کانگریس ہوگئی آر ایس ایس کے ساتھ؛کلڑکاپربھاکربھٹ کو نہیں کیاجائیگا گرفتار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے فرقہ پرستوں کی تائیدکرنے کی سمت میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہندوتوا فرقہ پرستوں کی پشت پناہی کی ہے۔مسلم خواتین کے بارے میں توہین آمیز بیان دینے والے کلڈکا پربھاکر بھٹ کے خلاف ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس درخواست کی سماعت کے دوران پربھاکر بھٹ کے سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی گئی شکایت ہے، ملزم پربھاکر بھٹ بوڑھے ہیں، بیماری میں مبتلاہیں،ایسے میں ان کی گرفتاری کا امکان ہے۔ اس لیے انکے خلاف عائد ایف آئی آر کومنسوخ کیاجائے۔دوسری جانب شکایت گزار کے وکیل ایس بالن نے اعتراض کرتے ہوئےعدالت کو بتایا کہ پربھاکربھٹ کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے۔اس نے مسلم خواتین کے تعلق سے نہایت گھناؤنا بیان دیا ہے جس میں کہاگیاکہ مسلم خواتین کاہر دوسرے دن ایک شوہر ہوتاہے،ان کا ایک ہی شوہر نہیں ہوتا۔ پربھاکر کے اس بیان سے معاشرے میں بدامنی پھیل رہی ہے۔ ہر طرف احتجاج ہو رہا ہے، ملزم ماضی میں بھی ایسی حرکت کر چکا ہے۔ اس لیے قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔ایڈوکیٹ ایس بالن نے شکایت گزارکی طرف سے دلیل دیتے ہوئے کہاکہ یہ معاملہ سنگین ہے اسلئے اسکے خلاف یو اے پی اے سمیت غداری کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ یہ وہ دہشت گرد ہیں جو معاشرے میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ اس طرح کی نفرت انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف سپریم کورٹ کئی فیصلے دے چکی ہے۔ اب ملزم سے مزید تفتیش کی جانی ہے۔ پولیس کی طرف سے لگائے گئے تمام سیکشن درست ہیں۔ اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ اس کے پیچھے فرقہ وارانہ فساد چل رہا ہے۔ لہذا یہ کوئی سادہ کیس نہیں ہے۔ انہوں نے کیس کی سنگینی کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ اس معاملے میں پربھاکر بھٹ کو گرفتار نہیں کیا جا رہا ہے۔ لہذا، مقدمے کی اگلی تاریخ دیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ حکومت ملزم کو گرفتار نہیں کررہی ہے اس لئے اس یف آئی آر کوروکنے کی ضرورت نہیں ہے، سماعت 9 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔ وہیں دوسری جانب کرناٹک کی کانگریس حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کی طرف سے خود حکومت کی جانب سے ملزم بنائے گئے کلڈکاپربھاکر کی تائید پر سخت مخالفت ہورہی ہے ۔ عوام کا سوال ہے کہ الیکشن سے پہلے کانگریس لیڈروں نے یہ اعلان کیا تھا کہ انکی حکومت آتے ہی کلڈکاپربھاکر کو گرفتار کیا جائے گا، لیکن اس بار مسلمانوں کے خلاف شدید توہین آمیز بیان پر بھی ریاستی حکومت نہ صرف آرایس ایس لیڈر پربھاکر کے خلاف کارروائی کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے بلکہ عدالت میں بھی پربھاکر کو گرفتار نہ کرنے کا حلف اٹھا رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ کہ آخر کانگریس کونسی سیکولرزم کی بات کررہی ہے اور کیوں ہندتواوادیوں کی پشت پناہی کررہی ہے؟۔ایک طرف سدرامیا آریس یس کو زہر قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب انکی ہی حکومت زہر پھیلانے والوں کے ساتھ کھڑی ہے اور بے چارے مسلمان کانگریس کو اپنا مسلک بناچکے ہیں۔