رامیشورم کیفے بلاسٹ کیس: این آئی اے کو ملی بڑی کامیابی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔بنگلورو کے مشہور دی رامیشورم کیفے میں ہوئے دھماکے کے معاملے میں این آئی اے کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ این آئی اے نے رامیشورم کیفے دھماکہ کیس میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے۔ اس شخص کی شناخت شبیر کے طور پر کی گئی ہے اور اس کا تعلق بیلاری کے کول بازار علاقہ سے بتایا جاتا ہے۔شبیر جسے این آئی اے نے حراست میں لیا تھا، تورنگل میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا۔ 1 مارچ کو صبح 9:10 بجے، وہ بوڈا کمپلیکس کے قریب مشتبہ شخص سے ملا۔ ان تمام شبہات کی بنیاد پر این آئی اے حکام نے شبیر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ این آئی اے کے اہلکار بنگلورو کے رامیشورم کیفے میں ہوئے بم دھماکہ کیس کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق این آئی اے اہلکار نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور بیلاری نیو بس اسٹینڈ سے بڈا کمپلیکس کے قریب ایک آٹو میں آیا تھا اور اترنے کے بعد شبیر سے ملا تھا۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشورا نے پہلے کہا تھا کہ بنگلورو شہر کے ایک کیفے میں 1 مارچ کو ہوئے دھماکے کے لیے جن دہشت گردوں کی تفتیش کی جا رہی ہے، ان کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ این آئی اے کی طرف سے حراست میں لیے گئے شخص سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔واضح ہوکہ یکم مارچ کو بنگلورو کے مشہور رامیشورم کیفے میں ایک  دھماکہ ہوا۔ اس حملے میں 10 افراد زخمی ہوئے۔ دھماکہ ٹائمر کا استعمال کرتے ہوئے آئی ای ڈی بم کو ٹرگر کرنے سے ہوا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز جاری کیں۔ جس میں مرکزی ملزم نظر آ رہا تھا۔ تقریباً 30 سال کی عمر کے ایک نوجوان کو کیفے کے اندر اڈلی کی پلیٹ اٹھائے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے کندھے پر بیگ تھا۔ ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہی مشتبہ شخص بیگ اٹھائے کیفے کی طرف چلتے ہوئے دیکھا گیا۔قومی تحقیقاتی ایجنسی کے حکام نے مزید تین ویڈیوز کی جانچ پڑتال کے بعد بتایا کہ کیفے دھماکے کے بعد مشتبہ شخص نے کئی بار اپنی شکل بدلی تھی۔ ایک ویڈیو میں وہ پوری بازو کی قمیض، ہلکی پیلی ٹوپی، چشمہ اور چہرے کا ماسک پہنے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ دوسری ویڈیو میں وہ جامنی رنگ کی ہاف بازو والی ٹی شرٹ اور کالی ٹی شرٹ اور ٹوپی پہنے ہوئے نظر آئے۔ اس وقت اس کے چہرے پر ماسک تھا، لیکن اس بار اس نے چشمہ نہیں پہنا ہوا تھا۔ دریں اثنا، تیسری فوٹیج میں اس شخص کو نہ تو ٹوپی اور نہ ہی چشمہ پہنے دکھایا گیا ہے۔