پروفیسر سید خلیل احمد۔اردو کاایک قابل استاد

مضامین

از ۔ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان(شیموگہ)۔9845916982

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
کوئی بھی علم یا معلومات بغیر استاد کے حاصل نہیں ہوتے ۔ استاد کا مقام و مرتبہ کل بھی تھا آج بھی ہ اور آئندہ بھی رہے گا ۔ استاد وہی بہتر ہے جو اہل نظر ہو۔ استاد صحیح معنی میں اپنے شاگرد کی رفتار ، گفتار اور کردار میں خاص رول ادا کرتا ہے۔دوران ِتدریس طالب علموں سے اُن کے معلومات کاجائزہ لینے کی کوشش کرکے ان کی صحیح رہنمائی کرنا ایک قابل استاد کی علامت ہے۔ اُستاد میں سنجیدگی ہو۔ایک دوسرے سے اچھے روابط رکھے ،دوستانہ ماحول تیارکریں یا بنائے رکھے ۔مقصد خاص اوراس کو واجب اصولوں اورمناسب طریقوں سے پورا کرنے کی کوشش وجستجو میںلگے رہیں۔دھن دولت مال و ذر کا متمنی کبھی اچھا استاد نہیں بن سکتا۔ خیالات میں ٹھہرائو ہو،بکھرائو ،تصادم ،اختلاف سے بچ کرر ہیں ۔ جدید معلومات سے استفادہ کریںاور بچوں میں جدید باتوں کوعام کریں۔تخلیقات ،تجربات کی آگہی ہو۔تعمیری ذہن اور ارادوں میں پختگی اور استحکام ہو ۔جوش وجذبے کے دھاروں میں بہنے سے بچ کررہیں،زبان وادب کے تئیںدرس وتدریس کے تئیں سنجیدہ ذہن ہو ۔ اخلاقی قدروں کی پاسداری کے ساتھ ادب و احترام سے کام کریں اور بچوں میںان باتوں کو بڑھائیں ۔ فرائض کی ادئیگی میں پیش پیش ہو ۔نفرت اور کدورتوں کو دور کرتے ہوئے خلوص و محبت کو عام کرے۔ امن سکون اور چین کا ماحول بنانے میں مددگار ہو۔۔علم ایک بحر بیکراں ہے اس بحر میں وہی غوطہ لگا سکتاہے جس میں حوصلہ ہمت اور جذبہ ہو ۔پیشے سے محبت ہو ،ایمانداری کے ساتھ فرض کی ادائیگی میں پیش پیش رہے ۔دنیا وی لالچ کوچھوڑ کر بچوں میں مناسب طریقے کار سے درس وتدریس کے فرائض انجام دے ۔معلم زبان وبیان سے شکل وشباہت سے ،قول وعمل سے،حرکات وسکنات سے،اپنے فرض کی ادائیگی میںآگے رہنا چاہئے۔ایک مکمل اُستاد تبھی ہوسکتا ہے جب خود اپنی شخصیت میں صحت مند تبدیلی لائے اور بچوں میں عملی طور پر اس لانے کی کوششوں میں لگے رہے ۔پہلے خود عمل کرے پھر اپنے شاگردوںکو اس کی تلقین کرے ۔استاد معمار جہاں اور معمارِ قوم ہوتاہے۔
استاد شاگرد کا رشتہ بڑا ہی عظیم رشتہ ہوتا ہے بس جاننے سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔چلے آج ہر کوئی اپنے استاد کو یاد کرکے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ لیکن استاد کو یاد وہی کرتے ہیں جو بھول جاتے ہیں ۔ ہم ان میں سے نہیں بس ایک رسم و روایت کے طور پر یوم اساتذہ کا دن اپنے استادوں کو یاد کرکے ان سے حاصل علم کی نعمت اور اس سے ااپنی زندگی میں جو تبدیلی آئی اس کو یاد کیا جاتا ہے ۔ ناچیز بھی اس حسین اور پر مسرت موقع پر اپنے تمام اساتذہ کی خدمت میں ہدیہ تشکر پیش کرتا ہوں ۔ مخصوس طور پر میرے ایم اے کے استاد پروفیسر سی سید خلیل احمد صاحب کی خدمت میں چند کلمات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
