حجاب کی منسوخی کا فیصلہ ابھی نہیں لیاگیاہے:سدرامیا کی تصدیق; حجاب کو لیکر بی جے پی لیڈران آگ بگولہ،میڈیا میں صبح وشام تک ہورہاہے چرچہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک میں سابقہ حکومت کی جانب سے عائد حجاب پر پابندی کے معاملے کو لیکر کل وزیر اعلیٰ سدرامیانے کہاتھاکہ ان کی حکومت میں حجاب کی پابندی ہٹادی گئی ہے ،اب طلباء حجاب پہن کر اسکول وکالج جاسکیں گے۔وزیر اعلیٰ سدرامیاکے اس فیصلے کےبعد جہاں مسلمانوں میں خوشی لہر دوڑگئی تھی اور وزیر اعلیٰ کی سدرامیا کی خوب واہ واہی ہورہی تھی،وہیں آج سدرامیانے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ حجاب کےفیصلے کی منسوخی کے تعلق سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں لیاگیاہے،اس سلسلے میں غوروفکرکیاجارہاہے،جلدہی اس معاملے میں فیصلہ کیاجائیگا۔وزیر اعلیٰ سدرامیاکے اعلان کے بعد ریاست بھرمیں بی جے پی لیڈران آگ بگولہ ہوچکے ہیں۔بی جے پی لیڈڑ سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے کرناٹک حکومت کے حجاب پر سے پابندی ہٹانے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اقلیتوں کو خوش کرنے کیلئےحجاب پر عائد پابندی کو منسوخ کیاگیاہے ، چونکہ وہ اقتدار میں ہیں، وہ سیاسی سرکس بنانا چاہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں یہ کب تک چلے گا۔ اس معاملے کو لے کر بی جے پی کی طرف سے کوئی مخالفت نہیں ہوگی۔ عوام آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس حکومت کو سبق سکھائیں گے۔‘‘یڈی یورپا نے کہا، ’’اسکولی بچوں کے لیے یکساں پالیسی کی ضرورت ہے، سی ایم سدارامیا نے اس کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ یڈی یورپانے سوال کیاکہ کس مسلم لیڈر نے ان سے حجاب پر پابندی واپس لینے کو کہا تھا؟۔وہیں بی جے پی کے ریاستی صدربی وائی وجیندرانے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہماری سابقہ حکومت نے اسکول وکالج اور یونیورسٹیوں میں حجاب کے پہننے کو ممنوع قرار دیا تھا،لیکن سدرامیا نے جو بیان دیاہے وہ طلباء کے درمیان منافرت پیداکرنے کا سبب بننےوالی بات ہے۔تعلیمی اداروں میں مذہبی لباس پہناکر طلباء کے دلوں میں نفرت پیداکی جارہی ہے،اسی طرح سے یتنال نے اپنے بیان میں کہاہے کہ اگر ریاستی حکومت مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دیتی ہے تو ہم بھی ہندو طلباء کو کیسری شال پہن کر اسکول کی جانے کی صلاح دیتے ہیں،وزیر اعلیٰ سدرامیااس بات سے لاعلم ہیں کہ سابقہ ریاستی حکومت نے کہیں بھی حجاب پر پابندی عائدنہیں کی تھی،بلکہ اسکولوں و کالجوں کایونیفارم پہننے کے احکامات جاری کئے تھے۔اسی طرح سے رینوکاچاریہ نے بھی حجاب پر عائدپابندی کو منسوخ کئے جانے کے فیصلے پر اپنی برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہندو طلباء وطالبات اسکولوں وکالجوں کو کیسری شال پہن کر جائیں،اُس وقت ریاستی حکومت نے طلباء پر جو فیصلہ صادرکیاتھا،اس پر کرناٹکا ہائی کورٹ نے بھی فیصلے کو درست قراردیاہے،اب اگرحجاب کو پہننے کی اجازت دی جاتی ہے تو ہمارے طلباء کیسری شال پہن کر اسکول جائینگے۔ریاست میں کانگریس کی حکومت نہیں بلکہ ٹیپوسلطان والی تغلق حکومت ہے ۔ کرناٹکا بی جے پی کےاپوزیشن لیڈر نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ جس وقت سے ریاست میں کانگریس حکومت اقتدارمیں آئی ہے،اُس وقت سے ریاست کا خزانہ خالی ہوچکاہے،ایسے میں مسلم ووٹروں کو خوش کرنے کیلئے سدرامیانے یہ فیصلہ لیاہے۔