کھیل کھلاڑی اور مسلمان

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اس وقت دنیا بھر میں اولمپک کھیلوں کا چرچہ چل رہاہے،دنیا کے ہر ملک سے ہزاروں کھلاڑی ان کھیلوں میں شرکت کرتے ہوئےاپنی صلاحتیوں کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اپنے ملک و اپنی قوموں کا نام روشن کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یوروپ سے لیکر آفریقہ،ایشاء سے لیکر آسٹریلیاں براعظم کے کھلاڑی ان کھیلوں میں حصہ لیکراپنی پہچان بنارہے ہیں اور تاریخ رقم کررہے ہیں۔بھارت سے بھی300 کےقریب کھلاڑی اولمپک کھیلوں میں شرکت کیلئے روانہ ہوچکے ہیں۔اوپر سے نیچے تک کی فہرست کا جائزہ لیں تو اس بات کو غور کیاجاسکتاہے کہ پورے کھلاڑیوں میں ایک بھی کھلاڑی مسلمان نہیں ہیں،جبکہ اس وقت میدانوں،گلی کے نکڑوں،سڑکوں پر سب سےز یادہ کھیلنے کودنے والے نوجوان مسلمان ہی ہوتے ہیں۔مگرجہاں بات صلاحیت دکھانے کی اور اپنی طاقت کالوہامنوانے کی بات آتی ہے تو مسلمان دوردور تک دکھائی نہیں دیتے۔آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم نوجوانوں وبچوں کے پاس صلاحیتیں ہونے کے باوجود وہ اپنی صلاحیتوں کو صحیح ڈھنگ سے پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں؟۔ایک دورتھاجب ہر کھیل کے حلقے میں دوچار مسلمان رہاکرتے تھے۔کرکٹ ٹیم کی بات لیں یا پھر ہاکی ٹیم کی،وہاں پر مسلمانوں کی اچھی خاصی نمائندگی ہواکرتی تھی۔یہاں تک کہ کبڈی،دوڑ کے مقابلوں میں بھی مسلم کھلاڑی اپنے کھیل کے جوہر دکھایاکرتے تھے۔دراصل اب کھیل کودمیں مسلم نوجوانوں کی نمائندگی نہ ہونے کی اہم وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہمارے بچے گلی محلوں میں جو کھیل کھیلتے ہیں،محلوں میں ساراسارا دن کھلاڑی بنے گھومتے ہیں،لیکن ان کی صحیح رہنمائی نہ ہونے کے سبب وہ منظم طریقے سے نہیں کھیل پاتے اورنہ قوم کی قیادت کرپاتے ہیں اور نہ ہی ملک کی۔ایسے میں افسوس ہوتاہے کہ ہمارے پاس نوجوانوں کابڑا طبقہ ہونے کے باوجودہمارےنوجوان منتشر ہوچکے ہیں۔نہ ان میں کھیل کودکی صلاحیت باقی ہے اور نہ ہی تعلیمی میدان میں اپنے آپ کو کامیاب کرپاتے ہیں۔مسلم نوجوانوں کے پاس تعلیم بھی ہے،طاقت بھی ہے اگر کچھ نہیں ہےتووہ جذبہ ہے،جذبے کے ساتھ ساتھ رہنمائی اور ہمت افزائی کی بھی کمی ہے۔ہمارے یہاں بچوں کو کھیلنے کودنے کیلئے تو بھیجاجاتاہے ،پڑھائی کیلئے بھی تعلیمی اداروں میں داخلے دلوائے جاتے ہیں،لیکن ان طلباء ونوجوانوں کے سامنے کوئی ٹارگیٹ نہیں دیاجاتا،جس سے یہ طلباء آوارہ بیلوں کی طرح یہاں وہاں گھُس جاتے ہیں،جس طرح سے پالتو جانوروں کو سنبھالنے کیلئے لگام کسی جاتی ہے اُسی طرح سےہماری نسلوں کو بھی پالنے کیلئے رہنمائی کی ضرورت ہے۔