پروفیسر سی سید خلیل احمد صاحب کا آبائی گائوں چنگری ہے جو پہلے وقت شیموگہ ضلع کا تعلقہ تھا بعد ازاںاس کو داونگرے ضلع میں شامل کیا گیا ہے ۔ آپ کے والد اور والدہ دونوں اساتذہ تھے ۔ پروفیسر سید خلیل صاحب سے میں ۱۹۹۸ء سے واقف ہوں ۔ مجھے یاد ہے ان دنوں میں ایم سال اول میں شعبئہ اردو کوئمپو یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔ آپ کی سادگی پسند باتیں، مہذب خیالات ، ملنساری ، خلوص اور ہمدردی کا جذبہ ان تمام خوبیوں کو دیکھ کر میں پہلی ملاقات سے ہی آپ کا شیدائی ہوگیا تھا۔ آپ کا ظاہر اور باطن دونوں ایک ہیں ۔ شکل و شباہت کے اعتبار سے سادہ اور درمیانی رنگ ، درمیانی قد ، ہنستا ہوا چہرہ ،ہمیشہ ہنسنا ہنسانا ، باتوں سے پتہ چل جائے گا کہ اکثر باتیں کرتے ہیں بعض موقعوں پر زیادہ باتیں کرتے ہیں ۔آپ کی باتوں میں مزاحیہ انداز زیادہ ہوتا ہے ۔ یا تفریحی سامان ہمیشہ تیار رہتا ہے ۔طنزیہ ، مزاحیہ اور علامتی باتوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ آپ سے ملاقات کے بعد وقت کیسے گزرتا ہے لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہو پاتا۔ آپ کی زبان بہت ہی عمدہ ،سلیس اور آسان جملوں کا استعمال کرتے ہیں، دوست اتنے زیادہ کہ لوگ دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ اپنی زندگی میں کتنے زیادہ دوست بنائے ۔ خود شاعر نہیں لیکن اکثراشعار اتنے ز یادہ یاد ہوتے ہیں کہ خود لکھے شاعر کو بھی شاید اتنے یاد نہ ہو۔ موقع و محل کی مناسبت سے اشعار بے ساختہ کہتے ہیں۔جو موضوع اور محل کی مکمل ترجمانی کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ چائے اور پان کے شوقین ، ہمیشہ جیب میں بہت سارے چاکلیٹ رکھتے ہیں پہلے چاکلیت کھلا کر منہ میٹھا کرتے ہیں پھر گفتگو کرتے ہیں۔ آپ کی آواز بھی بڑی پیاری ہے اکثر موقعوں پر مومن کی غزل وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو سنا ہے۔ آپ کا کھانا بہت ہی مختصر ، فطرت سے سادگی پسند ، ہمیشہ متحرک ، دینی اور دنیاوی باتوں سے غضب کی واقفیت ہے۔اس کے علاوہ ان کا چلنا پھرنا اور کام کرنے کے طور طریقوں سے اکثر لوگوں کوگمان ہوتا ہے کہ موصوف اپنی عمر سے بیس سال چھوٹے نظر آتے ہیں۔ جو چالیس سال سے قبل والی چستی پھرتی آپ میں دکھائی دیتی ہے۔
