان چڑھانے میں انکے بچوں نے اہم کردار ادا کیاہے ۔ آج کے نوجوان کچھ کام کرینگے تو وہ ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھے گا پھر امبانی یا ادانی کی طرح سید و خان کا بیٹا بھی دنیا میں نام کریگا۔ اپنی قوم کا نام کریگا اور اپنی قوم کو ذلیل ہونے سے بچائیگا ۔
