کانگریس سرکارمیں مسلمانوں پرہورہاہے ظلم و ستم ; کہاں گئے وہ ووٹ مانگنے والے،دلوانےوالے؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔(خصوصی رپورٹ مدثراحمد):۔گذشتہ دنوں ہانگل میں ایک مسلم عورت کو غیر مسلم کے ساتھ کچھ نوجوانوں نےہوٹل کے کمرے میں پکڑاتھا،یہ نوجوان اس واقعہ کو غیرت کا نام دے رہے ہیں ، وہیں اس عورت کی جانب سے بعدمیں نوجوانوں کے خلاف گینگ ریپ کا الزام لگایاگیاہے۔اس واقعہ کو لیکر جہاں ہانگل کے مسلمان تشویش میں مبتلا ہیں،وہیں بی جے پی نے اسی سیاسی مدعہ بناتے ہوئے پوری طرح سے عورت کو مظلوم قرار دے رہی ہے اورکانگریس حکومت پر دبائو ڈال رہی ہے کہ اس معاملے کی چھان بین ایس آئی ٹی کےذ ریعے سے کروائ جائے،اس کے علاوہ خود مائنارٹی کمیشن کے چیرمین عبدالعظیم نے بھی کہاہے کہ اس پورے واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعلق کسی تنظیم کے ساتھ ہے،اس لئے محکمہ پولیس معاملے کو پوری گہرائی کے ساتھ جانچے۔ریاستی حکومت بھی بی جے پی کے دبائو میں آکر اس معاملے کو پیچیدہ بناتی جارہی ہےاور اب تک چھ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ دوسرا واقعہ کرناٹک کے چکمگلوروضلع کے موڈگیرے کا ہے،جہاں پردو نوجوانوں کے ساتھ ماب لنچنگ کی گئی ،جب اس واقعہ کی اطلاع پولیس کو ہوئی تو اس معاملے میں کچھ ہندوتوا تنظیموں کے کارکنوں کو گرفتارکیاگیا،پھر اُنہیں فوری طورپر رہاکیا گیا۔کرناٹک میں اب بھی حجاب کا معاملہ حل نہیں ہواہے،حجاب کو لیکر اب بھی قانونی اعتبار سے روکاٹیں ہیں،تحریری طورپر کرناٹک حکومت نے مسئلے کو حل نہیں نکالاہے،اب بھی حجاب کے معاملے میں احتجاجی نوجوانوں پرجو مقدمے عائدکئے گئے تھے وہ مقدمے اب بھی برقرارہے۔ہبلی کے معاملے میں اب بھی کئی نوجوان جیلوں میں بندہیں،کے جی ہلی ڈی جے ہلی کے معاملے میں بھی مسلم نوجوانوں کو راحت نہیں ملی ہے۔2Bریزرویشن کا معاملہ اب بھی عدالت میں زیر التواء ہے اور حکومت نے اس تعلق سے کوئی پیش رفت نہیں کی ہے ،نہ ہی مسلمانوں کے ریزرویشن کی بحالی کیلئے کوئی واضح حکمنامہ جاری کیاہے۔شیموگہ اور منگلوروکے کئی بے گناہ نوجوان جو مختلف فرقہ وارانہ فسادات معاملوں میں گرفتارہیں اور اُن پر یو اے پی اے کے تحت مقدمے عائدکئے ہیں،اُس سلسلے میں بھی کرناٹک کی کانگریس حکومت خاموشی برقرار رکھی ہوئی ہے ۔ ایک طرف مسلمانوں پر ظلم وستم کے شکنجے کسے جارہے ہیں تو دوسری جانب ریاستی حکومت مسلمانوں کے مسائل کو دیکھ کر بھی انجان بن رہی ہے۔حال ہی میں کلڑکا پربھاکربھٹ نے مسلمانوں کی ماں بہنوں کی عزت نیلام کی اور جو الزام لگایاوہ کسی بھی مہذب سماج کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ہوناتویہ چاہیے تھاکہ ریاستی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کلڑکا پربھاکربھٹ کے خلاف سوموٹوکیس درج کرتی،لیکن اس نے ایسانہیں کیا،بلآخر ایک مسلم لڑکی نے ہی پیش رفت کرتے ہوئے کلڑکا پربھاکربھٹ کے خلاف معاملہ درج کروایا،اس مقدمے کے تحت کلڑکا پربھاکر کو گرفتارکرناچاہیے تھا ، مگر اسے گرفتارکرنے کے بجائے ریاستی حکومت نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں یہ وعدہ کیاکہ پربھاکر بھٹ کوگرفتارنہیں کیاجائیگا،اس سے فرقہ پرستوں کے حوصلے مزید بلند ہوگئےہیں۔جو مسئلے سابقہ بی جے پی حکومت نے کھڑے کئے تھے ، اُن مسئلوں کاحل کانگریس حکومت نے ختم ہونے کے امکانات یقینی بتائے گئے تھے۔