موصوف بہت کم عمر سے ملازمت سے وابسطہ ہوگئے ۔ چکمگلور ، شیموگہ ،داونگیرے اورچتردرگہ کے ادبی و علمی ماحول سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں۔ خطۂ ملناڈ کے ادبی ماحول کو جس طرح آپ عیاں اور بیاں کرتے ہیںکم از کم میری نظر میں دوسرا آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ آپ ۲۲ سال ڈگری کالج کے اردو پروفیسر اور ۲۰ سال شعبئہ اردو کوئمپویونیورسٹی کے پروفیسر کے طور پر ایک طویل خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۱۶ میں وطیفہ یاب ہوئے۔ ناچیز نے آپ کی وظیفہ یابی کے موقع پر ’’ پروفیسر سید خلیل احمد شخصیت اور خدمات ‘‘کے نام سے ایک کتاب مرتب کرکے شائع کی جس میںجنوبی ہند کے جامعیات کے پروفیسروں کے مضامین شا مل ہیں۔جو موصوف سے متعلق لکھے گئے ہیں۔ کالج و یونیورسٹی سے ہٹ کر شہر شیموگہ اور بھدراوتی میں قابل قدر ادبی و قومی و ملی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ شہر شیموگہ کی کیا کرناٹک کی ایک فعال انجمن ، ’’انجمن ترقی اردو ہند شاخ شیموگہ ہے‘‘ آپ اس انجمن کے چھ سال تک صدر رہے ۔ ان دنوں خاکسار اس انجمن کا سکریٹری رہا۔ آپ نے اس انجمن کو اتنی بلندیوں پر لے گئے جس کی تمنا و آرزو ہر ایک کرتا ہے۔ چاہئے ، اردو کے سمینار ہو یا ورکشاپ ، چاہئے مشاعرے ہو یا ادبی و ثقافتی مقابلے ۔ ایک عالیشان پیمانے پر شیموگہ کا کامیاب مشاعرہ ہوا جس میں راحت اندوری ، لتاحیا ، وغیرہ نامور شعراء شریک رہے ۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ رہی کہ ادبی محفلوں میں لوگوں کی عدم دلچسپی تو ہر جگہ نظر آتی لیکن اس مشاعرے میں سات سے آٹھ ہزار سامعین کی تعداد کو دیکھ کر بہ آسانی اندازہ ہوگیا کہ آج بھی عوام الناس کا بڑا طبقہ ادبی محفلوں میں شامل ہو سکتا ہے بشرط ہے کہ پروگرام اچھی نوعیت کے ہوں۔اس وقت انجمن کے صدر آپ ہی تھے۔ اس کے علاوہ انجمن کے بینر تلے بڑے پیمانے پر سمینار کرائے جس میں ہندوستان کے مختلف جامعات کے پروفیسر اس میں شریک ہوئے ۔ اور اس سمینار میں مقالوں پر مشتمل ایک کتاب بھی شائع ہوئی۔ ملک کے مختلف کالجوں و جامعات کے شعبوںمیں کلیدی خطاب دے چکے ہیں اورتوسیعی خطبات پیش کر چکے ہیں۔ ملک کے مختلف جامعات کے درس و تدریس کے کتابیںتیار کر چکے ہیں۔آپ کی کتابیں ڈگری کالجوں میں درس و تدریس کا حصہ ہیں۔ ملک کے جامعات میں تحقیقی مقالے پیش کر چکے ہیں ۔ دو درجن سے زیادہ لوگ آپ کی نگرانی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں ۔ سمیناروں میں صدارت کر چکے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کوئمپو یونیورسٹی میں صدر شعبئہ اردو کے علاوہ اعلیٰ عہدوں جیسے اے سی ممبر ، سنڈیکیٹ ممبر اور تین مرتبہ ڈین فیکلٹی آف آرٹس رہے۔ اتنے اہم عہدوں پر ہونے کے باوجود ذرا بھی طبعت میں تبدیلی نہیں آئی ، وہی سادگی، وہی شرافت اور وہی خدمت کا جذبہ رہا۔مسلمان تو مسلمان غیر بھی آپ کے بڑے مداح تھے۔
