اعظم خان کو عدالت سے لگا بڑا جھٹکا

سلائیڈر نیشنل نیوز
رامپور : اترپردیش میں ایم پی ایم ایل اے سیشن کورٹ نے سابق وزیر اور ایس پی لیڈر اعظم خان کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے دو سال کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ یہ معاملہ 2019 کے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران نفرت انگیز تقریر سے متعلق ہے۔ اس میں اعظم خان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ایم پی ایم ایل اے کورٹ نے انہیں سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے سیشن کورٹ میں پناہ لی تھی، جہاں سے انہیں کوئی راحت نہیں ملی ہے۔اس وقت اعظم خان اپنے بیٹے کے برتھ سرٹیفکیٹ کے دو کیسوں میں سزا یافتہ ہونے کے بعد سیتا پور جیل میں بند ہیں۔ وہیں ان کا بیٹا عبداللہ اعظم ہردوئی اور اہلیہ تنزین فاطمہ رام پور جیل میں بند ہیں۔ یہ پورا معاملہ سال 2019 کا ہے، جب لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران اعظم خان پر شہزاد نگر تھانہ علاقے کے دھمورہ میں نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام لگا تھا۔ جلسہ عام سے خطاب کے دوران اعظم خان نے توہین آمیز اور اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ انہوں نے وزیراعظم مودی اور وزیراعلی یوگی پر بھی تبصرہ کیا تھا۔ اس معاملے میں اے ڈی او پنچایت انیل کمار نے شہزاد نگر تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا۔قابل ذکر ہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی اتحاد کے تحت الیکشن لڑ رہے تھے اور اعظم خان رام پور سے اتحاد کے امیدوار تھے۔ اس دوران شہزاد نگر تھانہ علاقے کے دھمورہ میں اعظم خان کی ایک ریلی تھی۔ اعظم خان کی اس ریلی میں کی گئی تقریر کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔وائرل ویڈیو میں اعظم خان نے وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم اور اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ اور دیگر افسران کے بارے میں قابل اعتراض باتیں کہی تھیں۔ وائرل ویڈیو کی بنیاد پر اے ڈی او پنچایت انیل کمار نے شہزاد نگر تھانے میں اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