جوگ فالس کو دائمی آبشار میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ؛ماحولیاتی ماہرین کااعتراض

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ ریاستی حکومت کی طرف سے دنیا کے مشہور آبشاروں میں شمار ہونے والے جوگ فالس کو مصنوعی طور پر دائمی آبشار بنانے کیلئے 185 کروڑ روپے لاگت والاایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے ، جس پر ماحولیاتی ماہرین نے سخت اعتراض جتایا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس یہاں کے قدرتی اور حیاتیاتی ماحول کو دائمی نقصان پہنچے گا۔حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ برسات کے موسم میں بڑے ہی زور و شور سے بہنے اور سیاحوں کو اپنی  طرف راغب کرنے والے اس آبشار کو ہمیشہ اسی انداز میں برقرار رکھا جائے۔ جس کے بعد کیرالہ اور گوا سے سیاحوں کو اسپیڈ بوٹس کے ذریعے سمندر کے راستے ہوناور تک لانے کے بعد جوگ فالس تک لے جانے کا انتظام کیا جائے اور انہیں وہاں پر مختلف سیاحتی سرگرمیاں فراہم کی جائیں جس سے سیاحتی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوجائے۔محکمہ سیاحت کے وزیر سی پی یوگیشور راو نے بتایا کہ جوگ فالس کو دائمی آبشار کا روپ دینے اور اسپیڈ بوٹس متعارف کرنے  کے لئے تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ دائمی آبشار کا روپ دینے کے لئے لنگن مکّی ڈیم سے 200 کیوسیکس پانی چھوڑا جائے گا۔ محکمہ توانائی (اینرجی) اور محکمہ سیاحت کی طرف سے انجام دئے جارہے اس منصوبہ کے تحت سیاحوں کے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لئے 1000 کمروں والے دو ہوٹلس تعمیر کیے جائیں گے۔ اور اس مقام کو ہیلی ٹورازم (ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سیاحتی سرگرمیاں) سرکٹ لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ لیکن اس تجویز پر ماحولیاتی ماہرین نے سخت اعتراض جتایا ہے۔ یہاں تک کہ محکمہ سیاحت کے بعض افسران بھی اس منصوبہ سے اختلاف کرتے نظر آئے۔ ایک آفیسر نے گمنامی کی شرط  پر بتایا :” اس سے پہلے حکومت جوگ فالس کو دائمی آبشار کی شکل دینے کیلئے وہاں پر موٹرس لگا کر پانی پمپ کرنا چاہتی تھی۔ اور اب وہ لوگ ڈیم سے پانی چھوڑنا چاہتے ہیں۔ حکومت اس علاقہ کی حساسیت کو سمجھ نہیں رہی ہے۔ یہ ایک زبردست متنوع حیاتیاتی نظام (بایو ڈائورسٹی) والا علاقہ ہے۔ یوگیشور راو (وزیر سیاحت)اس منصوبہ پر عمل کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی اس لئے لے رہے ہیں کیونکہ یہ راگھویندرا (وزیر اعلیٰ کے فرزند) کا خواب ہے۔ اور یہ ان کا اپنا حلقہ اسمبلی ہے۔”محکمہ ماحولیات کے ایک اور افسر نے بتایا ” وزیر اور ان کی ٹیم کا استدلال یہ ہے کہ یہ منصوبہ محکمہ توانائی کے علاقہ میں انجام دیا جارہا ہے۔ لیکن وہ لوگ یہ بات سمجھنے نہیں پارہے ہیں کہ یہ ایک گودام جیسا علاقہ ہے۔ یہاں آبشاراور جنگلات سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ اس منصوبہ سے جو نقصانات ہونگے وہ بھی دائمی اور ناقابل اصلاح ہونگے ۔