سورب کے طلباءکا بیلگائوی کے سورنا سودھا کا دورہ؛ قانون ساز اجلاس کا مشاہدہ کرکے خوشی کا اظہار

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

سی ای ٹی کے بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور آرٹس ڈویژن کیلئے بھی سی ای ٹی شروع کرنے کا وزیر سے مطالبہ

بیلگائوی:۔سورب تعلقہ کے 250 سے زائد پی یو سی طلبہ نے منگل کو بیلگاوی کے سورن سودھا میں جاری سرمائی قانون ساز اجلاس کا مشاہدہ کیا اور قانون سازی کے عمل کے بارے میں گہرا علم حاصل کیا۔ ان طلبہ نے وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کے ساتھ ایک خصوصی مکالمہ پروگرام میں بھی شرکت کی۔سورب اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے اور وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کی خصوصی دعوت پر سورب کے جونیئر کالج اور آنوٹی جونیئر کالج کے 250 سے زائد طلبہ اساتذہ کے ساتھ خصوصی بس میں بیلگاوی پہنچے۔ اجلاس کے دوران قانون ساز اسمبلی اور کونسل کی کارروائی کو قریب سے دیکھنے کے لیے طلبہ کو مدعو کیا گیا تھا۔کارروائی کے آغاز کے فوراً بعد طلبہ نے سب سے پہلے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کا مشاہدہ کیا اور بعد میں قانون ساز کونسل کی کارروائی دیکھی۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی کے مشاہدے کے لیے مدھو بنگارپا نے اسپیکر اور چیئرمین سے خصوصی اجازت حاصل کی تھی۔ طلبہ نے کارروائی دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔بعد ازاں، سورن سودھا کے ایک خصوصی ہال میں طلبہ کے ساتھ مکالمے کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر تعلیم مدھو بنگارپا کے ساتھ وزیر تعاون کے این راجنا، شرا باسپا درشن پور اور شیوآنند پاٹل سمیت دیگر کئی معززین نے شرکت کی۔مکالمے کے دوران آنوٹی جونیئر کالج کے طالب علم ناگیا سوامی نے کہا کہ سی ای ٹی کے لیے مناسب تعلیمی مواد اور بنیادی سہولیات کی کمی ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کی درخواست کی۔ سورب جونیئر کالج کی طالبہ ناگ وینی نے آرٹس ڈویژن کے لیے بھی سی ای ٹی شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام تعلیم کے معیار کو مزید بلند کرے گا۔وزیر مدھو بنگارپا نے کہا کہ طلبہ کو جمہوریت کی اہمیت اور قانون ساز عمل کا علم ہونا ضروری ہے۔ اس قسم کے مشاہدے نوجوانوں میں شعور پیدا کرتے ہیں اور انہیں قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔یہ دورہ طلبہ کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا، جس میں انہوں نے اجلاس سے متعلق سوالات کیے اور جوابات حاصل کیے، جو ان کے لیے ایک منفرد تجربہ رہا۔