لیکن کانگریس حکومت میں بھی مسئلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں اور سابقہ مسائل پر کانگریس حکومت بالکل بھی آوازنہیں نکال رہی ہے۔سات مہینوں سے کانگریس حکومت ریاست میں برسرِ اقتدار ہے ، اس درمیان ایک بھی مسئلہ مسلمانوں کو لیکر کابینہ کی نشست میں بحث میں نہیں لایاگیا۔آر ٹی آئی سے حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق اس بات کاخلاصہ ہواہے کہ کابینہ کی نشست میں مسلمانوں کے مسائل پر کبھی بات ہی نہیں ہوئی ہے۔اب سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل مسلمانوں کے ہمدرد بن کر کانگریس کواقتدارکو لانے کیلئے ایڑی چوٹی کازورلگانےوالی تنظیموں کے ذمہ دار کہاں گئے،جنہوں نے کہاتھاکہ اگر ریاست میں مسلمانوں کو امن سے رہناہے توبی جے پی کو ہراناہوگا ، کانگریس کو اقتدارمیں لاناہوگا،دن رات ایک کرتے ہوئے سیاست سے دوررہنے والے جبہ پوشوں سے لیکر تاجروں تک کانگریس کے گن گاتے رہے،کہیں مسلم متحدہ محاذنے اپنے جہازکو دوڑاتے ہوئے کانگریس کے حق میں بیٹنگ کی تو کہیں ایدیلو کرناٹکا(جاگوکرناٹکا)نے پوری ریاست میں یہ ماحول پیداکیاکہ اگر اگلی حکومت بھی بی جے پی کی آتی ہے تو مسلمانوں کا قتلِ عام شروع ہوجائیگا۔اس خوف کے ماحول اور گیارنٹیوں کے چکرمیں کانگریس حکومت اقتدارمیں تو آئی ،لیکن جس سماجی انصاف کی توقع کرناٹک کے مسلمانوں اور سیکولر لوگوں کی تھی وہ توقع اب تک پوری نہیں ہوئی ہے۔پچھلے دنوں میں بھی کرناٹکا مسلم متحدہ محاذکی جانب سے خصوصی نشست کاانعقادکیاگیاتھا،جس میں متحد ہوکر ووٹنگ کرنے کی بات کہی گئی اورہر علاقے میں بیداری مہم چلانے کی بات ہوئی ہے،لیکن محاذکی اس خصوصی نشست میں مسلمانوں پرہورہے ظلم کے خلاف آوازاٹھانے کاتذکرہ نہیں ہوااوریہ کہاگیاکہ ریاست کی موجودہ صورتحال کو اطمینان بخش سمجھاجاتاہے،بڑی جدوجہدکے بعد فسطائی اور فرقہ پرست طاقتوں کے سیاسی اقتدارسے راحت پائی ہے۔افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ مسلم تنظیموں کے سربراہان اور مسلمانوں کے قائدین،مسلمانوں کے سماجی حق کیلئے بات کرنے کے بجائے صرف اور صرف قبرستانوں کیلئے جگہ ،مزاروں کی ترقی کیلئے فنڈس،مسجدوں کیلئے اوقافی امدادکا مطالبہ کررہے ہیں۔زندہ لوگوں کے حق کا مطالبہ کرنے کے بجائے مرنے کےبعدسونے کی جگہ کیلئے جس طرح سے گذارشیں ہورہی ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ قوم زندوں کو اہمیت دینے سے زیادہ مردوں کو اہمیت دے رہی ہے۔جب بھی نام نہاد لیڈروں سے مسلمانوں کے سماجی انصاف کا مطالبہ کرنے کیلئے کہاجارہاہے تو ایک ہی جواب مل رہاہے کہ پارلیمانی انتخابات قریب ہیں،ہم اپنے مطالبات کو مزید چھ مہینوں تک نہیں پوچھیں گے،اگر مسلمان اپنے مطالبات کو حکومت کے سامنے رکھتے ہیں تو پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی اقتدارمیں آجائیگی، ہندوووٹ ایک ہوجائینگے اورمرکزمیں کانگریس حکومت کا آنامشکل ہوجائیگا۔سوال یہ ہے کہ گذشتہ دنوں پانچ ریاستوں میں ہونےوالے اسمبلی انتخابات میں کسی مسلمان نے تو ایسے مطالبات نہیں رکھے تھے توکیسے وہاں چار ریاستوں میں بی جے پی اقتدارمیں آئی؟۔غرض کہ مسلمان اپنے حق کو مانگنا بھول چکاہے،مسلم سیاستدان ذہنی طورپر پارٹیوں کے ذہنی غلام بن چکے ہیں،اقتدار اور عہدوں کی آس میں مسلمان اپنی قوم پر ہورہے ظلم کے خلاف آوازاٹھانابھول چکے ہیں۔اگریہی حال رہاتو پارٹی کوئی بھی ہو مسلمانوں کوروندنا عام ہوجائیگا۔