یومِ آزادی اور مسلمان

مضامین
از:۔محمد عطاالرحمان القاسمی ۔کڑیکل شیموگہ
جنگ آزادی کا عام طور پر تذکرہ سن سینتالیس سے کیا جاتاہے جبکہ حقیقت میں یہ آزادی کی ابتدا سن  1600عیسوی سے آغاز میں آئی ہے چونکہ اسی سن سے انگریز دھیرے دھیرے ہمارے ملک کی طرف برطانیہ سے آنے لگے ، تجارت کے بہانے یہاں انہوں نے اپنے قدم جمائے ۔
پندرہ سو عیسوی میں یہی برطانیہ کے عیسائی، یہودی اور صلیبی دہشت گردوں، ٹررسٹوں اور انتہا پسندوں نے اسپین کے اندر اپنی درندگی اور دہشت گردی کا بازار گرم کیا ،آٹھ سوسالہ مسلمانوں کی حکومت کا تختہ الٹا ، مساجد اور مدارس کو ختم کیا ، مسلمانوں کو چن چن کر ختم کیا اور اپنی جارحیّت و حیوانیت کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ سولہویں صدی میں مسلمانوں کا ہرجگہ سے تخلیہ کردیا اور سترھویں صدی کے آغاز میں ان دہشت گرد انگریز کا رخ ہندوستان کی طرف ہوایہاں انہوں نے اس وقت کے مسلم حکمران شاہ جہاں سے تجارت کی اجازت لی اور اس کا آغاز کردیا ، جبکہ ان کا مقصد تجارت کے بہانے ملک پر قبضہ کرنا تھا ، ان دہشت گردوں نے تجارت کو فروغ دینا شروع کردیا اور ایکسپورٹ امپورٹ بھی کرنا شروع کردیا اور برطانیہ سے بہت بڑی تعداد میں اسلحہ اور ہر طرح کےہتھیارکو امپورٹ کر نا شروع کر دیا اور ہندوستان میں ہر جگہ قلعے بنانا شروع کردیا ، بمبئی کے ساحل کو قبضہ کیا پھر مدراس کے ساحل تک پہنچ گئے ، پھر ادھر بنگال کے ساحل پر بھی مکمل قابض ہوگئے یہاں تک کہ سترہ سو ستاون میں بنگال پر بھی قبضہ کرلیا اور سراج الدولہ کی حکومت کو ختم کردیا، یہ صیہونی اور صلیبی درندوں اور دہشت گردوں نے 1799ء میں میسور پہنچ کر سری رنگا پٹنم میں حضرت ٹیپو سلطان شہید سے جنگ چھیڑدی ، یہ خداترس ولی اور بادشاہ نے یہ اعلان کردیا کہ میں اس انگریز دشمن کو ختم کرکے رہوں گا ہندوستان میں اس کے قبضے کو ختم کرونگا یہ ملک ہندوستان ہم مسلم اور ہندو بھائیوں کاہے ،جسکو تجارت کے بہانے یہ دہشت گرد صہونیت و حیوانیت کا دلدادہ انگریز قبضہ کرنے کے چکّر میں ہے  ، میں شیر بن کر انگریز پر حملہ آور ہوجاوں گا اور اس ملک کی آزادی کوپروانہ عطا کروں گا ، اور سلطان شہید نے یہ اعلان کردیا کہ گیدڑھ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ، مگر منافق خود غرض ، اور ابن الوقت ہر ملک میں، ہرجگہ اور ہر قوم میں رہتے ہیں اور مسلمانوں میں بھی ہیں، جو میر صادق اور جعفر بنگالی کی شکل میں موجود تھے ۔ اسی سے متاثرہوکرعلامہ اقبال نے کہاتھاکہ
جعفر از بنگال صادق از دکن 
ننگِ ملّت ننگِ دیں ننگِ وطن
 انہیں کی منافقت کی وجہ سے انگریز نے ٹیپو سلطان کو ختم کردیا  اور اس وقت حضرت ٹیپو سلطان کی شہادت کا واقعہ پیش آیا ، جب آزادی کے سرخیل وسردار سلطان ٹیپو شہید ختم کردئے گئے تو انگریز کے چیف مارشل نے یہ اعلان کردیا کہ اب ہندوستان ہمارا ملک ہے ، دہلی پر قبضہ کرنے اور لال قلعہ پر اپنا پرچم لہرانے کیلئے ان بدبخت خونخواروں کو زیادہ وقت نہیں لگا بلکہ  1803ء میں دہلی پر مکمل ان کا قبضہ ہوگیا، پہر شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے صاحبزادے تھے مسلمانوں کو اسلامی انداز میں یہ سمجھایا کہ اب ہندوستان دار الحرب بن چکاہے اب جہاد لازم ہے ، انہیں کے شاگرد شہید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے اپنے استاذ کے فتوے کو سن کر ملک کی آزادی حاصل کرنے اور انگریز کے اس خونخوار پنجوں سے ملک کو نجات دلانے کے خاطر رائے بریلی، لکھنؤ دہلی اور لاہور ہوتے ہوئے بالاکوٹ پہنچ گئے اور وہاں کے حکمران سے خوب معرکے سر کئے چنانچہ یہاں بھی وہی منافقت نے یہاں کے حکمران کا ساتھ دیا سید احمد شہید کے ساتھیوں کو شہید کر دیا گیااور اس کے بعدتہجدکی نمازکی حالت میں سجدے کے اندر سید احمد شہید بھی شہید کردئے گئے۔ یہ غالبا 1830ء کی بات ہے۔
ظلم وبربریّت کا گھناونا دور
انگریز ایک طرف سارے ملک پر قابض ہوچکا تھا تو دوسری جانب ان دہشت گردوں نے مسلمانوں اور علما وطلبا کو اپنے ظلم واستبداد کا نشانہ بنایا ، ان خونخوار درندوں نے اس طرح اپنے تشدد کا علماء وطلبا کو نشانہ بنایا کہ اس داستانِ درد و الم کو سناجائے یا پڑھا جائے تو آنکھوں سے پانی کے آنسوں نہیں بلکہ خون کے آنسوں بہنے لگیں گے ، پچپن ہزار علماء و طلبا کو شہید کیا ، درختوں پر لٹکا کر پھانسی دیا ، یا درختوں پر لٹکا کر نیچے سےآگ لگادیا، یہاں تک کہ توپ خانوں میں باندھ کر توپوں سے اڑادیا جس سے ان علماء وطلبا کے جسم چھیتڑےبن کر فضا میں منتشر ہوگئے، مدارس کو ختم کردیا مساجد کو زمیں دوز کردیاگیا ،آج جو انڈیا کی متعصب حکومت مدارس ومساجد کو نشانہ بنارہی ہے وہ یہیں سے سیکھا ہے۔ نیز آج مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں یہ سب یہیں سے ٹریننگ لیاہے ، دہلی سے بنگال و کلکتہ تک خون کی ندیاں بہہ گئیں ۔
 پھر 1857ءمیں بھی بے انتہا ظلم وتشدد کی آندھیاں اور طوفان کھڑے کئے گئے اس وقت بھی علماء نے بڑی ہمت وجواں مردی کا مظاہرہ کیا ، اللہ تعالیٰ نے مولانا محمد قاسم نانوتوی کو کھڑاکیا، ۔ حضرت نے بڑی ہی بہادری وجواں مردی کا مظاہرہ کیا ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی سرکردگی میں شاملی کے میدان کو گرمایا ، اس معرکے میں حافظ ضامن تھانوی کو شہید کردیا گیا، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر بہت سارے علماء زخمی ہوگئے ،حاجی امداد اللہ صاحب نے عافیت اسی میں سمجھی کہ ملک کو خیر آباد کہہ کر مکۂ مکرمہ ہجرت کرجاؤں ، سب ادھر ادھر منتشر ہوگئے مگر حضرت نانوتوی آخیر تک لڑتے رہے یہاں تک کہ انگریز کے اہم اور بڑے عہدیدار کو جہنم رسید کیا اور اس بہادر اونچے قد والے جینوا نامی شخص پر ایسا حملہ کیا کہ سر سے پیر تک اس کے جسم کے دو ٹکڑے کردئے ۔ بدقسمتی ہماری یہ کہ ہمارے علماء و دانشوروں نے حضرت کی اس شجاعت کا اپنی کانفرنسوں، سیمیناروں ، رام لیلا کے لاکھوں کے مجمع میں اور بمبئی وکلکتہ کے آزاد میدانوں میں اور دوسری جگہوں پر تذکرہ نہیں کرتے۔ انتہائی افسوس و دکھ کی بات ہے ، جب ان معرکوں اور مقابلہ آرائیوں سے کام بنتا نہ دکھائی دیا ۔