ماحول کو کیسا خوشنما بنانا ہے یہ گن ہر کسی کو آپ سے سیکھنا چاہئے۔ زبان سیدھی سادھی، انداز بڑا ہی متاثر کن ، خیال وفکر کی گہرائی ، معلومات کے اعتبار سے گویا ایک سمندر ہیں۔ آپ کے جو شوق تھے وہ بہت ہی اہم معلوم ہوتے ہیں جن میں چائے اور پان کے تو پہلے سے ہی شوقین تھے۔ رونے والے کو کیسا ہنسانا ہے یہ بھی گر آپ سے سیکھنے چاہئے۔ حالات سے مقابلہ کرنے کا ہنر موصوف میں حد درجہ موجود ہے۔ پرانے فلمی گیتو ں سے لطف اندوز ہونا آپ کی دلچسپیوںمیں سے تھا۔آپ ان گیتوں ، فلموں کو کس نے لکھ کس نے بنائی سب تاریخ آپ کو یاد رہتی ہے ۔ محفلوں میں سامعین کی دلچسپیوںکے مطابق تقریر سے محفل کو کیسا گرمانا اس فن سے بھی آپ اچھی طرح واقف ہیں۔ جتنا بولتے ہیں اچھا بولتے ہیں ۔ سننے والے کے سیدھا دل میں اتر جاتی ہے۔
ہر موضوع پر آپ کے معلومات لاجواب ہیں ۔بنیادی طور پر آپ سائنس کے طالب علم ہیں۔ آپ نے بی ایس سی کیا ہے پھر ایم اے اردو کیا جس کی وجہ سے اکثر سائنس کی باتیں، ادب کی باتیں ، تاریخ کی باتیں،جغرافیاء اور سیاست ، کھیل کود وغیرہ کا انفارمیشن ہونا ہو تو بس آپ سے رغبت رکھیں۔ کرکٹ بہت شوق سے دیکھتے ہیں آج بھی دیکھتے ہیں اور کھیل کا رخ کس طرف ہوگا اور کونسی ٹیم جیتے گی اور کونسا کھلاڈی اچھا کھیلے گا اس کی مسلسل جان کاری یوں بیان کرتے ہیں جیسے رواں تبصرہ ہو رہا ہو۔ سفر کا تجربہ اتنا کہ قریب آدھے سے زیادہ ہندوستان کے ریلوے اسٹیشن، ٹرین ان کے نام ان کے نمبر ازبر بولتے ہیں اور وقت کے ساتھ گویا چلتے پھرتے ریلوے چارٹ کا انفارمیشن دے دیتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریلوے اسٹیشن ماساسٹرکو بھی اتنی جان کاری شاید نہیں ہوگی ۔ اس کے علاوہ کھانا کہاں اور کس ہوٹل میں اچھا ملے گا ، رکنا کہاں، چلنا کہاں ، دیکھنا وغیرہ یہ سب جان کاری موصوف سے حاصل کرسکتے ہیں۔ ویسے بھی موصوف کا شمار زیادہ تجربہ کار پروفیسروں میں ہوتا ہے ۔ کالجوں اور جامعات سے وابسطہ اساتذہ میں آپ ہر ایک کی پہلی پسند ہیں۔آپ پی ایچ ڈی کے زبانی امتحانحانات کے لئے سب سے زیادہ دیگر یونیورسٹیوں کا دورا کرچکے ہیں۔ موصوف کی شخصیت علمی ادبی ہے ۔ قول و عمل کے پکے ہیں ارادوں میں پختگی نظر آتی ہے۔حوصلہ تو غضب کا ہے ۔ْ خود حوصلے سے رہتے ہیںاور دوسروں کو بھی حوصلہ و ہمت سے رہنے کی کی تاکید کرتے ہیں۔آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ آپ نے اتنے دوست بنائے ہیں کہ ہر ایک آپ سے ملنے اور بات کرنے کی تمنا لئے ہوئے ملنے چلے آتے ہیں ۔ لوگ اکثر ظیفہ یابی کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیںآپ کو دیکھ کر اندازہ لگایا سکتا ہے کہ آپ وظیفہ یاب ہوکر اور متحرک ہوگئے ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا گو ہو کہ حضور صلی علیہ و صلعم کے صدقے آپ کی صحت و تندرستی کے ساتھ عمر دراز کرے اور ہم جیسوں کی یوں ہی رہنمائی و رہبری کرتے رہے۔ آمین ۔