سائوتھ ویسٹ گریجویٹ کانسٹیٹیونسی انتخابات ؛ آئینور منجوناتھ نے کہامجھے ہے مسلم ووٹرس کی تائید 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
ساؤتھ ویسٹ گریجویٹ حلقے کیلئے اے یم جی کا کوئی امیدوار نہیں ہے: اڈوکیٹ سہیل احمد کی وضاحت
شیموگہ : 3 جون کو سائوتھ ویسٹ گریجویٹ کانسٹیٹیونسی انتخابات ہونے جارہے ہیں ان انتخابات میں کانگریس امیدوار آئینور منجوناتھ پھر ایک مرتبہ یم یل سی بننے کی جد وجہد میں لگے ہوئے ہیں ۔ جملہ پانچ اضلاع کے 30 سے زائد تعلقہ جات کے 85 ہزار گریجویٹ ووٹرس کی جانب سے یہ دئے جانے والے اس الیکشن میں جیت کے لئے بہت کم ووٹوں کا فاصلہ ہوتاہے ۔ ہر بار یہ الیکشن کانگریس اور بی جے پی کےدرمیان اہم مانا جاتا تھا لیکن اس دفعہ کانگریس پارٹی سے باغی امیدوار اور بی جے پی سے بھی باغی امیدوار میدان میںآنے کی وجہ سے یہ بہت ہی حساس الیکشن ہوچکا ہے ۔ عام الیکشن سے ہٹ کر الگ ہی طریقے سے ہونے والے اس ووٹنگ میں ایک ایک ووٹ بھی اہمیت رکھتاہے ۔ ایسے میں آئنور منجوناتھ اپنے تینوں حریفوں کو شکست دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہےہیں ۔ جملہ 85 ہزار ووٹوں میں زیادہ سے زیادہ 60 فیصد تک ہی ووٹنگ ہوتی ہے ، اگر 60 فیصد ہی ووٹنگ ہوتی ہے تو جملہ 50 ہزار ووٹ ہی ڈالے جائینگے اور یہاں بی جے پی کے امیدوار ڈاکٹر سرجی ، کانگریس کے باغی امیدوار یس پی دنیش اور بی جے پی کے باغی امیدوار رگھوپتی بھٹ اپنے سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر کم و بیش یکساں ووٹ لیں گے اور جیت کے لئے محض سو سے پانچ ووٹوں ہی فیصلہ کن مانے جائینگے ۔اسی وجہ سے آئینورمنجوناتھ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے پانچوں ضلعوں کا مسلسل دور ہ کررہے ہیں اور ہر ایک ووٹر کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں ۔انکے کہنے کے مطابق انہیں تمام طبقات سے ووٹ ملنے والے ہیں ، خصوصََا مسلمان اور عیسائی گریجویٹس ملک کے موجودہ حالات کے مدنظر کانگریس کو ہی ووٹ دینگے ۔ غورطلب بات یہ ہے کہ سائوتھ ویسٹکانسٹیٹیونسی میں ہزاروں مسلم گریجویٹ موجود ہیں لیکن اس الیکشن کے تعلق سے بیداری نہ ہونے کی وجہ سے انہوںنے اپنے ناموں کا اندراج نہیں کیا ہے باوجود اسکے سائوتھ ویسٹ کانسٹیٹیونسی میں مسلمانوں کے چار ہزار کے قریب ووٹرس ہیں لیکن اس میں صرف 50 فیصد ہی ووٹنگ ہونے کے امکانات ہیں ، ایسے میں دو ہزار ووٹ بھی اگر سیکولر پارٹی کو ملتے ہیں تو یہ سیکولر پارٹی کی جیت کو یقینی بناسکتے ہیں ۔ دوسری جانب3 جون کو ہونے جارہے ساؤتھ ویسٹ گریجویٹ کانسٹیٹیونسی کے لئے اسوسیشن آف مسلم گریجویٹ (اے یم جی) نے اپنی طرف سے امیدوار کھڑا نہیں کیاہے ، اڈوکیٹ شاہراز مجاہد صدیقی آزاد امیدوار ہیں ان کی امیدواری سے ہماری اسوسیشن کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اس بات کا اظہار اے یم جی کے صدر اڈوکیٹ سہیل احمدنے کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں بیان جاری کیاہے جس میں بتایاہے کہ اڈوکیٹ شاہراز مجاہد صدیقی نے اپنا استعفٰی اے یم جی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کو دے دیاہے، اسکے بعد سے انکی امیدواری سے اے یم جی کاکوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی اے یم جی جڑاہواہے۔