یہاں تک کہ انگریز نے مسلمانوں کے ایمان پر مختلف انداز اور مکر وفریب سے حملے کرنا شروع کردیا تو یہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی دانائی ودور اندیشی تھی اور حضرت مستقبل کے آئینے میں دیکھ رہےتھے کہ فیوچر میں مسلمان مذہبِ اسلام سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ،اس معرکۂ شاملی کے ٹھیک نو سال بعد  1866 میں  الہامِ خداوندی اور تائیدِ نبویﷺ سے دارالعلوم دیوبند کو قائم کیا ، ایک دیوبند کے کھیلتے ہوئے بچے کو پکڑ لائے چھتہ مسجد کے صحن میں زبردستی ڈانٹ کر بٹھادیا۔ ایک ملّاجی راستے پر گزررہے تھے انہیں اس بچے کے سامنے انار کے درخت کے نیچے بٹھاکر بسم اللہ خوانی کرادیا، حسن اتفاق کی بات تھی کہ استاد اور شاگرد دونوں کانام محمود تھا اسی لئے حضرت نانوتوی کی یہ تحریک بھی محمود و مقبول ہوئی اور سارے عالم میں بڑی سرعت کے ساتھ اسلام کی شعائیں پہنچ گئیں ، آج دارالعلوم دیوبند کا وجود حضرت نانوتوی ہی کا رہینِ منت ہے ۔
 تحریکِ ریشمی رومال کا آغاز
یہی وہ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے جنہوں نے حضرت نانوتوی کی ذانٹ کھاکر ملّا محمود سے پڑھنا شروع کیا تھا ، اس کےبعد خود حضرت نانوتوی نے انہیں پڑھاکر لائق وفائق بنایاتھا ، جو سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین منتخب ہوئے تھے۔جن کااسم ِگرامی محمود حسن دیوبندی تھا جو شیخ الہند کے لقب سے دنیا بھر میں مشہور ہوگئے ۔حضرت نے دیکھا کہ مسلمان انگریز کی غلامی اور زیادتی کا شکار ہوتے جارہے ہیں تو یہ فیصلہ کیا کہ دارالعلوم دیوبند کی مسندِ صدارت و مسندِ حدیث کو ترک کرکے انگریز سے مسلمانوں کو آزادی کا پروانہ تھمانا ضروری ہے ، چنانچہ حضرت شیخ الہند نے اپنے بے مثال صلاحیتوں کے مالک اور نامور شاگرد محدثِ جلیل علامہ سید انور شاہ کشمیری کو دارلعلوم میں اپنا جانشین مقرر کردیا، ادھر حضرت شیخ الہند نے تحریک ریشمی رومال کا آغاز کردیا ، صرف ہندوستان ہی کی آزادی مطلوب نہیں تھی بلکہ حضرت شیخ الہند اس عظیم مقصد پر کمر بستہ ہوگئے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو آزادی کا پروانہ عطا کر د و ں۔
اس آزادی کی تحریک میں اپنے ممتاز شاگردوں کو ساتھ لے لیا ، مکۂ مکرمہ سے اس تحریک ریشمی رومال کا آغاز کردیا ، مگر مکۂ مکرمہ کے اُس وقت کے حکمران کی منافقت کی وجہ سے حضرت گرفتار کرلئے گئے اور مالٹا کی اسیری اختیار کیا، بہت جد و جہد کی ، زندگی کی آخری سانس تک ساری دنیا کے مسلمانوں کی آزادی کیلئے انتھک کوششیں کیں ۔ لہذا حضرت نانوتوی اور انہیں کے تلمیذ حضرت شیخ الہند کا ملک کی آزادی میں اہم کردار رہاہے جس کو قیامت تک فراموش نہیں کیاجاسکتا۔یہی روشن وتابناک داستان آزادی کی ہے جس کا مرکز دارالعلوم دیوبند رہاہے۔
 یہ ہماری آزادی یا اسیری
