شرالکپہ میںجماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقدہ جلسہ عام میں مولانا کاخطاب
شکاری پور: تعلقہ کے جماعت اسلامی ہند شرالکپہ کی جانب سے ” مسلم معاشرے کا اخلاقی بگاڑ اور اس کا اسلامی حل ” کے عنوان پر خطاب عام کا انعقادکیا گیا تھا ۔ آج شہر میں منعقدہ اہم پروگرام کا آغاز مولانا عبدالغنی کی تلاوت سے ہوا۔جماعت اسلامی کے ذمہ دارچمن میاں نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم معاشرہ اخلاق کی بلند ترین سطح پر فائز تھا اور اُس وقت تک مسلمان اس دنیا پر حکومت کررہے تھے مگر اخلاقی بگاڑ کی دلدل میں آج مُسلم معاشرہ نظر آرہاہے ۔لہٰذا جماعتِ اسلامی ہند اسی مناسبت سے اس پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔مہمان مقرر مولانا مظفّر حسین شکیل ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہر حال میں 4 چیزوں کی حفاظت ضروری ہے، جان، مال، عزت اور دین کی حفاظت دنیا کا کوئی بھی معاشرہ ان چار بنیادوں پر ٹکا رہے گا، اگر انسان ان چار عناصر میں سے ایک سے بھی غفلت برتے تو انسان بر تے تو انسان برباد ہوجائےگا اُسی کی دعائیں ادا ہوجائےگی ، وہ بے عزت ہوجائےگا ۔ آج انسان اسی خطرناک صورت حال سے دو چار ہے ، اللہ نے رسول ﷺکو مبعوث کرتے ہوئے کہا۔ معاشرے کی تعمیر کے لیے پہلے تاکید کی تھی کہ”يحلّ لھم طيبات” حلال رزق کا استعمال ہو آج ہماری دعائیں قبول اس لیے نہیں ہوئیں کے ہمارا رزق طیب نہیں ہے۔موصوف نے آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ اُمّت مُسلم میں مال کے کمانے اور خرچ کرنے کے معاملے میں بے راہ روی کا شکار ہوئی ہے مال کی محبت نے اُمّت کو جسدِ واحد کا سبق بھلادیا کوئی کسی طرح کی مصیبت میں ہو مگر مالداروں کی فضول خرچی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ مولانا مظفرحسین نے مزید کہا کہ آج مسلمانوں میں بگاڑ کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ پر توکل ایمان کی کمی ہے عقیدے کی خرابی ہے۔ مسلم معاشرے کا حال یہ ہے کہ ہر گلی میں 4۔ 4 عامل اور بابا بنے بیٹھیں ہیں۔ اللہ پر سے ا عتبار ختم ہورہاہے ۔ ہمیں اپنے آپ پر گھن آنا چاہیے ، اس عظیم برائی کو ختم کرتے ہوئے ایمان سے اُمّت کو سرفراز کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس ایمان سے زیادہ اعمال پر محنت ہو رہی ہے۔ ایمان پر محنت کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں ایسی صورتحال میں ہمیں اپنے اعمال کو سدھارنے کی اشد ضرورت ہے ۔مزید انہوںنے نوجوانوں سے کو مخصوص طورپر متوجہ کراتے ہوئے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو موبائل سے دوررہنے کی ضرورت ہے، موبائل نے رشتوں کو ختم کر دیا ہے۔ اور یہ ہماری نسلوں کو کمزور کر رہی ہے، لہذا ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔ اس اجلاس میں مولانا سلیم عمری، محمد حسین امیر مقامی اور کثیر تعداد میں مرد و خواتین شامل رہے، اجلاس کا اختتام زکی احمد آفریدی کی اظہار تشکر سے ہوا۔
