
شیموگہ:۔ ضلع کے شکاری پو ر تعلقہ کےشرالکوپہ میں موجودحضرت سید شاہد علی شاہ قادری ؒاور سید میر منصورعلی شاہ قادریؒ کے عرس کاانعقادکرنے کے معاملےکولیکردو کمیٹیوں کےدرمیان شدید اختلافات پیداہوئے ہیں اوران اختلافات کی بنیاد ضلع وقف افسرکو بتایاگیاہے۔شرالکوپہ میں ہر سال دونوں درگاہوں کا عرس بڑے پیمانے پر منعقدکیا جا تا ہے ، اس عرس کی ذمہ داری گذشتہ پندرہ سالوں سے حضرت احمد رضا کمیٹی کے ذمہ تھی اور یہ کمیٹی انجمن کی نگرانی میں عرس کاانعقادکرتی رہی ہے۔گذشتہ سال اسی معاملے کو لیکر اعتراضات ہوئے تھے،جس کے بعد ضلع وقف افسرکو لیکر اس معاملے کو حل کرنے کی پیش رفت ہوئی تھی۔اس دوران ضلع وقف افسر سید مہتاب سرورنے عرس کے انعقادکرنےکی ذمہ داری حضرت خواجہ بندہ نواز کمیٹی کو سونپی ہے،اسی بات کو لیکر ٹائون میں دو کمیٹیوں کے درمیان اختلافات پیداہوئے۔حضرت احمد رضا کمیٹی کا کہنا ہے ،کہ وقف آفیسرنے اپنی من مانی کرتے ہوئے شہرکے مساجدکے ذمہ داروں اور انجمن کمیٹی کے ذمہ داروں کو مطلع کئےبغیرہی چندلوگوں کے دستخط لیتے ہوئے عرس کی ذمہ داری حضرت احمد رضا کمیٹی کو سونپی ہے جوناقابل قبول ہے۔اس تنازعہ کو لیکر آج شیموگہ وقف بورڈدفترپر شرالکوپہ کے سو زائدلوگ پہنچے ، جس میں دونوں کمیٹیوں کے لوگ موجودتھے،اس کے علاوہ شرالکوپہ کی جامع مسجد کمیٹی،حضرت بلال مسجدکمیٹی،نورانی مسجدکمیٹی،درگاہ مسجدکمیٹی اورمدینہ مسجدکمیٹی کے صدور واراکین بھی شریک تھے۔ضلع وقف افسر اور شیموگہ جامع مسجد کمیٹی اور شاہ علیم دیوان درگاہ کمیٹی کے اراکین اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ دونوں کمیٹیوں کے درمیان اختلافات زورپکڑگئے اور بات ہاتھاپائی تک چلی گئی۔حضرت احمد رضا کمیٹی کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ وقف افسر نے کسی کو بھی بھروسہ میں نہ لیتے ہوئے اپنی مرضی چلارہے ہیں،شہرمیں پانچ مساجد ہیں ،ان پانچ مساجدکے ذمہ داروں سے رابطہ کئے بغیرہی نئی کمیٹی کو عرس کرنے کی ذمہ داری ہے ۔ وقف افسرنے اس بات پر اپنا ردِ عمل پیش کرتے ہوئے کہاکہ چونکہ یہ عرس ہمیشہ سے ہی انجمن کمیٹی کے ماتحت ہوتاآرہاہے،اب انجمن کمیٹی تحلیل ہوچکی ہے،اس لئے یہ فیصلہ لیاگیاہے۔اس بات سےغصے میں آئے لوگوں نے وقف افسرسے سوال کیاکہ جب انجمن کمیٹی تحلیل ہوچکی ہےتو مساجدکی کمیٹیوں کو بلا کر اس تعلق سے بات کرنی چاہیے تھی۔شیموگہ وقف دفترمیں توتو میں میں کا ماحول پیداہوا اورتمام لوگ باہرنکل کر ہاتھاپائی کرنے لگے۔اس ہنگامےمیں مبارک علی نامی شخص کوچوٹ آئی ہے، جنہیں اسپتال میں داخل کیاگیاہے۔غورطلب بات ہے کہ سو زائد افرادجن کااندازہی مشتعل تھا،ان کی آمدکے باوجود ضلع وقف افسرنے معقول احتیاطی تدابیر اٹھائے نہیں تھے اور پولیس کو اس کی اطلاع نہیں دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ وقف افسر عوام کے ساتھ،عوام کو لیکر اور عوام کیلئے کام کرنےوالاسرکاری ملازم ہوتاہے،لیکن اس سرکاری ملازم کی طرف سے اپنے آپ کو شہنشاہ کےطورپرپیش کرنا کہاں تک درست ہے؟۔یہ بھی کہاجارہاہے کہ شیموگہ میں ضلع وقف مشاورتی کمیٹی موجودہے اور اس کمیٹی کی اہمیت وقف افسرکے سامنے نہ کہ برابرہے،اسی وجہ سے ضلع وقف افسرمحکمہ کے کسی بھی طرح کے فیصلوں کو مشاورتی کمیٹی کے صدر اور دیگراراکین کو واقف کرانا یا اطلاع دینا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