سن سینتالیس میں جس آزادی کا تذکرہ کیاجاتا ہے وہ آزادی در اصل ہندوؤں کی آزادی ہے ، اس وقت مسلمانوں نے اور نامور علماء نے اس آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مگر بہت جلد یہ حضرات ہندوؤں کی اور کانگریس کی تائید کرنے لگے ، نہرو گاندھی اور پٹیل کی چالاکیوں اور مکّاربوں کو نہ سمجھ سکے  ، آج ہم انہیں کو جنگ آزادی کا مجاہد گردانتے ہیں،  ہرجگہ ہر محفل میں ہر مجلس میں،ہر سمینار میں اور ہر کانفرنس میں انہیں علماء کا تذکرہ کرتے ہیں اور آزادی میں ان کے اہم کردار کو شمار کرواتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہیکہ تحریک آزادی حضرت شیخ الہند پر ختم ہوگئی۔ سن سینتالیس کی جو آزادی ہے وہ در حقیقت مسلمانوں کی بُری طرح غلامی اور اسیری ہے ، اگر سن سینتالیس میں ان علماء اور دانشوروں نے کچھ مسلمانوں کی آزادی کیلئے کیا ہوتا تو آج یہ مصائب اور پریشانیاں نہ پیش آتیں نہ ہی ہمارا شمار آج اقلیت میںہوتا۔ 1949ء میں جب بابری مسجد میں بت رکھے گئے تو اس وقت مجاہدین آزادی ان بتوں کو ہٹا نہیں سکے تو پھر انہوں نے کیاکارنامے آزادی کیلئے انجام دئیے ؟پھر ان حضرات کی کیا خدمات ہیں اور کیا رول مسلمانوں کی آزادی کیلئے رہا ؟
آج نہ ہمارا خون محفوظ نہ ہمارا وجود محفوظ نہ ہماری مساجد محفوظ نہ مدارس محفوظ نہ زمینیں محفوظ نہ درگاہیں محفوظ نہ درسگاہیں محفوظ نہ مکانات محفوظ نہ عفّتیں محفوظ نہ عصمتیں محفوظ نہ شرعی قوانین محفوظ ۔ ہمارے اداروں پر حملہ ہماری یونیورسٹیوں پر حملہ ہمارے کالجوں پر حملہ ہمارے اسکولوں پر حملہ ہمارے مدارس پر حملہ آور ہماری مساجد پر حملہ اور اب تو ہمارے اوقاف پر بری نظراور وقف کی زمینوں کو ہتیانےکے ہتھکنڈے زبردستی پارلیمنٹ میں اوقاف کے خلاف بل کی پیشگی ،یہ کیا کھیل تماشا ہے ؟
جنگ آزادی میں مسلمانوں کا عظیم کردار رہاہے ،انگریز کا مقابلہ ہم نے کیا شہادتیں مسلمانوں نے پیش کیں، درختوں پر لٹکا کر مسلمانوں کو اور علما و طلبا کو پھانسی دی گئی ، توپوں سے باندھ کر ہمارے جسموں کے چھتڑے اڑائے گئے ،ہمارے خون کو ندیوں کی شکل میں بہایا گیا ،اسوقت جب انگریز نے اس ملک کو اپنے خونخوار پنجوں سے بری طرح جکڑ لیا تھا تو اس وقت یہ بھاچپا کہاں تھی ؟  یہ وشواہندو پریشد کہاں مرگئے تھے ؟ یہ آج ہندوتوا کانعرہ بلند کرنے والے کہاں سورہے تھے؟ جے شری رام کا آوازہ بلند کرنے والے کہاں غائب تھے ؟ جب مسلمانوں نے ملک کی آزادی کیلئے شہادتیں پیش کیں ،قربانیاں پیش کیں او ر ملک کو آزادکرایا،تو یہ برساتی مینڈک آدھمکے اور الٹا مسلمانوں کو مٹانے اور ملک سے باہر کرنےکی پلاننگ کرنے لگے ۔ یہ اپنے مشن میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے ان شاء اللہ العزیز ۔۔
 آزادی منانے کا حق صرف مسلمانوں کو ہے ہم اس ملک کے پاسبان ونگہبان ہیں،ہم مسلمانوں کو چاہئے کہ ہم اپنے علماء اور مجاہدینِ آزادی کی تاریخ پر نظر ڈالیں ان کے ممتاز مجاہدوں، کارناموں اور قربانیوں کو مدِّ نظر رکھ کرآئندہ کا لائحۂ عمل تیار کریں، پرعزم رہیں، ان برساتی مینڈکوں کی زہر افشانیوں سے ہرگز متأثر نہ ہوں یہ ملک ہمارا ہے آزادی ہمارا حق ہے ، مسلمانوں نے اس ملک کی ترقی اور آزادی کے خاطر بہت قربانیاں پیش کی ہیں۔