ادراۂ فروغِ اردو ہبلی کے زیر اہتمام حیدر مظہری کی تصنیف ادب فہمی کا رسم اجراء

اسٹیٹ نیوز

ہبلی:۔حیدر مظہری کی تصنیف کردہ کتاب "ادب فہمی” اردو ادب کے میدان میں ایک اہم علمی اور تحقیقی کاوش ہے، جو خاص طور پر اْن لوگوں کے لیے ہے جو شاعری کی فنی باریکیوں کو سمجھنا اور سیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف نو آموز شاعروں کے لیے بلکہ اْن تجربہ کار شاعروں کے لیے بھی ایک قابل قدر رہنمائی ہے جو اپنے کلام کو فنی طور پر مزید نکھارنے کے خواہاں ہیں۔”ادب فہمی” میں حیدر مظہری نے شاعری کی مختلف جہات پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جس میں قافیہ، ردیف، بحر، اور تخیل کی باریکیوں کو پیش کیا ہے۔ وہ اشعار کی تنقید میں نہایت شائستگی کے ساتھ مشورے دیتے ہیں اور اصلاحی نکات کو سامنے رکھتے ہیں، تاکہ شاعروں کی فنی صلاحیت میں بہتری اپنی کتاب ادب فہمی میں وہ شاعری کے مختلف فنی اصولوں پر بات کرتے ہیں جیسے کہ تخیل کا ناپختہ یا مکمل ہونا، بحر میں سلاست کا برقرار نہ رہنا، مصرعوں میں معنوی یا فنی توازن کا فقدان، اور اضافی الفاظ کا استعمال۔ اگر مصرعے میں کوئی لفظ فنی لحاظ سے غیر ضروری ہو تو اس کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس کی جگہ بہتر لفظ پیش کرتے ہیں، جس سے شاعر کو اپنے اشعار کو مزید موثر بنانے کا موقع ملتا ہے۔یوں "ادب فہمی” نہ صرف شاعری کی فنی بنیادوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ نئی نسل کے شاعروں کے لیے ایک قیمتی علمی خزانہ بھی ہے جو اْنہیں فنِ شاعری کی بلندیاں چھونے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد یس ملا ، نائب صدر ادرہ فروغِ اردو ہبلی نے ہوٹل تاج میں منعقدہ تقریب جو حیدر مظہری صاحب کی تصنیف کردہ کتاب "ادب فہمی” کی اجراء کے موقع پر اپنے کلیدی خطاب کے دوران کہا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پروفیسر مشتاق احمد یس ملا نے کہا "روزنامہ سالار کے ادبی ایڈیشن دھوپ چھاؤں میں آپ کی قلمی شرکت نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ آپ کی تخلیقی تنقید نہ صرف معیاری ادب کی تشکیل میں معاون ہے بلکہ نئے لکھنے والوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بھی ہے۔ آپ کے بصیرت افروز تبصرے اور اصلاحی رہنمائی ایک چراغ کی مانند ہے جو ادبی سفر کے راہیوں کو راستہ دکھاتی ہے۔شاعری کی فنی باریکیوں، غزل کے مطلع سے لے کر مقطع تک کے معیار، مضمون آفرینی، وزن، ردیف و قافیہ کے تسلسل، اور زبان کی لطافت پر آپ کی گہری نظر ہے۔ یہ تمام اوصاف آپ کی علمی بصیرت اور شعری فہم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پروفیسر مشتاق احمد نے اپنے خطاب کے آخر میںوحید واجد ریچور کی خدمات کو بھی یاد کیا جودھوپ چھاؤں کالم کا حصہ ہیں۔ پروفیسر یس۔ اے۔ سرگرو، سابق چیئرمین کرناٹکا اردو اکیڈمی، بنگلور، نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ روزنامہ ڈیلی سالار کے ادبی ایڈیشن ادبستان کا ایک حصّہ ‘دھوپ چھاؤں’ کی معنویت نہایت عمیق ہے۔ اس عنوان میں دھوپ سے مراد قلمکاروں کی خوبیاں اور چھاؤں سے مراد اْن کی خامیاں ہیں۔ یہ ایڈیشن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ حیدر مظہری کو ادبی تنقید کا بے مثال ہنر حاصل ہے۔ وہ قلمکاروں کی تخلیقات کا بغور جائزہ لے کر اْن کی خامیوں کو اجاگر کرتے ہیں اور اصلاح کی غرض سے مثبت تنقید کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔حیدر مظہری نے نہایت محنت اور سلیقے سے ڈیلی سالار میں شائع ہونے والی اپنی دو سالہ تحریری مراسلت کو یکجا کیا ہے۔ مزید برآں، اْنہوں نے ان قلمکاروں کی تخلیقات کو بھی اس کتاب میں شامل کیا ہے جن پر یہ تنقید مبنی ہے، تاکہ قارئین کو ان کے ادبی کام کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہو اور وہ ادب کی گہرائیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔پروفیسر سرگرو نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس کتاب کو شاعری اور نثر کے میدان میں ایک سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ نہ صرف ایک ادبی اثاثہ ہے بلکہ نئے قلمکاروں کے لیے ایک روشن مینار بھی ہے، جو انہیں اصلاح اور تخلیق کے بہتر راستوں پر گامزن کرے گا۔اس موقع پر چراغ ہبلوی نے کہا کہ حیدر مظہری ایک گوناگوں شخصیت کے مالک ہیں جو بیک وقت ایک کہنہ مشق شاعر، ممتاز ادیب، اور ایک شفیق انسان کے طور پر معروف ہیں۔ آپ کی ملنساری، سادگی، شائستگی، اور خوش مزاجی آپ کی شخصیت کے وہ اوصاف ہیں جو ہر ملنے والے کو متاثر کرتے ہیں۔ آپ سے ملاقات کا تجربہ ہمیشہ دلکش اور حیرت انگیز ہوتا ہے، کیونکہ آپ کی زندہ دلی اور حسِ مزاح ایسی ہے کہ کوئی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ وہ ایک 86 سالہ بزرگ سے مخاطب ہے۔ آپ کی محفل میں ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے جیسے وہ آپ کا ہمعصر ہو۔ڈاکٹر شکیلہ غوری خان، صدر شعب? اردو، کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ، نے کہا کہ ادب فہمی حیدر مظہری صاحب کی گراں قدر تحقیقی مساعی اور مخلصانہ کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ یہ کتاب اردو شعر و سخن سے شغف رکھنے والوں کے لیے ایک نادر اور بیش قیمت تحفہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر مہر افروز، وظیفہ یاب ڈائریکٹر، ڈائیٹ دھارواڑ نے فرمایا کہ قلم کاروں کے لیے اصلاح نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے، اور حیدر مظہری کی تنقیدی تحریریں اصلاح کے مقصد سے ایک نشتر کی مانند کام کرتی ہیں۔ یہ نشتر ادبی معیار کو بلند کرنے اور تخلیقی عمل میں نکھار پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ حیدر مظہری نے اس موقع پر انکساری سے فرمایا "اس کتاب کی تصنیف میں میرا کوئی بڑا کمال نہیں ہے۔ میں نے محض قلمکاروں کی خوبیوں اور خامیوں کو بغرض اصلاح نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ڈاکٹر عبدالکریم، سابق چیئرمین مینارٹی کمیشن بنگلور، نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا”یہ ہماری بڑی خوش قسمتی اور سعادت ہے کہ حیدر مظہری جیسی نابغہ روزگار شخصیت ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان کی تصنیف کردہ معرکالآراء کتاب ‘ادب فہمی’ اردو ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ادب کے فہم و شعور کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اردو زبان کی تہذیبی اور ثقافتی اہمیت کو بھی اجمل انداز میں پیش کرتی ہے۔ آپ کی اردو زبان سے بے پناہ محبت اور اس کی ترقی و ترویج میں جو مثالی خدمات ہیں، وہ تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھی جائیں گی۔ ایسے باکمال شاعر ،ادیب اور دانشور کی موجودگی واقعی کسی قوم کے لیے باعثِ افتخار ہوتی ہے۔پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ آصف خان پاچھا پور سیکریٹری ادارہ? فروغِ ادب ہبلی نے استقبالیہ کلمات میں مہمانان خصوصی اور حاضرین کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ خالد احمد جمعدار صدر ادراہ فروغِ اردو ہبلی نے ادارۂ کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ادارہ اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے سرگرم عمل ہے اور اردو ثقافتی پروگرامز اور مشاعروں کے ذریعے اردو کی محبت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اور ایک طرح سے ادرہ فروغِ اردو ہبلی نیاردو نواز حلقوں میں ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش کی ہے۔پروگرام کی نظامت نہایت عمدگی سے پروفیسر جاوید خطیب نے انجام دی۔ اس موقع پر حیدر مظہری کو ادارہ کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی، جو اردو ادب کے فروغ میں ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ پروگرام میں ادارۂ فروغِ اردو ہبلی کے اراکین،مجیب مکاندر، نذیر احمد لکوندی، افضل اوٹی، الحاج عطار احمد، شاہنواز ملا، عمران، مسعود احمد، اور شبیر احمد کردی گڈ سمیت کئی اردو زبان کے شائقین اور محبان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ آخر میں صدر ادارۂ خالد احمد جمعدار کے شکریہ کے کلمات کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔ دوسری نشیشت میں ضلع سطح پر مشاعرہ کا انقعاد کامل کلا د گی کی صدارت میں کیا گیا ۔شعراء ڈاکٹر سید قدیر ناظم ،ڈاکٹر سہیل نظام،حیدر مظہری،عبدالرشید شاد، مہر افروز،ثناء اللہ ثنا،فرید قاصر،احمد نائیک،غلام رسول قاضی نے اپنا کلام سنایا۔عبدالرشید شا د نے مشاعرہ کی بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے۔