زبدة الواصلین قدوة السالکین حضرت شاہ راجی نور صاحب المعروف شاہ نور بابا رحمة اللہ علیہ 986 سن ہجری کروشی بلگام کرناٹک

مضامین
از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری۔بلگام کرناٹک۔8105493349
ریاست کرناٹک، ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح علمی و روحانی فیوض کا ماویٰ و معدن رہا ہے ۔ یہاں کی سرزمین پر بے شمار اساطین علم و فن اور اصحاب طریقت و حقیقت ارباب صدق و صفا اور جامع شریعت و طریقت اولیائے کرام پیدا ہوئے اور مختلف ملکوں سے یہاں آ کر بود و باش اختیار فرمائی اور یہاں بسے اور رہے اور یہاں کی سرزمین کو اپنے علم و فن سے مامور اور اپنے صدق و صفا سے منور کرتے رہے ۔ انہی اولیاء کرام میں کروشی کے زبدة الواصلین قدوة السالکین حضرت شاہ راجی نور صاحب المعروف شاہ نور بابا رحمة اللہ علیہ بھی ہیں  ۔ کروشی کو تعلقہ چکوڑی ضلع بلگام کرناٹک کی ایک بڑی اور اہم بستی ہونے کا فخر حاصل ہے عارف کامل زبدة الواصلین قدوة السالکین حضرت شاہ راجی نور صاحب المعروف شاہ نور بابا رحمة اللہ علیہ کی وجہ سے یہ بستی ہمیشہ عام و خاص کا مرکوز نظر رہی ہے  ۔ شاہی فرامین و شاہی سندوں میں عرب مکہ مکرمہ سے آپ کی تشریف آوری کا تذکرہ ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ وہاں کی کس سرزمین کی پیدائش گاہ بننے کا فخر حاصل ہے آپ ہندوستان پہنچے اور بیجاپور کے قریب توروا میں جلوہ افروز ہوئے جبکہ عادل شاہی سلطنت کا دور تھا اس وقت جو باکمال نفوس وہاں رونق افروز تھے ان میں اپ کا شمار ہوتا ہے یہ لگ بھگ 986 سن ہجری کی بات ہے  ۔ یہاں خلقِ خدا آپ کی روحانی چشمہ سے سیراب ہوتی رہی رفتہ رفتہ بادشاہ وقت تک یہ خبر پہنچ گئی بادشاہ بھی آپ کے دربار سے مستفیض ہونے لگا آپ نے ملاقات کا موقع بخشا انہی ایام میں کروشی گاؤں کی فتح کی خبر بادشاہ کو موصول ہوئی بادشاہ فتح کے خبر سے بہت خوش ہوا اور اسے حضرت قدس سرہ کی توجہات عالیہ کی برکت جان کر کروشی کی جاگیریں بطور انعام آپ کو عطا کر دیں جو فارسی مخطوطہ کی شکل میں آج تک محفوظ ہے  ۔ کئی سال یہاں خلق خدا کو مستفید فرما کر آپ کروشی میں رونق افروز ہوئے  ۔ چونکہ آپ نے غیر متاہلانہ زندگی بسر کی، بناء بریں ساری انعامی قطعہ اراضی اپنے ہمشیرزادہ حضرت محمد میراں پٹیل رحمۃ اللہ علیہ کو سونپ دی، جس کا سلسلہ پٹیل برادری میں ہنوز جاری ہے اور ان پٹیل برادری کا سلسلہ نسب حضرت محمد میراں پٹیل تک جا ملتا ہے  ۔ حضرت قدس سرہ کا مسکن ہی آپ کا مدفن بنا  ۔ کئی سال کروشی اپ کے شمع وجود سے پرنور رہا اور یہیں ابدی نیند سو گئے تاریخ وفات تا حال دستیاب نہ ہو سکی  ۔ حضرت قدسرو کی کرامت کے اج تک یہ خطہ مامون و محفوظ ہے یہی وجہ ہے کہ اج بھی زمانہ کی تیز رفتاری کے باوجود اتنے برسوں سے ایک جم غفیر ان کے معتقدین میں موجود ہے بہت سے شہروں میں آپ کے فیض روحانی نے وسعت حاصل کی ہے چنانچہ آج بھی یہ پورا خطہ ہر دل عزیز منظور نظر اور دینی اور دنیاوی اعتبار سے منور و مالا مال ہے  ۔ حضرت قدس سرہ کا سب سے پہلا چشمہ فیضان خود ان کے ہمشیرزادہ حضرت محمد میراں پٹیل رحمۃ اللہ علیہ ہیں  ۔ آپ کی ذات والا کی دعاؤں کی برکات سے آپ کی ہمشیرزادہ کی نسل در نسل پٹیل برادری خوشحال اور فارغ البال اور پھلتی پھولتی رہتی ہے نیز یہ بستی علماء نواز اور اولیاء نواز رہی ہے  ۔ تذکرہ علماء و مشائخِ کرناٹک
بقولِ شاعر :
ہمارے حضرتِ راجی کی اونچی شان ہے لوگو
انہی کے نام سے بستی کی اک پہچان ہے لوگو
ہٹا کر کفر کی چادر کو اس بستی کے ذروں سے
عطا کی ثروتِ ایماں بڑا احسان ہے لوگو
محمد میراں تھے ہمشیر زادہ میرے حضرت کے
مرے اجداد کو حاصل بڑا یہ مان ہے لوگو
خدا کے فضل سے ہر سمت ان کا فیض جاری ہو
یہی میری تمنا ہے یہی ارمان ہے لوگو
عقیدت سے محبت سے نظر والے یہ کہتے ہیں 
کہ ان کا آستانہ تو ہماری شان ہے لوگو
کہاں جاؤں میں ان کی قربتوں کو چھوڑ کر عالم ؔ 
نکلنا جسم سے کیا روح کا آسان ہے لوگو