شکاری پور:۔اردو کی خدمت کیلئے مفلسی کی نہیں بلکہ مخلص کی ضرورت ہے،اردوکی ترقی وبقاء کیلئے اکادمی کا ہوناضروری نہیں ہے،بلکہ اکادمی کے بغیرہی بہت سارے کام کئے جاسکتے ہیں۔اس بات کااظہار کرناٹکا اردو اکادمی کے سابق چیرمین اور کرناٹکا چلڈرنس اکادمی کےچیرمین حافظ کرناٹکی نے کیاہے۔انہوں نے روزنامہ سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہاکہ اکادمی ہی اردو کاسرمایہ نہیں ہےیا اردوکی زندگی و جائیداد نہیں ہے،1977 میں یہ اکادمی قائم ہوئی ہے،اس کے بعد یہ اکادمی کرناٹکا میں کنڑا اینڈکلچرکےماتحت تھی،لیکن اس اکادمی کو میری موجودگی میں ہی محکمہ اقلیتی بہبودی کے ماتحت کیاگیا۔جب یہ ادارہ محکمہ اقلیتی بہبود کے ماتحت گیاتو20 لاکھ کے بجٹ کو بڑھا کر1 کروڑ روپئے تک پہنچایاتھا،لیکن حالیہ دنوں میں اس اکادمی کو پسماندگی کی طرف لےجایا گیا ہے ۔ نئی حکومت آنے کے بعد اُمید تھی کہ اکادمی تشکیل جلد ازجلد ہوگی،لیکن اب تک اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے،اس وقت اردواکادمی میں کچھ دھاندلیاں بھی ہورہی ہیں،رجسٹرارکے ماتحت ہی کچھ پروگرام عمل میں لائے جارہے ہیں،لیکن جس طرح سے اردواکادمی کا کام ہوناتھا وہ نہیں ہورہاہے،البتہ اکادمی کو چھوڑ کر کئی تنظیمیں ایسی بھی ہیں جو اردو کیلئے کام کررہی ہیں ۔ کرناٹک میں اردو کا کام کرنے والے بہت سے لوگ ہیں،اکادمی کو چھوڑکر بھی کئی لوگ کام کررہے ہیں۔علامہ اقبال ہویا غالب یہ تمام کسی اکادمی سے جڑے نہیں تھے،بلکہ وہ اپنے طورپر کام کرنے والوں میں سے تھے۔اکادمی کوئی بڑا ادارہ نہیں ہے ، اس کا منشاء صرف تین سطورمیں ہے۔کام کرنے کیلئےاکادمی سے جڑاہونا ضروری نہیں ہے، اپنی اپنی تنظیموں کے ذریعے سے اردو کیلئے کام کرنا چاہیے،میں اپنے چلڈرنس اکادمی کےذریعے سے کام کررہا ہو ں ، ہندوستان میں بہت سے لوگ اپنے طورپر کام کررہے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ آج 80 تا90 ہزارر وپئے کی پینشن لینےوالے،اچھی تنخواہ لینے والے اساتذہ بھی اردوکیلئے کام کرنے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔اردو کا کام کرنے کیلئے مفلس بننے کی ضرورت نہیں مخلص بننے کی ضرورت ہے۔انہوں نے نوجوانوں سے گذار ش کی ہے کہ وہ اردوکی بقاء ترقی کیلئے آگے آئیں۔چھوٹے چھوٹے پیمانے پر اردو کا کام کیاجاسکتا ہے،آج مشاعرے بھی دھندہ بن چکے ہیں،غالب ہویا اقبال پیسوں کیلئے شاعری نہیں کرتے تھے،لیکن آج شعروشاعری کیلئے باقاعدہ پیسے وصولے جارہے ہیں ۔ آج مشاعروں میں شمال کےشعراء کو ہی عزت دی جاتی ہے،جبکہ شاعری جنوب سے شمال کی طرف گئی ہے۔لاکھ دیڑھ لاکھ روپئے دیکر شعراء کوبلایا جاتاہے ، اس سے صرف تفریح ہورہی ہے،نہ کہ اردوکی ترقی کاکام ہورہا ہے ، بعض تنظیمیں ایسے شعراء کوبلاکر چندے کا دھندہ بناچکے ہیں،لاکھوں روپیوں کے مشاعرے تو منعقدکئے جاتے ہیں،لیکن وہاں تعداد درجن دو درجن لوگوں کی ہوتی ہے،ان حالات کو دیکھ کر بہت دُکھ ہوتاہے۔آنےوالے دنوں میں اکادمیوں کا نظام بھی ختم ہوسکتاہے۔حافظ کرناٹکی نے مزیدکہاکہ آج کل نعت اکادمی،حمد اکادمی نہ جانے کون کونسی اکادمیاں بنائی جارہی ہیں،لیکن نام کے برابر کام نہیں ہورہاہے،محض وعدے کئے جارہے ہیں، تنظیم ہویا انجمن بنانےوالوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ اپنے چمڑی اور دمڑی کی قربانی دیں،خوامخواہ اعلانات نہ کریں۔بڑے بڑے مقاصدکا اعلان کیاجاتاہے،لیکن ان وعدوں کی تکمیل نہیں ہوتی، قوم کے اندرکام کرناہوتو قربانی دینےوالوں کوذمہ داری دینے کی ضرورت ہے،جس کاپیٹ اور جس کی پیٹھ صحیح ہو وہی قوم کا کام کرسکتاہے۔حافظ کرناٹکی نے اردوکی ترقی وبقاء کیلئے اپنی رائے دیتےہوئے کہاکہ خدمت کیلئے نفع ونقصان دونوں کیلئے تیارہوناچاہیے،اسکول و مدارس میں اردو کی ترقی کیلئے پیش رفت کی جائے۔ بچوں میں اردوکی محبت پیداکریں،مادری زبان سے لگائو پیداکرنے کی ضرورت ہے،اخبارات کے ذریعے سے ہی مسلسل بیداری پیش کرنے کی ضرورت ہے،جو بچے اردومیں تعلیم حاصل کررہے ہیں،اُن کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔انگریزی پڑھنےوالے بچے کامیاب ہونگے یہ یقینی نہیں ہے ، اس لئے سب سے پہلے اردو پر توجہ دیں۔اخبارات اردو کتابیں خریدنے کیلئے،انجمنیں کم کریں،کام زیادہ کریں،مساجدکی کمیٹیاں بھی اس تعلق سے توجہ دیں۔
